’جاپانی مغوی کے نئے پیغام کی تصدیق کی کوشش‘

تصویر کے کاپی رائٹ composite
Image caption معاز اور کینجی کی ہلاکت کا الٹی میٹم منگل کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیا گیا تھا۔

جاپانی حکام اس نئے صوتی پیغام کی تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں جس میں مبینہ طور پر مغوی جاپانی صحافی کینجی گوٹو کی زبانی دولتِ اسلامیہ کے قیدی اردنی پائلٹ کی ہلاکت کی دوبارہ دھمکی دی گئی ہے۔

اس آڈیو میں کہا گیا ہے کہ اگر اردن میں سزائے موت پانے والی عراقی خاتون شدت پسند کو رہا نہ کیا گیا تو پائلٹ معاذ الكساسبہ کو ہلاک کر دیا جائے گا۔

اردن کا کہنا ہے کہ وہ اپنے پائلٹ کے بدلے خاتون جنگجو کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ رہائی اس وقت تک عمل میں نہیں آئے گی جب تک اسے پائلٹ کے زندہ ہونے کا ثبوت نہیں مل جاتا۔

جاپان کے چیف کیبنٹ سیکریٹری یوشی ہیدے سوگا کا کہنا ہے کہ ’ہم فی الحال تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں لیکن ہمارے خیال میں غالب امکان یہی ہے کہ یہ آواز کینجی گوٹو کی ہی ہے۔‘

اردنی پائلٹ معاذ الكساسبہ اور یرغمال بنائے جانے والے جاپانی کینجی گوٹو کو قتل کرنے کی 24 گھنٹے کی دولتِ اسلامیہ کی ڈیڈلائن ختم ہو چکی ہے اور اردن اور جاپان کی حکومتوں کو اپنے شہریوں کی جان بچانے کے شدید داخلی دباؤ کا سامنا ہے۔

معاز اور کینجی کی ہلاکت کا الٹی میٹم منگل کو جاری کی گئی ایک ویڈیو میں دیا گیا تھا۔

اس ویڈیو میں گوٹو کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ ان کے پاس ’زندہ رہنے کے لیے صرف 24 گھنٹے بچے ہیں‘ اور اگر اردن ساجدہ الرشاوی کو رہا نہیں کر دیتا تو اردن کے یرغمال بنائے جانے والے معاذ الكساسبہ کے پاس اس سے بھی کم ۔‘

اس ویڈیو میں تاوان کی رقم کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔ دولتِ اسلامیہ اس سے قبل ایک اور جاپانی یرغمالی ہارونا یوکاوا کو قتل کر چکی ہے جن کی رہائی کے بدلے 20 کروڑ ڈالر تاوان مانگا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption اردن کے باشندے امریکی سربراہی میں ہونے والے اتحاد کے ہاتھوں داعش کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی حمایت نہیں کرتے

شدت پسند تنظیم ساجدہ الریشاوی نامی جس خاتون کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے وہ القاعدہ کی جنگجو ہیں جنھیں اردن میں 2005 میں ایک حملے کا مجرم پایا گیا تھا جس میں 60 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اردن کے سرکاری ٹی وی کے مطابق بدھ کو حکومت کے ترجمان محمد المومنی نے کہا کہ ’اگر اردن کے پائلٹ معاذ الكساسبہ کو رہا کر دیا جائے اور ان کی جان بخش دی جائے تو اردن قیدی ساجدہ الریشاوی کو رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔‘

انھون نے کینجی گوٹو کا نام نہیں لیا۔

47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ وہ ایک اور جاپانی شہری ہارونا یوکاوا کی رہائی کے سلسلے میں وہاں گئے تھے۔

جاپانی وزیرِ اعظم نے بھی جمعرات کو پارلیمان سے خطاب میں نیا صوتی پیغام ملنے کی تصدیق کی تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’معاملے کی نزاکت کی وجہ سے میں آپ کو مکمل تفصیل نہیں بتا سکتا لیکن جاپانی حکومت مسٹر گوٹو کی جلد رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گی۔‘

انھوں نے کہا کہ جاپان کی نائب وزیرِ خارجہ ناکایاما کی قیادت میں ایک ٹاسک فورس اردن میں موجود ہے اور حکام سے مسلسل رابطے میں ہے۔

شنزو آبے کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم کبھی بھی اپنے معصوم شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی ان کارروائیوں کو معاف نہیں کر سکتے۔ ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور ہم دہشت گردوں کے سامنے جھکے بغیر۔۔۔ دنیا کے امن اور ترقی کے لیے سرگرم رہیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 47 سالہ کینجی گوٹو دستاویزی فلمیں بنانے والے آزاد صحافی ہیں جو اکتوبر میں شام گئے تھے۔

بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کہتے ہیں کہ اردن کے حکام اس وقت مشکل میں ہیں۔ انھیں 24 گھنٹوں کے اندر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انھوں نے پائلٹ کو چھڑانے کے لیے القاعدہ کی جنگجو کو چھوڑنا ہے یا نہیں۔ دولتِ اسلامیہ چاہتی ہے کہ موت کی سزا پانے والی القاعدہ کی خاتون کو رہا کر دیا جائے۔ جبکہ انھیں چھوڑنے کا مطلب دہشت گردی کے آگے جھکنا ہو گا۔

نامہ نگار کے مطابق اسی دوران بہت سے اردن کے باشندے امریکی سربراہی میں ہونے والے اتحاد کے ہاتھوں دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی حمایت نہیں کرتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا پکڑا گیا پائلٹ زندہ گھر واپس آئے اور اردن دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں حصہ نہ لے۔

منگل کی رات اردن کے پائلٹ کے کئی سو رشتہ دار اور حمایتیوں نے عمان میں وزیرِ اعظم کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور مطالبہ کیا کہ وہ دولتِ اسلامیہ کے مطالبات مان لیں۔

اسی بارے میں