وہ دروازہ جسے ’گیٹ آف ڈیتھ‘ کہتے تھے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بہت سی ہالی وڈ فلموں میں اس کیمپ کی تصویر کشی کی گئی ہے

دوسری عالمی جنگ کے دوران پولینڈ میں نازيوں کے قائم کردہ تشدد کیمپوں میں تقریباً دس لاکھ لوگوں نے اپنی جان گنوائی جن میں بیشتر یہودی تھے۔

ان کیمپوں سے لوگوں کی رہائی کے 70 سال مکمل ہونے پر کئی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔

چند سال قبل میں جب پولینڈ گئی تھی تو ان کیمپوں میں جانے کا اتفاق ہوا تھا۔

25 دسمبر کو وہاں ایک جشن بھرے ماحول میں کرسمس منایا۔ کرسمس کے بعد خیال آیا کیوں نہ پولینڈ کو قریب سے دیکھوں اور سمجھوں۔ لیکن پولینڈ کی تاریخ کو وہاں قائم کیے جانے والے یہودی تشدد کیمپوں کے بغیر سمجھنا ناممكن ہے۔

وہاں کے ایک چھوٹے سے شہر سے کار کے ذریعے میں اپنی میزبان کے ساتھ صبح آؤشوتز پہنچی۔

جب آؤشوتز کیمپ میں لوہے کے دروازے سے آپ کیمپ میں داخل ہوتے ہیں تو ایک بورڈ نظر آتا ہے جس پر ’آپ کا کام آپ کو آزادی دلواتا ہے‘ لکھا ہے۔

اندر آنے پر نظر ایک خاص دروازے پر ٹھہر گئی۔

Image caption کہا جاتا ہے کہ اس میں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا جن میں بیشتر یہودی تھے

نازی دور پر ہالی وڈ کی کئی فلمیں بنی ہیں۔ ان میں سے بیشتر فلموں میں ایک منظر ہوتا ہے جس میں یہودی لوگوں سے بھری ریل گاڑیوں کو ایک دروازے سے کیمپ میں داخل ہوتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔

اس دروازے کو ’گیٹ آف ڈیتھ‘ کہا جاتا ہے۔

صفر سے بھی کئی ڈگری نیچے درجہ حرارت میں برف سے ڈھکے اس دروازے کے پاس جب میں کھڑی تھی تو میرے جسم میں ایک عجیب سی سرسراہٹ دوڑ گئی۔

یہاں کے ویرانہ پن اور سناٹے کے درمیان کھڑے ہو کر آپ اس منظر کا کا محض تصور ہی کر سکتے ہیں۔

اس کیمپ کا دورہ کروانے والی گائیڈ ہمیں ایک خاص جگہ لے گئیں اور بتایا کہ لاکھوں لوگوں کو ان گیس چیمبروں میں ڈال کر مار دیا گیا تھا۔

یوں تو آج تک ملک اور بیرون ملک کے کئی ميوزیموں میں جانا ہوا لیکن آؤشوتز کے میوزیم میں جانا بے حد مختلف اور دلدوز تجربہ رہا۔

میوزیم کے اندر تقریباً دو ٹن بال رکھے ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اس واقعے کے 70 سال بعد لوگ اس کی یاد میں کئی تقریبات منعقد کر رہے ہیں

گائیڈ نے بتایا کہ مرنے سے پہلے نازی لوگوں کے بال کاٹ لیتے تھے تاکہ ان سے کپڑے وغیرہ بنائے جا سکیں۔

لکڑی کے کچھ بستر بھی وہاں رکھے ہیں جہاں قیدی سوتے تھے۔ یہاں کی ہر چیز ایک کہانی کہتی ہے۔ کیمپ میں گھومتے ہوئے میں وہاں کے بیت الخلا تک پہنچی۔

گائیڈ نے بتایا کہ قیدی ان بیت الخلاؤں کو صاف کرنے کی ڈیوٹی کرنے کو بہتر کام سمجھتے تھے کیونکہ ٹوائلٹ صاف کرنے والوں کو کم تکلیفیں دی جاتی تھیں۔

لیکن ان کیمپوں میں ایک انوکھی چیز بھی نظر آئی۔ تشدد کے درمیان چھپ چھپا کر کچھ قیدی فن کو زندہ رکھے ہوئے تھے۔

ایک قیدی کے آرٹ ورک دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ اس قیدی کے ذہن میں اس وقت کس قسم کے خیالات آ رہے ہوں گے۔

آؤشوتز کیمپ کے احاطے میں ایک دیوار ہے جسے ’وال آف ڈیتھ‘ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہاں اکثر لوگوں کو برف کے درمیان کھڑا کر کے گولی مار دی جاتی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہاں ہلاک شدگان کے جوتے وغیرہ یادگار کے طور پر رکھے گئے ہیں

آؤشوتز کیمپ کے اس دورے میں ایک بات مجھے بہت كھٹكي۔ میری میزبان دوسرے شہر سے گاڑی چلا کر مجھے یہاں لائیں لیکن وہ اندر نہیں گئیں۔

انھوں نے گھنٹوں باہر کھڑے ہو کر میرا انتظار کیا۔ دریافت کرنے پر انھوں نے کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ شام کو وہ مجھے اپنی دادی کے گھر لے گئیں جن کی عمر 80 سال سے زیادہ تھی، اور ان کی آنکھوں میں روشنی نہ کے برابر تھی۔

انھوں نے بتایا کہ کس طرح وہ نازی تشدد کیمپ سے بچ نکلنے میں کامیاب رہیں لیکن ان کے خاندان کے دوسرے لوگ مارے گئے۔

اس کے بعد میں نے اپنی میزبان سے کچھ پوچھنا مناسب نہیں سمجھا اور نہ ہی ان سے دوبارہ آؤشوتز کے بارے میں بات کی۔

اسی بارے میں