’دولتِ اسلامیہ کے 50 فیصد سے زیادہ اہم رہنما مار دیے گئے‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ’دولتِ اسلامیہ سے 700 مربع کلومیٹر کا علاقہ واپس لیا گیا ہے‘

امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ اتحادی افواج کے حملوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے نصف سے زائد اہم رہنما ہلاک ہو چکے ہیں۔

برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں 21 ممالک کے اعلیٰ عہدیداروں نے شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں شرکت کی۔

اجلاس کے بعد امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے فضائی حملوں کے نتجیے میں دولت اسلامیہ کا زور ٹوٹ رہا ہے۔

’ہم نے ہزاروں کی تعداد میں دولتِ اسلامیہ کے جنگجوں کو مار بھگایا ہے اور اس کے 50 فیصد رہنما مارے گئے ہیں۔اس کے علاوہ قبضے میں لی گئی سینکڑوں گاڑیاں اور ٹینک تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ’تیل و گیس کے تقریباً دو سو ذخائر ایسے تھے جن کی فروخت سے دولتِ اسلامیہ کو مالی وسائل ملتے تھے اور اس سلسلے کو بھی ختم کیا گیا۔ یہی وہ ڈھانچہ تھا جہاں سے وہ اپنی دہشت گردی کے لیے رقم اکٹھی کرتے تھے۔‘

امریکی وزیر خارجہ کے مطابق’ دولتِ اسلامیہ کی ہزاروں چیک پوسٹ اور عمارتیں بھی ختم کر دی گئی ہیں۔۔۔حالیہ ماہ میں ہم نے عراق اور شام میں ان کی پیش قدمی کو روکا ہے اور بعض معاملات میں انھیں واپس دھکیلا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ دولتِ اسلامیہ پر دو ہزار فضائی حملے کیے گئے اور زمینی افواج نے اس سے سات سو مربع کلومیٹر کا علاقہ آزاد کرایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption دولتِ اسلامیہ نے عراق اور شام کے بڑے علاقے پر قبضہ کر رکھا ہے

دولتِ اسلامیہ کے خلاف امریکہ کی سربراہی میں فضائی کارروائیوں سے پہلے اس کے پاس 91 ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ تھا۔

اجلاس میں شریک عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے خبردار کیا کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے ان کے ملک کی شدت پسندی کے خلاف لڑنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے

انھوں نے عراقی افواج کی تربیت پر اتحادی ممالک کا شکریہ ادا کیا لیکن انھوں نے اسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

اجلاس میں برطانیہ کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ تمام اتحادی ممالک دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے پر عزم ہیں

اس کانفرنس میں دولتِ اسلامیہ کی ریکروٹمنٹ اور فنڈنگ کو روکنے کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

کانفرنس میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف برسرِ پیکار جنگجوؤں کو مزید فوجی امداد اور شہریوں کے لیے امداد پر بھی غور کیا گیا۔

اس کانفرنس میں آسٹریلیا، بحرین، بیلجیئم، کینیڈا، ڈنمارک، مصر، فرانس، جرمنی، اٹلی، ، اردن، کویت، نیدرلینڈز، ناروے، قطر، سعودی عرب، سپین، ترکی اور متحدہ عرب امارات نے بھی شرکت کی۔

اسی بارے میں