’ایئر ایشیا طیارے کا ڈھانچہ سمندر سے اٹھانے کا عمل شروع‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈونیشا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اگنیشئس جونان نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا کہ راڈار کے ڈیٹا نے دکھایا کہ ایئربس کا بنایا ہوا طیارہ A320 طوفان سے بچنے کے لیے تیزی سے اوپر کی جانب اٹھا جب اُس کی رفتار 6000 فٹ فی منٹ تھی اور پھر توازن قائم نہیں رکھ سکا

انڈونیشیا میں حکام نے ایئر ایشیا کے حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کے ڈھانچے کو سمندر کی تہہ سے اٹھانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے جو جاوا کے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔

طیارے کے ڈھانچے کو اٹھانے کی ابتدائی کوششیں اس وقت ناکام ہو گئیں جب ڈھانچے کے اردگرد ڈالی گئی رسیاں ٹوٹ گئیں۔

اسی دوران چار مزید افراد کی لاشیں سمندر سے نکالی گئیں جس کے بعد اب تک نکالی گئی لاشوں کی تعداد 69 ہو گئی ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ مزید لاشیں طیارے کے ڈھانچے کے اندر زیرِ سمندر ہیں۔

جمعے کے روز غوطہ خور پہلی بار ڈھانچے کے اندر داخل ہوئے مگر خراب موسم اور مشکل سمندری حالات کی وجہ سے اب تک بہت سی مشکلات کا سامنا رہا ہے۔

انڈونیشیا کی امدادی کارروائیوں کی ایجنسی کے اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’ہم نے سینیچر کو طیارے کے پورے ڈھانچے کو سمندر کی تہہ سے اٹھانے کے عمل کا آغاز کیا ہے اور ہمیں امید ہے ہم اسے آج اوپر اٹھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔‘

اس اہلکار نے بتایا کہ غوطہ خوروں نے طیارے کے ڈھانچے تک علی الصبح پہنچ کر تیرنے والے بیگز لگا کر باندھے تاہم جب ان بیگز میں ہوا بھری تو رسیاں ٹوٹ گئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طیارے کو زیرِ سمندر سے اٹھانے کے لیے ان بڑے بڑے بیگز کے ذریعے باندھا جائے گا اور ان میں ہوا بھر کے اسے اوپر اٹھایا جائے گا

انھوں نے مزید بتایا کہ اس سارے عمل میں کئی مشکلات ہیں۔ غوطہ خوروں کا کہنا ہے کہ اس جگہ بہت تاریکی ہے اور طیارے کی سیٹیں تیرتی پھر رہی ہیں اور تاریں جا بجا الجھی ہوئی ہیں۔

تاہم ایک اور کوشش آج دوبارہ کی جائے گی۔

یہ بھی اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ طیارے کا کاکپٹ بھی اسی علاقے میں زیرِ سمندر پڑا ہے۔

انڈونیشیا کے ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیٹی کے سربراہ تتانگ کونیادی نے کہا کہ حادثے پر ایک ابتدائی رپورٹ اگلے ہفتے پیش کی جائے گی۔

اسی ہفتے انڈونیشا کے وزیرِ ٹرانسپورٹ اگنیشئس جونان نے اراکینِ پارلیمان کو بتایا کہ راڈار کے ڈیٹا نے دکھایا کہ ایئربس کا بنایا ہوا طیارہ A320 طوفان سے بچنے کے لیے تیزی سے اوپر کی جانب اٹھا جب اُس کی رفتار 6000 فٹ فی منٹ تھی اور پھر توازن قائم نہیں رکھ سکا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption طیارے کے مسافروں میں سے اب تک 69 کی لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ مزید کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ اس ڈھانچے کے حصے میں ہیں

انھوں نے کہا کہ ’یہ ایک عام اٹھان نہیں تھی کیونکہ کمرشل طیارے اس طرح اوپر نہیں اٹھتے جو کہ عموماً 1000 سے 2000 فٹ فی منٹ کی رفتار سے اوپر اٹھتے ہیں۔ جو اس طیارے نے کیا وہ صرف ایک لڑاکا طیارہ کر سکتا ہے۔‘

اس کے نتیجے میں انھوں نے کہا کہ طیارہ ’سٹال‘ ہو گیا جس کا مطلب ہے کہ اس کے انجن تو بند نہیں ہوتے مگر طیارے کے پر اسے اوپر نہیں اٹھا پاتے کیونکہ ان کے اوپر سے اتنی ہوا نہیں گزر رہی ہوتی جتنی اس کے لیے درکار ہوتی ہے۔‘

طیارے کے پائلٹ نے غائب ہونے سے قبل ایئر ٹریفک کنٹرولر سے رابطہ کر کے 32 ہزار فٹ سے 38 ہزار فٹ کی بلندی پر جانے کی درخواست کی تھی تاکہ طوفانی بادلوں سے بچ سکے مگر علاقے میں فضائی ٹریفک کافی ہونے کی وجہ سے اسے فوراً اجازت نہیں ملی۔

جب طیارے سے ایئر ٹریفک کنٹرولر نے واپس رابطہ کیا تو اسے کوئی جواب نہیں ملا اور طیارہ اس کے بعد راڈار سے غائب ہو گیا بغیر کسی خطرے کے سگنل کے جاری کیے۔

اسی بارے میں