بوکوحرام اتنی طاقتور کیسے ہو گئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption بوکوحرام نے ایک نیا ہتھیار متعارف کروایا ہے، خاتون خود کش بمبار

نائجیریا کی شدت پسند تنظیم بوکوحرام نے افریقہ کی سب سے وحشیانہ بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس نے نائجیریا کے بڑے حصوں پر تسلط قائم کر لیا ہے اور نائجیریا کی سالمیت کے لیے خطرہ بننے کے علاوہ پڑوسی ملک کیمرون کے ساتھ بھی سرحد پر نیا محاذ کھول دیا دیا ہے۔

حکام کا خیال ہے کہ نائجیریا کے شمال مغرب میں جاری شورش سے پیدا ہونے والے انسانی بحران سے تقریباً 30 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

بوکوحرام اتنی موثر کیوں ہے؟

بوکوحرام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ تنظیم کئی دھڑوں میں منقسم ہے، جو شمالی اور وسطی نائجیریا میں بڑی حد تک خودمختارانہ انداز میں کام کرتے ہیں۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ (آئی سی جی) نامی تھنک ٹینک کا خیال ہے کہ ایسے چھ دھڑے ہیں، جن میں سب سے منظم بورنو ریاست میں سرگرمِ عمل ہے۔ اس صوبے کے بڑے حصے پر بوکوحرام کا حکم چلتا ہے۔

بوکوحرام کا طریقۂ واردات یہ ہے کہ پہلے یہ کسی قصبے یا گاؤں میں سینکڑوں پیادہ جنگجو بھیجتا ہے۔ اگر وہاں نائجیریائی فوج کے کوئی دستے موجود ہوئے بھی تو ان کے پاس نہ مناسب اسلحہ ہوتا ہے اور نہ دوسرا سازوسامان، اس لیے وہ بوکوحرام کے جتھوں کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ چنانچہ اس علاقے پر بوکوحرام قبضہ جما لیتی ہے۔

شروع شروع میں ایسا نہیں تھا۔ جب 2009 میں بوکوحرام نے بغاوت شروع کی تو نائجیریا کی سکیورٹی فورسز نے اس کے ہزاروں کارکنوں کو ہلاک کرنے کے بعد فتح کا دعویٰ کر دیا تھا۔ اس دوران بوکوحرام کے بانی بھی ہلاک کر دیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ بات واضح نہیں ہے کہ بوکوحرام کے پاس کتنے جنگجو ہیں۔ برطانوی سکیورٹی اور مالیاتی تجزیہ کار ٹام کیٹنگ کے مطابق ان کی تعداد نو ہزار کے لگ بھگ ہے

اس کے بعد بوکوحرام تتربتر ہو گئی اور اس کے جنگجو الجزائر، سوڈان، اور ممکنہ طور پر افغانستان بھاگ گئے، جہاں انھوں نے جنگی تربیت حاصل کی۔ واپس پلٹنے کے بعد بوکوحرام کے کارکن زیادہ شدت پسند ہو گئے۔ بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ وہ لوگ جو انھیں ایک زمانے میں بدعنوان حکومت کے مقابلے پر نجات دہندہ سمجھتے تھے، اب وہ بھی ان کی سخت گیری کی وجہ سے بوکوحرام سے نالاں ہو رہے ہیں۔

بوکوحرام جنگجو کیسے بھرتی کرتی ہے؟

بوکوحرام زیادہ تر جبری بھرتیاں کرتی ہے۔ اس کے زیادہ تر جنگجو کنوری قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، جو تنظیم کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ کا بھی قبیلہ ہے۔

یہ بات واضح نہیں ہے کہ بوکوحرام کے پاس کتنے جنگجو ہیں۔ برطانوی سکیورٹی اور مالیاتی تجزیہ کار ٹام کیٹنگ کے مطابق ان کی تعداد نو ہزار کے لگ بھگ ہے۔

پیسہ کہاں سے آتا ہے؟

جب بوکوحرام قصبوں پر دھاوا بولتی ہے تو اکثر وہاں کے بینک لوٹ لیتی ہے۔ 2012 میں نائجیریائی فوج نے الزام لگایا تھا کہ بوکوحرام تاجروں، سیاست دانوں اور حکام سے بھتہ وصول کرتی ہے، اور اگر کوئی رقم دینے میں ٹال مٹول کرے تو اسے اغوا کر لیا جاتا ہے۔

