گھر سے جھونپڑی تک کا سفر

Devi Asmadiredja تصویر کے کاپی رائٹ AMY WILKERSON
Image caption انڈونیشائی نسل کی جرمن خاتون دیوی اسمادریجا کو کوہ قاف کے اس دور دارز علاقے میں پناہ ملی

دیوی اسمادریجا جرمنی میں ایک گھریلو خاتون تھیں جب ایک دن ان کے شوہر نے انھیں سامان باندھنے کو کہا اور وہ تین ہزار کلومیٹر دور ایک دُور دراز پہاڑی علاقے تنگنائے پنکسی میں جارجیا کے چیچین باشندوں کے ہمراہ جھونپڑی میں رہنے لگیں۔

یہاں بہت کم سیاح آتے ہیں۔ یہ غیر معروف علاقہ ہے جس کی شہرت منشیات کی سمگلنگ اور بنیاد پرست اسلام کے حوالے سے ہے اور دولتِ اسلامیہ کے ایک سرکردہ رہنما اب عمر الشیشانی کا تعلق یہاں سے ہے۔

انڈونیشائی نسل کی جرمن خاتون دیوی اسمادریجا کو کوہ قاف کے اس دور دراز علاقے میں پناہ ملی۔

چار سال قبل وہ جرمنی میں اپنے شوہر اور تین بچوں کے ہمراہ رہتی تھیں۔ لیکن سنہ 2011 کے اوائل میں میں اچانک ایک روز ان کے شوہر نے ان سے کہا کہ وہ اب ان سے محبت نہیں کرتے اور وہ ان کا گھر چھوڑ دیں۔ انھیں حکم دیا کہ وہ پنکسی جائیں اور ان کے آبا و اجداد کی زبان چیچن سیکھیں۔

وہ کہتی ہیں: ’وہ جانتا تھا کہ میں زبانوں کے معاملے میں اچھی ہوں، اس نے سوچا ہو گا کہ میں واپس جا کر اُسے بھی سکھاؤں گی۔‘

ان کے شوہر کے انھیں جہاز کا ٹکٹ اور خوراک کے لیے کچھ رقم دی۔ ’میں نے اس سے پہلے کبھی سفر نہیں کیا تھا۔ میرے لیے یہ دلچسپ اور اس سے فرار ہونے کا موقع تھا۔‘

ان کے لیے اپنے تین بچوں جن کی عمریں اس وقت پانچ، آٹھ اور 12 برس تھیں، پیچھے چھوڑنا مشکل تھا لیکن ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔

’یہ بہت مشکل تھا۔ میں ان کے بغیر ایک رات نہیں سو سکتی تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Devi Asmadiredja
Image caption اسمادریجا جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچیں، بہاں سے وہ سفر کرتے ہوئے دُوئسی گئیں

اسما جارجیا کے دارالحکومت تبلیسی پہنچیں، بہاں سے وہ سفر کرتے ہوئے دُوئسی گئیں۔ وہ کسی بھی مقامی شخص کو جانتی تک نہیں تھیں۔

انھوں نے مقامی افراد سے پوچھا کہ انھیں چیچین زبان سکھانے والا کہاں ملے گا۔ اگلے 20 منٹ میں ایک مقامی خاندان کے ہمراہ ان کی ٹیوشن اور مفت رہائش کا انتظام ہو گیا۔

انھوں نے بہت جلد چیچن زبان سیکھ لی اور مقامی لوگوں نے انھیں خیدی کا نام بھی دے دیا جو خدیجہ سے ماخود تھا۔

اب بھی ان کے بارے میں کچھ شبہات جنم لیتے ہیں ایک تو وہ غیر ملکی خاتون ہیں اور دوسرا ایک عورت ہوتے ہوئے انھوں نے تنہا سفر کیا۔

’وہ سمجھتے ہیں کہ میں روسی جاسوس ہوں۔‘

ان کا ننگا سر، ان کی خود مختاری اور جسم پر موجود سات ٹیٹوز انھیں منفرد کرتے ہیں۔

سخت گیر وہابی فرقے کی حال ہی میں تعمیر کی گئی مسجد کے امام کی جانب سے دباؤ کے باعث ان کے میزبان نے انھیں ایک دوسرے ’کِسٹ خاندان‘ کے پاس منتقل ہونا پڑے گا۔

کسٹ چیچن نژاد جارجین ہیں جو 19 ویں صدری میں اس وادی میں ہجرت کر کے آئے تھے۔

18 ماہ اس گاؤں میں گزارنے کے بعد اسما کو ان کے شوہر نے فون کیا اور کہا کہ وہ آگے بڑھ چکے ہیں اور اب انھیں گھر واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اسمادریجا کہتی ہیں: ’اس لیے میں پہاڑوں میں چلی گئی۔‘

