متحدہ عرب امارات میں بچوں کی پسند اب کھلونے نہیں جانور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے

متحدہ عرب امارات میں بچوں کو اب جانوروں کے کھلونوں پسند نہیں کرتے ہیں بلکہ اب ان کی جگہ اصل جانور چاہتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے مطابق بیرون ملک سے درآمد کیے جانے والے اصل جانور رکھنا ایک خطرناک رجحان ہے جبکہ ایک کارکن کے مطابق بچے اب کھیلنے کے لیے جانور ہی چاہتے ہیں۔

جانوروں کے لیے کام کرنے واکی بین الاقوامی تنظیم ’ آئی ایف اے ڈبلیو‘ کے علاقائی ڈائریکٹر ڈاکٹر السید محمد کے مطابق’ ہمارے علم میں آیا ہے کہ زیادہ مسئلہ بچوں کے ساتھ ہے جو اصل جانور چاہتے ہیں اور ان کے ساتھ ہی کھیلنا چاہتے ہیں۔‘

ڈاکٹر محمد کے مطابق وہ حیران رہ گئے کہ خاندان جانور فروخت کرنے والے بازاروں میں جا رہے ہیں اور وہاں جو بچے چاہتے ہیں وہ خرید رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہاں رینگنے والے جانوروں سے لے کر بندر تک خریدے جا رہے ہیں جبکہ پالتو جانور 16 ڈالر میں بھی مل جاتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ خاندانوں میں آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ وہ جتنے بھی بچوں سے ملے ہیں ان میں سے تقریباً ہر ایک کے پاس پالتو جانور تھا اور ان جانوروں میں شیروں سے لے کر اژدھے بھی شامل ہیں۔

گلف نیوز کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت بیرون ملک سے برآمد کیے گئے جانوروں کی تجارت روکنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس ضمن میں متعدد بین الاقوامی معاہدے کیے گئے ہیں۔

دبئی سے متصل شارجہ میں گذشتہ سال نومبر میں حکام نے جانور رکھنے کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور اس ضمن میں مالکان کو ایک ماہ تک کا وقت دیا گیا تھا کہ ان کہ گھر میں جو کوئی بھی جانور ہے اسے حکام کے حوالے کر دیا جائے۔

شارجہ میں اس وقت حکام کے حوالے کیے جانے والے جانوروں میں مگر مچھ، چیتے اور تیندوے شامل تھے۔