جاپانی وزیرِ اعظم کی دولت اسلامیہ کی تازہ ویڈیو کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گوٹو اردن کے پائلٹ معاذ کی تصویر دکھا رہے ہیں

جاپان کے وزیر اعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ دولت اسلامیہ کا تازہ ویڈیو ’قابل نفرت‘ ہے جس میں انھوں نے اغوا کیے جانے والے جاپانی شہری کینجی گوٹو کو آئندہ 24 گھنٹے میں قتل کر دینے کی دھمکی دی ہے۔

اس ویڈیو ایک آواز ہے جس کے بارے میں خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ گوٹو کی آواز ہے اور انھوں نے کہا ہے کہ اگر اردن سزائے موت کی منتظر ایک عراقی خاتون کو رہا نہیں کرتا تو انھیں اور ان کے ساتھ اردن کے ایک پائلٹ کو مار ڈالا جائے گا۔

جاپانی وزیر اعظم اردن کے حکام کے ساتھ مل کر ان دونوں مغویوں کی رہائی کے لیے کوشش کر رہے ہیں۔

بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے آغاز میں خطاب کرتے ہوئے جاپانی وزیر اعظم نے کہا کہ وہ اس ویڈیو سے ’متنفر‘ ہوئے ہیں اور جاپانی حکومت نے اردن سے تعاون کی درخواست کی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق انھوں نے وزیروں سے کہا کہ ’وہ ملک اور بیرون ملک دونوں جگہ جاپانی شہریوں کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 47 سالہ کینجی گوٹو معروف آزاد صحافی اور دستاویزی فلم ساز ہیں۔ وہ اکتوبر میں شام گئے تھے

اس سے قبل دولت اسلامیہ نے اتوار کو کہا تھا کہ اس نے ایک اور جاپانی مغوی ہارونا یوکاوا کو قتل کر دیا ہے۔ تنظیم نے یوکاوا کے لیے 20 کروڑ امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔

منگل کو جاری کی گئی نئی ویڈیو میں ایک شخص کہتا ہے کہ ’گوٹو کی زندگی کے اب صرف 24 گھنٹے بچے ہیں،‘ اور اگر اردن نے ساجدہ الریشاوی کو رہا نہیں کیا تو اردن کے باشندے معاذ الکساسبہ کے پاس ’اس سے بھی کم وقت ہے۔‘

الریشاوی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ القاعدہ کی جنگجو ہیں۔ انھیں اردن میں سنہ 2005 کے ایک حملے میں سزائے موت سنائی گئی تھی جس میں 60 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

دوسری جانب منگل کی رات اردن کے پائلٹ کے رشتہ داروں اور حامیوں نے عمان میں وزیر اعظم کے دفتر کے باہر مظاہرہ کیا اور ان پر دولت اسلامیہ کے مطالبے پورا کرنے کے لیے زور دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption عمان میں گذشتہ رات معاذ کی رہائي کے لیے دولت اسلامیہ کا مطالبہ پورا کرنے کے لیے مظاہرہ کیا گیا

پائلٹ کے والد صفی الکساسبہ نے خبر رساں ایجنسی اے پی کو بتایا: ’معاذ کے تحفظ کا مطلب اردن کا استحکام ہے اور اس کی موت کا مطلب اردن کا انتشار ہے۔‘

واضح رہے کہ معاذ کو اس وقت پکڑ لیا گیا تھا جب اس کا طیارہ دسمبر میں دولت اسلامیہ کے علاقے میں گر گیا تھا۔

47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔

اتوار کو ایک ویڈیو میں بظاہر انھیں یوکاوا کی لاش کے ساتھ دکھایا گیا ہے۔

اسی بارے میں