ان کے ایک دوست انھیں ایک پتھروں سے بنی جھونپڑی میں لے گئے جہاں نہ بجلی تھی، نہ گرم رکھنے کا سامان، نہ پانی تھا۔ ان کے پاس جدید دور کی صرف ایک سہولت تھی ان کا کیمرے والا موبائل فون اور اس کا سولر چارجر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Devi Asmadiredja
Image caption اسمادریجا دو ماہ وہاں اکیلے رہیں اور وہا ں سے گزرنے والے چرواہوں کی جانب سے بطور عطیہ دی جانے والے خوراک اور چشموں کے پانی پر گزارا کیا

اسما دو ماہ وہاں اکیلے رہیں اور وہا ں سے گزرنے والے چرواہوں کی جانب سے بطور عطیہ دی جانے والے خوراک اور چشموں کے پانی پر گزارا کیا۔

سخت حالات ، تنہائی اور پہاڑوں کی زندگی نے انھیں جیسے مکمل کر دیا تھا۔

’مجھے پہاڑوں سے محبت ہو گئی۔ میں نے ایسے پہاڑ کبھی نہیں دیکھے تھے۔ یہاں اوپر روشنی ناقابلِ یقین ہے اور جن لوگوں سے میں یہاں وہاں بھٹکتے ہوئے ملی وہ بھی ناقابلِ یقین ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ وہ کم کھاتی تھیں اور گرم رہنے کے لیے پیدل چلتی ہیں۔

وہ پیدل چلتے ہوئے جارجیا کے مزید دور دراز دیہاتوں میں گئیں جن میں خیوسورتی اور توشیتی شامل ہیں۔

’میرے پاس پیسے نہیں تھے اور پیدل چلنے کے علاوہ میرے پاس کوئی راستہ نہیں تھا۔‘

اس وقت اسما کو نہ صرف چیچن زبان پر عبور حاصل ہے بلکہ وہ چرواہوں سے مل کر جارجین بھی سیکھ گئی ہیں۔

انھیں پانکسی کے پہاڑوں کے غیر واضح مشکل راستے یاد ہیں۔ ایک مرتبہ وہ گر گئیں اور ان کا ٹخنہ ٹوٹ گیا وہ 12 دن تک بغیر خوراک کے صرف چشمے کا پانی پی کر زندہ رہیں۔ آخرکار ایک چرواہے نے وہاں سے گزرتے ہوئے انھیں دیکھا اور ان کی مدد کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Devi Asmadiredja
Image caption اس وقت اسما کو نہ صرف چیچن زبان پر عبور حاصل ہے بلکہ وہ چرواہوں سے مل کر جارجین بھی سیکھ گئی ہیں

وہ تسلیم کرتی ہیں کہ ’یہ موت کے بہت قریب تھا۔‘

انھیں مقامی لوگوں کی جانب سے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شروع میں بعض چرواہوں نے انھیں بہت غصے سے جھڑک دیا۔

’انھوں نے طویل عرصے سے کسی عورت کو نہیں دیکھا تھا‘ اور اسما جیسی تنہا رہنے والی عورت ان کے لیے بہت دلچسپ تھی۔ زیادہ تر لوگوں نے صرف سخت الفاظ کا استعمال کیا تاہم ایک شخص کے ساتھ انھیں لڑنا پڑا۔ لیکن دوسرے چرواہوں نے جو انھیں پہچاننے لگے تھے، انھیں بچا لیا۔

بعد ازاں اسما پہاڑوں سے واپس گاؤں میں آ گئیں۔ جرمنی کی ایک ٹریول ایجنسی نے انہیں ملازمت کی پیش کش کی۔ انھیں کوہ قاف میں آنے والے سیاحوں کے لیے سو ڈالر یومیہ پر گائیڈ کی ملازمت کی پیش کش کی گئی۔ مقامی لوگوں میں سے بہت کم کو جرمن اور انگلش زبان آتی ہے۔

اسما ہنستے ہوئے کہتی ہیں: ’اب مجھے بینک اکاؤنٹ کھولنا تھا۔‘

ان کی فوٹو گرافی میں دلچسپی دیکھتے ہوئے ان کی ایک دوست نے انھیں سیکنڈ ہینڈ کیمرا لےدیا۔ اور وہ تبلیسی کی گیلریوں میں پنکسی کی تصاویر نمائش کے لیے پیش کرتی ہیں۔

’ اب میں اجنبی نہیں ہوں۔ لوگ مجھے جانتے ہیں۔‘

اگلے سال کے اوائل میں انڈونیشیا میں جارجیا کے سفارت خانے میں اسما کے کام کی پہلی بار بین الاقوامی نمائش ہو گی۔

