عراق جنگ پر انکوائری رپورٹ میں تاخیر پر تنقید

سر جان شلکوٹ تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سر جان شلکوٹ نے اس انکوائری رپورٹ پر 2009 سے کام کرنا شروع کیا تھا

برطانیہ کے اراکینِ پارلیمان نے اس بات پر شدید غم و غصے کے اظہار کیا ہے کہ 2003 کی عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری رپورٹ عام انتخابات کے بعد شائع کی جائے گی۔

انکوائری کے چیئرمین سر جان شلکوٹ نے کہا کہ انھیں کوئی ایسا حقیقت پسندانہ امکان نہیں نظر آتا کہ اسے سات مئی کے الیکشن سے پہلے شائع کیا جائے۔

نائب وزیرِ اعظم نک کلیگ نے کہا کہ اس میں تاخیر سمجھ سے باہر ہے جبکہ سابق کنزرویٹیو رہنما ایئن ڈنکن سمتھ کے لیے یہ مایوس کن ہے۔

ممبر پارلیمان (ایم پی) کی کمیٹی بھی اس کے متعلق سر جان سے سوالات پوچھے گی۔

کنزرویٹیو ایم پی سر رچرڈ اوٹاوے نے جو کامن فارن افیئرز کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں، سر جان کو منگل کی رات کو لکھا کہ وہ بتائیں کہ رپورٹ میں تاخیر کی کیا وجہ ہے۔

سر رچرڈ نے انھیں بتایا کہ اس کی کوئی وجہ نہیں کہ کیوں اس عمل میں اتنی دیر لگائی گئی ہے۔

سر جان نے وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بھیجے گئے ایک خط میں لکھا تھا کہ آخری اپ ڈیٹ کے بعد اس سلسلے میں کافی ترقی ہوئی ہے لیکن ان لوگوں کی طرف سے ردِ عمل لینے کا عمل ابھی بھی جاری ہے جن پر اس میں تنقید کی گئی ہے۔

انھوں نے اس بارے میں کوئی حتمی تاریخ تو نہیں بتائی لیکن کہا کہ اس میں چند ماہ لگ سکتے ہیں۔

اپنے ردِ عمل میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ تو چاہتے تھے یہ رپورٹ اب تک شائع ہو چکی ہوتی۔ انھوں نے ایسا نہ کرنے پر سابق حکومت پر کڑی تنقید کی۔

یہ انکوائری 2009 میں شروع ہوئی تھی لیکن اس کی پہلی عوامی سماعت 2011 میں ہوئی۔

اس میں ان وجوہات کو جاننے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیوں برطانیہ نے 2003 میں امریکی سربراہی والے اتحاد میں حصہ لیا تھا جس نے عراق پر چڑھائی کر کے صدر صدام حسین حکومت کو گرایا۔ اس کے علاوہ اس میں جنگ کے بعد کے حالات اور 2009 تک برطانوی فوجیوں کا عراق میں رہنے کی وجوہات بھی زیرِ بحث آئی ہیں۔

نک کلیگ کہتے ہیں کہ عوام سمجھے گی کہ تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اس میں جن افراد پر تنقید کی گئی ہے وہ اسے ’سیکس ڈاؤن‘ یا اس کا اثر کم کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عوام نے بہت لمبا انتظار کیا ہے اور انھیں یہ سمجھ سے باہر لگے گا کہ کسی کھلے ٹائم ٹیبل کی بجائے جو آپ نے دیا ہے یہ رپورٹ جلد کیوں نہیں شائع کی جا رہی۔

بی بی سی کے پولیٹیکل ایڈیٹر نک روبنسن کے مطابق کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ تاخیر بہت مشکوک ہے۔

گذشتہ موسم گرما میں تحقیقات کمیٹی اور برطانوی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت اس رپورٹ میں سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر اور امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے درمیان ذاتی گفتگو اور خط و کتابت کا ’لب لباب‘ شامل کرنے کی اجازت ہوگی۔

ٹونی بلیئر ان 100 سے زیادہ گواہوں میں شامل ہیں جو تحقیقات کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے۔ بلیئر نے کہا تھا کہ وہ اس تاخیر کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ اسے جلد از جلد عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔

اسی بارے میں