’سیاہ نہیں صرف سفید کاریں درآمد کریں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سفید رنگ کو خوش قسمتی کی علامت سمجھا جاتا ہے اس لیے سیاہ کاروں کی درآمد کی اجازت نہیں دی گئی

ایسا معلوم ہوتا جیسے ترکمانستان میں سفید رنگ کا غلبہ ہونے جا رہا ہے۔ کم از کم اگر کاروں کی خریداری کی حد تک تو یہ بات درست ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں قائم ایک ویب سائٹ کرونو ٹی ایم کے مطابق کسٹم حکام نے اس وسطی ایشیائی ملک میں سیاہ کاروں کی درآمد سے انکار کر دیا ہے۔

ویب سائٹ کے مطابق اس فیصلے کے پیچھے کارفرما عوامل کی بارے میں کسٹم حکام نے کوئی وضاحت پیش نہیں کی ہے مگر انھوں نے درآمد کنندگان کو سیاہ کاروں کی بجائے سفید کاریں درآمد کرنے کی ہدایت دی ہے، جسے خوش قسمتی کا رنگ سمجھا جاتا ہے۔

صدر قربان قلی بردی محمدوف نے حال ہی میں سفید لیموزین کاروں کا ایک قافلہ استعمال کرنا شروع کیا ہے اور تقریباً 160 اعلیٰ اہلکاروں نے اس کی فوری پیروی کی جن میں ملک کے بڑے میڈیا ہاؤسز کے مالکان اور سرمایہ کار شامل ہیں۔

روس کی خبر رساں ایجنسی آر آئی اے نووستی نے ستمبر میں خبر دی تھی کہ رنگ کے بارے میں یہ حالیہ ہدایات ان ہدایات کی فہرست میں سے ایک ہیں جس میں سپر کاروں، تیز رفتار کاروں اور ذاتی نمبروں والی کاروں کے علاوہ سیاہ یا رنگین شیشوں والی کاروں پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔

Image caption شہر کی عمارتوں پر کروڑوں ڈالر خرچ کر کے سنگِ مرمر لگایا جا رہا ہے

ترکمان شہریوں کی زندگی میں پابندیاں روزمرہ کا معمول بن چکی ہیں جن میں سے اکثر صدر کی ذاتی پسند نہ پسند کی بنیاد پر عائد کی جاتی ہیں۔

گذشتہ سال دارلحکومت اشک آباد کے شہریوں نے اس وقت احتجاج شروع کیا تھا جب حکام نے انھیں عمارتوں پر لگے ایئر کنڈیشنگ یونٹوں کو ہٹانے کا حکم جاری کیا تاکہ شہر کی شکل و صورت کو بہتر کیا جا سکے۔

اس کے علاوہ ملکی حکومت کروڑوں ڈالر خرچ کر کے دارالحکومت کی عمارتوں کو سنگِ مرمر لگا کر ایک سفید شہر بنانے میں مصروف ہے۔

اسی بارے میں