لیکن ساتھ ہی ساتھ گاؤں کی یہ زندگی کافی دشوار بھی ہے۔

اسما کہتی ہیں: ’میں چیچن نہیں ہوں۔ میں کِسٹ نہیں ہوں اور نہ ہی جارجین ہوں۔ میں مشرقی جرمنی میں پیدا ہوئی۔ مجھے اپنی آزادی واپس چاہیے۔ میں ایک آزاد عورت ہوں جس نے کچھ کرنے یا کہیں جانے کے لیے کسی سے اجازت نہیں لی۔ کِسٹ روایات کے مطابق آپ کو اپنے بڑوں کی بات ماننا پڑتی ہے۔ مجھے اپنے ساتھ کچھ وقت تنہا چاہیے۔ ایسی جگہ جہاں مجھے کوئی نہ جانتا ہو۔‘

گذشتہ برس مارچ میں ان کی ایک دوست نے انھیں جنوبی جارجیا میں ایک خفیہ غار کے بارے میں بتایا۔ وہ فوراً وہاں چلی گئیں اور اپنے ساتھ صرف ایک چولھا، بستر اور کچھ پھل اور میوے لے گئیں۔

لیکن ایک روز وہاں ایسا کچھ ہوا جس نے اسما کی زندگی پھر سے بدل دی۔ دو مقامی چرواہے اپنے مویشیوں کے ساتھ غار کے پاس سے گزرے، انھوں نے اسما کو دیکھا اور گھر واپس چلنے کے لیے دباؤ ڈالا لیکن انھوں نے مسترد کر دیا۔

’مجھے پہلا خیال یہ آیا کہ یہ لوگ مجھے تنہا کیوں نہیں چھوڑ دیتے۔‘

انھوں نے اسما سے پوچھا کہ انھیں جارجیا کا روایتی گوشت خِنکالی پسند ہے۔

’وہ چلے گئے لیکن آدھے گھنٹے بعد وہ خنکالی اور وائن کے ساتھ پھر سے وہاں تھے۔‘

ان میں سے ایک جارجین چرواہا ہر روز اس کے پاس آنے لگا اور ان سے ان کا فون نمبر مانگنے لگا۔ بالآخر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے اور ان کا رشتہ قائم ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Devi Asmadiredja
Image caption وہ غار جہاں اسمادریجا نے قیام کیا

انھوں نے اس برس کے آخر میں شادی کا ارادہ کر رکھا ہے۔ ان کی شادی کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوگی کیونکہ اسما اب بھی جرمنی میں موجود اپنے چیچن شوہر کی بیوی ہیں لیکن انھیں اپنانے والا خاندان روایتی دعوت کی تیاری کر چکا ہے۔

اسمادریجا کا کہنا ہے: ’میں نے ایسی محبت کے بارے میں کبھی نہیں سوچا تھا۔‘

وہ جانتی ہیں کہ ان کا ہونے والا شوہر ان تمام غاروں اور جھونپڑیوں میں جنھیں وہ گھر کہتی ہیں، ان کے ساتھ تو نہیں رہ سکتا لیکن وہ ان کی حوصلہ افزائی کر رہی ہیں کہ وہ گاڑی چلانا سیکھ جائیں تاکہ سیاحوں کو گائیڈ کرنے کے کام میں ان کی معاونت کر سکیں۔

اسمادریجا اس وقت 45 برس کی ہیں اور وہ جانتی ہیں کہ انھوں نے پیچھے کیا چھوڑا ہے۔ ان کے دو بچے جنھیں انھوں نے 12 اور نو برس کی عمر میں چھوڑا تھا پہلے تو اپنے باپ کے ساتھ رہے لیکن اب انھیں کسی اور نے گود لے لیا ہے۔ ان کے نئے جیون ساتھی کے ساتھ بھی ان کی ایک بیٹی ہے۔

اسما اپنے بچوں کو ای میل کرتی رہتی ہیں لیکن وہ جواب نہیں دیتے۔ انھوں نے ارادہ کیا تھا کہ وہ جرمنی جا کر اپنے بچوں کی تحویل حاصل کریں لیکن انھیں یہ یقین دہانی نہیں کروائی گئی کہ وہ ایسا کر بھی پائیں گی۔

اسما کہتی ہیں: ’میری یہاں ایک زندگی ہے۔ مجھے جرمنی جانے کے لیے بہت ہمت چاہیے۔ ہو سکتا ہے مجھے میرے بچے ملیں، ہوسکتا ہے نہ ملیں اور اگر وہ مجھے مل بھی جاتے ہیں تو یہ کچھ برسوں کے لیے ہو گا۔ تو کیا اس کے لیے میں یہ سب چھوڑ چھاڑ دوں؟ میں ایسا نہیں کر سکتی۔ شاید میں خود غرض ہوں لیکن میں نے یہاں اپنی ایک زندگی بنا لی ہے۔‘

میں یہاں ایک گائیڈ ، ایک فوٹو گرافر کے طور پر پہچانی جاتی ہوں۔ میں یہ سب کیوں ترک کر دوں۔ صرف وہاں رہنے کے لیے؟‘

اسمادریجا کہتی ہیں کہ یہ پہاڑ ان کا اصل گھر ہیں۔ ’ان پہاڑوں میں میں آزاد ہوں۔‘

اسی بارے میں