برطانوی وزیرِاعظم کو جعلی کال کے بعد سکیورٹی کا جائزہ

Image caption ڈیوڈ کیمرون سے ایک شخص نے جی سی ایچ کیو کے ڈائریکٹر رابرٹ ہینیگن بن کر بات کی

برطانیہ میں وزیرِ اعظم اور خفیہ ادارے جی سی ایچ کیو کو جعلی فون کالز کے بعد حکومت نے سکیورٹی کے نظام کا از سرِ نو جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اتوار کو ٹیلیفون پر خود کو خفیہ ادارے جی سی ایچ کیو کا ڈائریکٹر ظاہر کرنے والا ایک شخص وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے رابطہ کرنے میں کامیاب رہا جبکہ جی سی ایچ کیو کو بھی ایک جعلی کال کی گئی۔

برطانوی حکومت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم کیمرون نے ٹیلیفون پر بات چیت اسی وقت ختم کر دی جب یہ واضح ہوا کہ ان کا مخاطب جی سی ایچ کیو کے ڈائریکٹر رابرٹ ہینیگن نہیں ہیں۔

ترجمان نے یہ بھی کہا کہ بات چیت کے دران کسی قسم کی حساس معلومات ظاہر نہیں کی گئیں۔

اسے قبل اتوار کو ہی جی سی ایچ کیو کے دفتر میں بھی ایک جعلی کال کی گئی جس کے دوران ادارے کے ڈائریکٹر کا ذاتی فون نمبر افشا ہوا۔

جاسوس ادارے کے حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’دیا جانے والا موبائل نمبر حساس معلومات سے متعلق بات چیت کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔‘

برطانوی حکومت نے اپنے تمام محکموں کو اس قسم کی جعلی ٹیلیفون کالز کے بارے میں خبردار کر دیا ہے جبکہ سکیورٹی کے نظام کا بھی دوبارہ جائزہ لیا جا رہا ہے۔