توہین مذہب کے قوانین کے خلاف عالمی مہم

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption پاکستان میں بھی توہینِ مذہب کے قوانین کے غلط استعمال کے حوالے سے آوازیں اٹھتی رہی ہیں

دنیا میں انسان دوستی کے لیے کام کرنے والے کارکنوں کے ایک اتحاد نے توہین مذہب کے قوانین کے خلاف ایک عالمی مہم شروع کی ہے۔

انٹرنیشنل ہیومنسٹ اینڈ ایتھیکل یونین کا کہنا ہے کہ فرانس میں طنزیہ رسالے چارلی ایبڈو پر ہونے والے حملے کے بعد یہ ان قوانین کے خاتمے کا درست وقت ہے۔

پیغمبرِ اسلام کے خاکے شائع کرنے والے اس رسالے کے دفتر پر رواں ماہ شدت پسندوں کے حملے میں 12 افراد مارے گئے تھے۔

اس حملے کے بعد رسالے نے اپنے اگلے شمارے کے سرورق پر ایک مرتبہ پھر پیغمبرِ اسلام کا خاکہ شائع کیا تھا اور اس فیصلے پر بھی تنقید کی گئی تھی۔

یونین کا کہنا ہے کہ توہین مذہب کا الزام اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگاتا ہے۔

تنظیم کے مطابق مذہب کے نام پر کسی فرد کو ہلاک کرنے کی سوچ کو جواز فراہم کرنے والی چیز بھی توہینِ مذہب کے یہ الزامات ہی ہیں۔

آئی ایچ ای یو کی صدر سونجا ایگرکس کا کہنا ہے کہ ان کی مہم کا مقصد ان لوگوں کی مدد کرنا ہے جو پہلے سے توہینِ مذہب کے قوانین کے خلاف کام کر رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’یہ خیال کہ مذہب کی توہین ایک جرم ہے ہی وہ وجہ ہے جس کی بنیاد پر آصف محی الدین جیسا انسان دوست کارکن بنگلہ دیش میں پابندِ سلاسل ہے یا سعودی عرب میں رائف البدوی جیسے سکیولر انسان کو کوڑے مارے جا رہے ہیں۔‘

سونجا نے کہا کہ اسی خیال کی وجہ سے ’پاکستان، افغانستان، مصر، ایران، سوڈان اور دیگر کئی ممالک میں دہریے اور مذہبی اقلیتیں مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘

اس مہم کے روحِ رواں باب چرچل نے سماجی امور کے لیے بی بی سی کے نامہ نگار جان میکمینس کو بتایا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ان قوانین میں تبدیلی، اصلاح یا انھیں ختم کرنے کے مطالبات ہوتے رہے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان اقلیتی آوازوں کو اکثر سنا نہیں جاتا۔‘

2012 میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا کے ایک چوتھائی ممالک میں کسی نہ کسی شکل میں مذہب اور الہامی اور مذہبی کتب کی توہین سے متعلق قوانین نافذ ہیں۔

پیو ریسرچ سنٹر کے مطابق زیادہ تر یہ قوانین مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ اور اسی خطے میں ان کے حامیوں کی تعداد زیادہ ہے۔

ان میں سے بیشتر ممالک مذہبی حساسیت کے تحفظ کے لیے توہین مذہب کے قوانین کو ضروری سمجھتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چارلی ایبڈو پر حملے کے خلاف دنیا بھر میں مہم چلی تھی

56 اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی نے بارہا کوشش کی ہے کہ اقوامِ متحدہ مذہب کی توہین کو خلافِ قانون قرار دینے کی عالمی کوششوں کی حمایت کرے۔

گذشتہ برس تنظیم کے سیکریٹری جنرل آیان امین مدنی نے کہا تھا کہ اظہارِ رائے کی آزادی اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ انھوں نے ان ممالک پر تنقید بھی کی تھی جو آزادیِ اظہار پر قدغنوں کے مخالف ہیں۔

سعودی عرب بھی ایسا ہی ایک ملک ہے اور یہاں ان قوانین کے تحت سخت سزائیں بھی دی جاتی رہی ہیں۔

حال ہی میں سعودی حکام نے ایک بلاگر رائف البدوی کو اسلام کی توہین پر ایک ہزار کوڑوں کی سزا سنائی تھی جس پر جزوی طور پر عمل درآمد بھی کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ پاکستان میں بھی توہینِ مذہب کے قوانین کے تحت سزائے موت سمیت سخت سزائیں دی گئی ہیں۔

پاکستان میں اس قانون کے غلط استعمال کے حوالے سے بھی آوازیں اٹھتی رہی ہیں اور ان قوانین کے مخالفین کا کہنا ہے کہ انھیں ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