زبردستی کی شادیوں سے بچاؤ

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption برطانیہ میں زبردستی کی شادیاں جرم ہونے کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو برطانیہ سے باہر ایسے ممالک لے کر جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان اور وہاں ان کی زبردستی شادیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں

ہم لوگ پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کے عملے کے ساتھ بکتر بند گاڑیوں کے حصار میں ایک پاکستانی شہر کی تنگ گلیوں سے گزر رہے ہیں اور ہمارا مقصد ہے ایک خاتون کو اُن کی مرضی کے بغیر زبردستی کی شادی سے بچانا۔

ثنا جن کی عمر 19 سال ہے اور تعلق برطانیہ کے مڈلینڈز کے علاقے سے ہے اور انہیںگذشتہ گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان لایا گیا اور بتایا گیا کہ اس کا مقصد انھیں یونیورسٹی میں داخلہ دلوانا ہے۔

مگر اس کی بجائے اسے پتا چلا کہ اس کے والدین اس کی شادی کرنا چاہ رہے ہیں وہ بھی ایسے مرد سے جسے وہ جانتی بھی نہیں اور جب اس نے انکار کیا تو ثنا کے ولد نے انہیں مارا پیٹا۔

برٹش کونسل کے سائمن منشل نے کہا ’زبردستی کی شادیاں روکنا حکومت کی ترجیح ہے۔ ہم ہرسال 100 کے قریب ایسے کیسز کا سامنا کرتے ہیں اور جہاں ضرورت پڑے وہاں ہم بچاؤ کے ذرائع بھی استعمال کرتے ہیں۔‘

زبردستی کی شادیاں برطانیہ میں جرم ہیں مگر اس کےباوجود والدین اپنے بچوں کو برطانیہ سے باہر ایسے ممالک لے کر جاتے ہیں جیسا کہ پاکستان جب وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے بچے مغرب زدہ ہو گئے ہیں اور وہاں اُن کی شادیاں کروانے کی کوشش کرتے ہیں جو اکثر کسی کزن سے ہوتی ہے۔

سائمن اور اُن کی ساتھی نیلم فاروق ثنا کے دیےہوئے پتے پر پہنچتے ہیں مگر وہاں کوئی نہیں ہوتا۔ ایک شخص ثنا کے بارے میں مکمل لاعلمی ظاہر کرتا ہے مگر بعد میں پتہ چلتا ہے کہ ثنا کے چچا اسی گلی میں رہتے ہیں۔

Image caption برطانیہ میں زبردستی کی شادی کرنا جرم ہے اس کے باوجود ہر سال ایک سو کے قریب ایسے کیسز سامنے آتے ہیں

مقامی پولیس جو ہمارے ساتھ ہے کو اس بارے میں نہیں پتا کہ کیا ہو رہا ہے ۔باوجود اس کے کہ پاکستان میں بھی زبردستی کی شادی پر پابندی ہے مگر اس کی خلاف ورزیوں پر کبھی بھی عمل در آمد نہیں ہوتا بلکہ کئی بار پولیس والے متعلقہ خاندان والوں کو مخبری کر دیتے ہیں۔

ثنا موبائل پر بات کرنے سے ڈرتی ہیں مگر سمارٹ فون کی ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم اس کے ایس ایم ایس میسج کرنے کی جگہ کا معین کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

ہم اُن کا پتا چلاتے ہیں کہ وہ ایک بڑے گھر میں موجود ہیں جو کے متوسط طبقے کے ایک محلے میں ہے جہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ پائی گئیں۔

نیلم اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ وہ ثنا سے اکیلے میں ملنا چاہتی ہیں مگر اُن کے والد اعتراض کرتے ہیں۔

جب وہ انہیں بتاتی ہے کہ ہمیں اس کی حفاظت کے بارے میں خدشات ہیں اور ’ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ کسی قسم کے دباؤ کا شکار نہیں ہے۔‘

اکیلے میں ثنا نے نیلم کو بتایا کہ وہ یہاں سے جانا چاہتی ہیں جس پر اُن کے والد کو بتایا جاتا ہے کہ ثنا نے مدد کی درخواست کی ہے جس پر انکار نہیں کیا جا سکتا۔

اب سائمن کو ثنا کی سفری دستاویزات چاہیں اور وہ سختی سے ثنا کے والد سے کہتے ہیں کہ ’مجھے اِن کا پاسپورٹ چاہیے جس کے صفحۂ اول پر واضح لکھا ہے کہ یہ برطانوی حکومت کی ملکیت ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کے عملے کے اراکین ایک شہر میں پولیس کے ہمراہ ایک لڑکی کو بچانے کی مہم پر

جب اُن کے والد ٹال مٹول کرتے ہیں تو ٹیم کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ وہ ثنا کو لے کر فوراً نکلیں کیونکہ مزید رشتہ داروں کو فون کر دیا گیا ہے اور وہ آنے ہی والے ہیں جس سے صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔

باہر گاڑیوں کو اس طرح کھڑا کیا گیا ہے کہ اگر فوراً نکلنا پڑے تو مشکل نہ ہو۔

نیلم نے ثنا سے کہا ’چلو چلو جلدی سے گاڑی میں بیٹھو‘ اور اس کے ساتھ ہی وہ ایک سوٹ کیس لیے گھر سے نکلے۔

ثنا کی ایک آنکھ پر نیل پڑا ہوا ہے مگر وہ بہت حوصلے سے ہیں اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتیں اور ایک منٹ میں ان کا کارواں حرکت میں آجاتا ہے۔ سائمن نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بغیر پاسپورٹ کے وہاں سے نکلیں گے اور ہم نے اپنے پولیس کے حفاظتی دستے کو چھوڑا اور جلدی سے شہر سے باہر نکل آئے۔

