کیوبا امریکہ تعلقات کی بحالی، کاسترو نے چپ توڑ دی

کاسترو تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ تعلقات بحال کرنے کی کوششیں کاسترو کی رضامندی کے بغیر شروع ہی نہیں ہو سکتی تھیں

بظاہر لگتا ہے کہ کیوبا کے رہنما فیدل کاسترو نے کیوبا اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے حالیہ فیصلے کی ڈھکے چھپے انداز سے اجازت دے دی ہے۔

ایک خط میں انھوں نے کہا کہ ’میں امریکہ کی پالیسی پر اعتماد نہیں کرتا، نہ ہی میں نے ان کے ساتھ کسی لفظ کا تبادلہ کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اس تنازعہ کے پرامن حل کو رد کرتا ہوں۔‘

دہائیوں کی کشیدگی کے بعد دسمبر کو امریکہ اور کیوبا کے تاریخی اقدام کے بعد پہلی مرتبہ کاسترو کا یہ بیان سامنے آیا ہے۔

گزشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے۔

سرکاری اخبار گرینما میں چھپنے والے خط میں کاسترو نے کہا: ’ہم ہمیشہ دنیا کے سبھی لوگوں کے ساتھ، بشمول ہمارے سیاسی حریفوں کے، تعاون اور دوستی کا دفاع کریں گے۔‘

ایسا لگتا ہے کہ 88 سالہ رہنما کیوبا کے صدر اور اپنے چھوٹے بھائی راؤل کے فیصلے کی حمایت کر رہے۔ راؤل نے 2008 میں یہ عہدہ سنبھالا تھا۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’کیوبا کے صدر نے کیوبا کی کمیونسٹ پارٹی کی نیشنل اسمبلی کی طرف سے دیے گئے اختیار کے مطابق مناسب اقدامات اٹھائے ہیں۔‘

ہوانا میں بی بی سی کے نمائندے ول گرانٹ کے مطابق یہ امریکہ اور کیوبا کی مفاہمت کی توثیق تو نہیں ہے لیکن اسے شمال میں بڑے دشمن کے ساتھ سیاسی تعلقات کو رد کرنا بھی نہیں کہا جا سکتا۔

نامہ نگار کے مطابق فیدل کاسترو نے تقریباً اپنی تمام عمر امریکہ کے خلاف جنگ میں گزاری ہے اور اس لیے اس بات پر کوئی حیرانی نہیں ہونی چاہیے کہ وہ اب کشیدگی کے خاتمے کا بہت محتاط الفاظ میں خیرمقدم نہیں کر رہے۔

لیکن کیوبا میں بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بڑے عرصے سے سرد مہری سے رہنے والے تعلقات میں بہتری کی حالیہ کوششیں اس وقت تک نہیں شروع ہو سکتی تھیں جب تک فیدل کی رضامندی شامل نہ ہو۔

اسی بارے میں