شمالی کوریا کے رہنما ’روس جانے پر رضا مند‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کم جونگ اُن نے سنہ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی غیر ملکی دورہ نہیں کیا

روس نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما نے رواں برس ماسکو میں دوسری جنگ عظیم کی یاد میں منعقد کی جانے والی تقریب میں شرکت کی حامی بھر لی ہے۔

جنوبی کوریا کے خبر رساں ادارے ین ہیپ کے مطابق روس کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما نے ان کی جانب سے دورے کی دعوت قبول کر لی ہے۔

خبر رساں ادارے نے کریملن کا ردِ عمل شائع کیا لیکن انھوں نے کِم جونگ ان کا باقاعدہ نام نہیں لیا۔

’کم جونگ ان تو صرف ایک ہی ہو سکتا ہے‘

ین ہیپ نے یونیفیکیشن منسٹری کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ کوریائی رہنما کے نام کے حوالے سے اس لیے تصدیق نہیں کی جا سکتی کیونکہ کِم یانگ نم سربراہِ مملکت ہیں۔

کم جونگ ان نے سنہ 2011 میں اقتدار میں آنے کے بعد سے کوئی غیر ملکی دورہ نہیں کیا ہے۔ اسی لیے ان کا پہلا دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ اِس سے ان کا سیاسی لائحہ عمل واضح ہو گا۔

اس ماہ کے اوائل سے ہی ایسی خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ کم جونگ ان کا پہلا میزبان روس ہو گا۔

روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے 21 جنوری کو صحافیوں کو بتایا تھا کہ روس نے کم جونگ اُن کو دوسری جنگ عظیم کے خاتمے کے سالگرہ کی تقریبات میں شرکت کے لیے نو مئی کو مدعو کیا ہے۔

انھوں نے بتایا تھا کہ شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے پہلا ردِ عمل مثبت آیا تھا۔

خبر رساں ادارے ین ہیپ کے مطابق روسی صدر کے دفتر کے ردِ عمل نے تصدیق کر دی ہے کہ شمالی کوریا کے رہنما بھی ان 22 عالمی رہنماؤں میں شامل ہیں جنھوں نے تقریبات میں شرکت کے لیے رضا مندی ظاہر کی ہے۔

لیکن اس ردِ عمل میں باقاعدہ طور پر کم جانگ ان کا نام نہیں لیا گیا۔ روسی صدر دفتر کے بیان کے مطابق ’مہمانوں کی فہرست ابھی حتمی نہیں ہے، کیوں کہ ابھی ہم ان لوگوں کی آمد کی تصدیق کر رہے ہیں جنھیں مدعو کیا گیا ہے۔‘

اس حوالے سے تاحال شمالی کوریا میں کوئی بیان جاری نہیں کیا گیا۔ کم یان نم کا سرکاری عہدہ صدر کا ہے اور روایتی طور پر شمالی کوریا کی ترجمانی انھیں ہی کرنا ہوتی ہے۔

کم جونگ اُن کے مرحوم والد کم جونگ اِل بھی اپنے دوروں کے بارے میں روانگی سے پہلے نہیں بتایا کرتے تھے۔

مرحوم نے اپنی وفات سے کچھ ہی عرصہ قبل روس کا دورہ کیا تھا۔ تاہم ان کے زیادہ تر دورے چین کے تھے جو کہ ان کا قریبی اتحادی مانا جانا ہے۔

اگر کم جونگ ان چین سے پہلے روس کے دورے کا انتخاب کرتے ہیں تو اسے اہم تصور کیا جائے گا اور اسے چینی رہنما شی جن پنگ کی توہین سمجھا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں چین پر جاپان، امریکہ، جنوبی کوریا اور امریکہ کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر اس کے جوہری پروگرام کے حوالے دباؤ ڈالے۔

اسی بارے میں