ثنا نے بتایا کہ انھوں نے زبردستی کی شادی کی بجائے خودکشی کا سوچا تھا۔ ’میں نے سوچا کہ اس صورتحال سے بچ نکلنے کا آسان راستہ موت تھا بے شک جتنا مشکل صحیح یا سفارت خانے جا کر مدد حاصل کرنا۔‘

پانچ گھنٹے بعد ثنا اسلام آباد میں ایک محفوظ جگہ پر ہیں جہاں وہ نئے پاسپورٹ اور پرواز کے لیے ٹکٹ کے آنے تک رہیں گی۔

انھوں نے کہا کہ ’برطانیہ میں قوانین ہیں جو اس قسم کی باتوں کو روکتے ہیں اور میرے والد جانتے ہیں کہ وہ گرفتار بھی ہو سکتے ہیں۔ مگر پاکستان میں انھوں نے حالات کا فائدہ اٹھایا اور بہت ظلم کیا۔‘

خاندانی رشتے اور احساس شرمندگی اور ندامت اور عزت کا مطلب ہے کہ تمام بچاؤ کی کوششیں اتنی آسان نہیں ہوتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption زبردستی کی شادیوں کے معاملات سے نمٹنا برطانوی ہائی کمیشن کے عملے کے کاموں کا حصہ ہے

اس کے 24 گھنٹے کے بعد ہم ایک ایسے علاقے میں ہیں جہاں سفارت کاروں کو جانے سے قبل اجازت طلب کرنی پڑتی ہے۔

اس کے نتیجے میں لڑکی کے خاندان والوں کو خبردار کیا جا سکتا ہے جو لڑکی کی مرضی کے بغیر شادی کر رہے ہوں گے تو ہمیں یہی امید ہے کہ وہ کوشش کر کے بچ نکلے اور ہم سے ملنے پہنچ جائے۔

یہ لڑکی ایک برطانوی یونیورسٹی کی طالبہ ہے جو ایک سال قبل شادی کی غرض سے یہاں لائی گئی اور نیلم کے مطابق اب اُن کے شوہر ان کے ساتھ برا سلوک کر رہے ہیں۔

نیلم کا اس لڑکی سے رابطہ ایک ای میل کے ذریعے ہوتا ہے جو کبھی کبھار آتی ہے اور اس لڑکی کی والدہ اسے اس شادی کو ختم کرنے سے روک رہی ہیں۔

سورج آہستہ سے ڈھل رہا ہے اور سب پریشان ہو رہے ہیں اس کے باوجود کہ مقامی پولیس ہمارے ساتھ ہے ہمیں یہ خوف ہے کہ بچاؤ کی یہ کوشش منصوبے مطابق نہ مکمل ہو جس کے نتیجے میں لڑکی اور ٹیم دونوں مشکل میں پھنس سکتی ہیں۔

سائمن خاموشی سے اصرار کرتا ہے کہ ہمیں لڑکی کا انتظار کرنا ہو گا اور اس کے بعد لڑکی کی نیلم کو ای میل ملتی ہے کہ لڑکی گھر سے نکل کر ایک پبلک شاہراہ ہر آ رہی ہے۔

تھوڑے سے فاصلے سے ہم اسے ایک سفید شال میں لپٹا چھوٹا سے سفید ہیولے کی شکل میں آتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔

ہم جلدی سے اسے کار میں ڈال کر تیزی سے نکل پڑتے ہیں جس پر لڑکی کافی نروس ہے اور اسے ابھی تک یہ نہیں سمجھ آ رہی کہ اس نے درست کام کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ثنا اب برطانیہ واپس پہنچ چکی ہیں جہاں وہ یونیورسٹی میں داخلہ لے کر اپنے جیون ساتھی کو خود منتخب کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں

اس لڑکی نے نکلنے سے قبل ایک خط اپنے خاندان کے لیے چھوڑا ہے کہ وہ ہائی کمیشن جا رہی ہے۔

اگلے دن ہمیں پتا چلتا ہے کہ لڑکی نے اپنے والدین سے بات کی ہے اور فیصلہ کیا ہے کہ واپس جائے گی۔

سائمن سے جب ہم نے وسائل کے ضیاع اور خطرات کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ ’یہ اس کی مرضی ہے‘

لڑکی کو درپیش خطرات کے بارے میں سائمن نے کہا کہ ’خاندان اب جاتنا ہے کہ برطانوی ہائی کمیشن اس کیس کے بارے میں باخبر ہے تو مجھے امید ہے کہ لڑکی ہو درپیش خطرہ کم ہو جائے گا۔ ہم بچاؤ کی کوششیں کرتے ہیں گے کیونکہ یہ پاکستان میں ہمارے کام کا حصہ ہے۔‘

دوسری جانب ثنا اس بات پر تیار تھی کہ وہ اپنے خاندان سے قطع تعلق کر لے اور اب وہ برطانیہ واپس آ کر ایک نئی زندگی شروع کر رہی ہے۔

اگرچہ وہ اپنی ماں سے اداس ہوتی ہے مگر اسے اپنے والد کے حوالے سے کسی قسم کی ندامت نہیں ’میں امید کرتی ہیں ہوں کہ وہ اس ظلم جو انھوں نے میرے اوپر کیا وہ اُن کے آگے آئے اور اگر ہم انہیں کسی طرح یہاں واپس لے کر آئیں وہ جیل جائیں۔‘

’میں نے جو کیا درست کیا اب میں آگے بڑھ کر صرف اپنے بارے میں سوچوں گی اور اسی مناسبت سے فیصلے کروں گی۔‘

اسی بارے میں