ٹام کیٹنگ کہتے ہیں کہ حال ہی میں ایک دولت مند نائجیریائی تاجر نے تنظیم کو دس لاکھ ڈالر ادا کیے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption نائجیریا کے صدر گڈلک جوناتھن پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ بوکوحرام سے نمٹنے میں سنجیدہ نہیں ہیں

غیرملکیوں کے لیے یہ رقم اور بھی زیادہ ہوتی ہے۔ فروری 2013 میں ایک فرانسیسی خاندان کی رہائی کے لیے 30 لاکھ ڈالر ادا کیے گئے تھے۔

ٹام کیٹنگ کے اندازے کے مطابق بوکوحرام کی کل سالانہ آمدن ایک کروڑ ڈالر ہے۔ تنظیم کا خرچ کچھ زیادہ نہیں کیوں کہ اس کے جنگجو زیادہ تر دیہاتی علاقوں سے آتے ہیں جنھیں کچھ زیادہ نہیں دینا پڑتا۔

اسلحہ کہاں سے آتا ہے؟

بوکوحرام نے نائجیریا میں کئی فوجی کیمپوں اور پولیس سٹیشنوں پر قبضہ کیا ہے، جہاں سے بڑے پیمانے پر اسلحہ اور دوسرا فوجی سازوسامان اس کے ہاتھ آیا ہے۔ ان میں بکتر بند گاڑیاں، پک اپ گاڑیاں، راکٹ سے داغے جانے والے دستی بم اور رائفلیں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آئی سی جی کے مطابق اس نے ساحل کے علاقے میں اسلحے کے سمگلروں سے تعلقات قائم کر رکھے ہیں۔

بوکوحرام گھریلو ساختہ بم بھی بڑی تعداد میں استعمال کرتی ہے جو بڑے سستے بن جاتے ہیں۔

کیا اسے شکست دی جا سکتی ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption کیمرون نائجیریا سے چھوٹا ملک ہونے کے باوجود اب تک بوکوحرام کے حملے پسپا کرنے میں کامیاب رہا ہے

حکومت نے 2013 میں ملک کی تین شمال مشرقی ریاستوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی تھی۔ فوج نے بوکوحرام کو مائدوگوری اور نواحی دیہات سے نکال باہر کیا تھا، جس کے بعد اس کے جنگجو بھاگ کر کیمرون کی سرحد کے ساتھ واقع وسیع جنگل میں چلے گئے تھے۔ اس کے بعد اس نے وہاں سے حملے شروع کر دیے اور رفتہ رفتہ ایک بہت بڑے علاقے پر قبضہ کر لیا۔

بوکوحرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے کہا ہے کہ وہ اپنی عمل داری نائجر، چاڈ اور کیمرون کے علاقوں تک بھی بڑھائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تنازع بین الاقوامی رخ اختیار کر جائے گا۔ اس کے بعد توقع ہے کہ فرانس کو اپنی سابقہ نوآبادیوں کو بچانے کے لیے اس جنگ میں زیادہ سرگرمی سے شامل ہونا پڑے گا۔

تاہم اب تک کیمرون بوکوحرام کے حملے پسپا کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

بوکوحرام اور دوسری شدت پسند تنظیموں میں تعلق

گذشتہ برس ایک ویڈیو پیغام میں ابوبکر شیکاؤ نے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ابوبکر البغدادی کو ’خلیفہ‘ کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ انھوں نے القاعدہ کے ایمن الظواہری کی بھی تعریف کی تھی۔ تاہم شیکاؤ نے ان میں کسی تنظیم کے ساتھ وفاداری کا اعلان نہیں کیا۔

عام طور پر شیکاؤ ہاؤسا، عربی اور کنوری کو ملا جلا کر تقریر کرتے ہیں لیکن حال ہی میں جب انھوں نے پیرس میں ہونے والے حملوں کو سراہا تو ان کی تقریر صرف عربی میں تھی۔ اس سے بعض تجزیہ کاروں نے خیال ظاہر کیا ہے کہ بوکوحرام بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی بارے میں