بچوں کی جاسوسی کرنے والی ’ایپ‘ تیار

تصویر کے کاپی رائٹ thinkstock
Image caption امریکہ میں والدین کو اجازت ہے کہ وہ اپنے بچوں کے فونوں میں سپائی ویر ڈال سکیں

کیا آپ کو لگتا ہے کہ کوئی آپ کے بچے کو بُلی یا تنگ کر رہا ہے؟ یا اگر وہ ’سیکسٹنگ‘ کرتا ہے؟ یا منشیات فروشی کر رہا ہے؟ یہ سب چیک کرنے کے لیے ایک ایپ موجود ہے۔

امریکہ میں تقریباً 80 فیصد نوجوانوں کے پاس اپنے موبائل فون ہیں۔ ان موبائل فونوں میں سے آدھے سمارٹ فون ہیں جن میں انٹرنیٹ، گیمز، کیمرے اور سوشل میڈیا تک رسائی حاصل ہے۔

یہ بات والدین کو کافی پریشان کرتی ہے۔ اور ان پریشانیوں کے باعث والدین کے لیے خصوصی ایپس بنائی جا رہی ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں پر نظر رکھ سکیں۔

’ٹین سیف‘ والدین کے لیے ایک ذاتی سی آئی اے جاسوسی ایپ کے طور پر کام کرتا ہے۔

کمپنی والدین سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اس بات سے مطلع کریں کہ وہ ان پر نظر رکھ رہے ہیں۔ لیکن یہ ایپ خفیہ طور پر کام کرتی ہے اور دکھاتی ہے کہ بچے سوشل میڈیا پر کیا پوسٹ کر تے ہیں اور یہاں تک کہ سنیپ چیٹ، واٹس ایپ اور کیک جیسی ایپس کے ذریعے ان کے تلف کیےگئے میسجز اور ٹیکسٹ بھی دکھا سکتی ہے۔

’ٹین سیف‘ کے بانی روڈن میسینجر کہتے ہیں کہ: ’والدین اس قسم کی خفیہ سرگرمی بلکل قانونی طور پر کر سکتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ کیا یہ صحیح ہے؟ یہ اخلاقی فیصلے والدین کو کرنے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جہاں تک بچوں کی حفاظت کی بات ہے تو پرائیویسی سے زیادہ ضروری تحفظ ہے۔‘

روڈن کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں ’ٹین سیف‘ استعمال کرنے والے لوگوں میں سے آدھے اسے اپنے بچوں کی جاسوسی کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ teen safe
Image caption ٹین سیف کے ذریعے والدین اپنے بچوں کی جاسوسی کر سکتے ہیں

ٹین سیف امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں استعمال کیا جا رہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ وہ جلد برطانیہ میں بھی آئے گی۔ سنہ 2011 میں اس کے آغاز سے لےکر اب تک اس سروس کو آٹھ لاکھ لوگ استعمال کر رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور ٹیکسٹنگ کی جاسوسی کرنے کے علاوہ والدین کے لیے دیگر ایپس بھی بنی ہیں، جیسے کہ گاڑی کی سپیڈ معلوم کرنے والی ایک ایپ۔

اس ایپ کا نام ’ماما بیِئر‘ ہے اور اس کے شریک بانی روبن سپوٹو کہتے ہیں جب کوئی گاڑی کو رفتار کی حد سے اوپر چلاتا ہے تو یہ ایپ ان کے خاندان کو ایلرٹ کرتی ہے۔

روبن ماما بیئر اپنے والدین کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن کیا ان کے والدین اپنی بیٹی کی جاسوسی سے تنگ آتے ہیں؟

روبن کہتی ہیں کہ ان کے والدین کو اس ان کی جاسوسی کی عادت ہو گئی ہے۔

جب امریکی ریاست لاس اینجلس کے ایک شاپنگ سینٹر میں کچھ نوجوانوں سے پوچھا گیا کہ اگر انھیں لگتا تھا کہ ان کے والدین ان کی جاسوسی کرتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والدین بہت مصروف ہوتے ہونگے اور ان کے پاس جاسوسی کرنے کا ٹائم نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کے والدین ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

اسی بارے میں