’انسانی کسمپرسی کی اقوام متحدہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی لوگوں نے کیلے کے کیمپوں کو امریکہ کی بدنام زمانہ جیل ’ایلکاٹراز‘ سے تعبیر کرنا شروع کر دیا ہے

ہزاروں افراد فرانس کے قصبے ’کیلے‘ میں عارضی رہائشگاہوں میں صرف اس امید پر کسمپرسی کے دن گزار رہے ہیں کہ ایک دن ایسا آئے گا جب وہ برطانیہ پہنچ ہی جائیں گے۔

ان میں اکثر کے پاس کبھی نوکریاں بھی تھیں، لیکن اب اپنے ملکوں میں جنگ اور تشدد سے فرار ہو کر یہاں پہنچنے والے ان سینکڑوں لوگوں کی جیب میں نہ تو کوئی دھیلا ہے اور نہ ہی عزت نفس بچی ہے۔ اور نہ ہی کیلے میں کوئی ان کی شکل دیکھنا چاہتا ہے۔

کیلے میں ان کی زندگی کیسی ہے؟

جانوروں کی زندگی سے زیادہ مختلف نہیں۔’صبح سویرے ہی آپ کو یہ فکر گھیرنے لگتی ہے کہ کھانا کب ملے گا، اور اس کے بعد دوبارہ سوئیں گے کب۔

آپ ہر وقت اپنی بنیادی انسانی ضرورتوں کا ہی سوچتے رہتے ہیں۔ نہاؤں گا کب، شیو کب کروں گا، بال کب کٹواؤں گا۔ بس جانوروں جیسی زندگی ہے آپ کی یہاں۔‘

یہ باتیں مجھے عثمان نے بتائیں۔ ایک نرم گو، اعلیٰ تعلیم یافتہ جوان جس کی عمر 25 سے 30 سال کے درمیان ہوگی۔ وہ مجھے بتا رہا تھا کہ کیسے اس کی زندگی بکھر کے رہ گئی۔

’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ آپ کو کیا بتاؤں۔ مجھے لگتا ہے کہ میں سب کچھ لُٹا بیٹھا ہوں۔ میں بالکل خالی ہو گیا ہوں۔ ایک کھوکھلا انسان۔ میرے پاس آگے کا کوئی منصوبہ نہیں۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ جاؤں تو جاؤں کہاں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ان لوگوں کی ہر روز یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح سامان سے بھرے ایسے بحری جہاز کے نیچے یا کسی کونے میں چھپ جائیں

عثمان کی مصیبتیں دو ماہ پہلے اس وقت شروع ہوئیں جب سوڈانی حکومت نے انھیں ایک حکومت مخالف سیاسی میٹنگ کا اہتمام کرنے پر اغوا کر لیا اور ان پر تشدد کیا۔

عثمان کی بے وقوفی یہ تھی کہ انھوں نے کچھ سرگرم سیاسی کارکنوں کو اپنے گھر پر بلا لیا تھا اور ان کے پڑوسی نے یہ بات خفیہ پولیس تک پہنچا دی۔

تفتیش کے دوران کیے جانے والے تشدد کے نتیجے میں عثمان کو کئی زخم آئے اور جب وہ علاج کے بعد ہسپتال سے فارغ ہوئے تو دوستوں نے انھیں سامان والے ایک بحری جہاز پر چڑھا دیا جو فرانس جا رہا تھا۔

فرانس پہنچنے پر عثمان کے پاس کچھ بھی نہیں دیا۔ انہیں ہر کسی نے یہ کہا کہ چونکہ وہ انگریزی بولتے ہیں اس لیے ان کے لیے سب سے اچھا یہی ہوگا کہ وہ برطانیہ پہنچ کر سیاسی پناہ حاصل کر لیں۔

اسی امید پر اب وہ کیلے کے نواح میں دور دراز تک پھیلے ہوئے ایک کیمپ میں پڑے ہوئے ہیں اور ایک جنگلی جیسی زندگی گزار رہے ہیں۔

عثمان کی طرح یہاں پڑے ہوئے دیگر سینکڑوں لوگوں کے پاس بھی کوئی پیسے نہیں کیونکہ ان کے پاس جو تھا وہ سب انھوں نے ان ایجنٹوں کو دے دیا جو انھیں بحری جہازوں اور کشتیوں میں چھپا کر ’کیلے‘ تک لائے تھے۔

اب ان لوگوں کی ہر روز یہی کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح سامان سے بھرے ایسے بحری جہاز کے نیچے یا کسی کونے میں چھپ جائیں جس کی منزل برطانیہ ہو۔ لیکن یہ ایک ایسا خطرناک کھیل ہے جس میں آپ کی جان بھی جا سکتی ہے۔ اس سفر میں درجنوں لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں اور سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔

ان خطروں کے باجود آپ کو یہ لوگ ’کیلے‘ کے پٹرول پمپوں اور اڈّوں پر کھڑے بڑے بڑے ٹرکوں کے گرد منڈلاتے نظر آتے ہیں کہ کسی طرح پولیس اور سرحدی اہلکاروں کی نظروں سے بچ کے ٹرک پر چڑھ جائیں۔

لیکن اب ایسا کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے کیونکہ ’کیلے‘ کے اس وسیع و عریض کیمپ کی چاروں جانب ایک بیس فٹ اونچی خاردار تار لگا دی گئی ہے۔

فرانس اور برطانیہ کے درمیان آخری جنگ دو سو سال پہلے ہوئے تھی لیکن ان خاردار تاروں کو دیکھ کر لگتا ہے جیسے یہ دو دشمن ملکوں کی درمیانی سرحد ہو۔

’کیلے‘ کے قصبے سے گزرنے والی دو رویہ سڑک پر آپ کو ایسے مناظر سارا دن دکھائی دیتے ہیں جب سکیورٹی اہلکار تاریکن وطن کے پھیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں، جو اس آنکھ مچولی میں کسی طرح نظر بچا کر کسی بڑی لاری یا ٹرک پر چڑھنے کے چکر میں رہتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ ugc
Image caption کیلے کے نواح میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کی تعداد دو سے تین ہزار تک ضرور ہو گی۔

یہ بڑا عجیب منظر ہوتا ہے۔ آپ کو غصے میں بکھرے ہوئے سینکٹروں نوجوان دکھائی دیتے ہیں جو زخموں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خار دار تاروں پر چڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ہنگاموں سے نمٹنے والے ڈنڈوں اور آہنی ہیلمٹوں سے لیس سکیورٹی اہلکار انہیں پیچھے دھکیلتے رہتے ہیں۔

اس وقت ’کیلے‘ کے نواح میں پھنسے ہوئے تارکین وطن کی تعداد دو سے تین ہزار تک ضرور ہو گی اور اس تعداد میں ہر روز اضافہ ہوتا رہتا ہے۔

ان سب کے دل میں ایک ہی خواہش ہے کہ کسی طرح برطانیہ پہنچ جائیں اور ایک نئی زندگی کا آغاز کریں۔ ان کا خیال ہے کہ برطانیہ خوابوں کی سرزمین ہے جہاں پہنچ کر ان کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔

’کیلے‘ کے ان کیپموں میں جہاں کوئی قانون نہیں، وہاں آپ کو ہر اس ملک کا نمائندہ ملے گا جہاں حالات مواقف نہیں اور کوئی تنازع چل رہا ہے۔ان میں افغانی، سوڈانی، عراقی، شامی، لبیائی، اریٹرین اور پاکستانی سبھی شامل ہیں اور یہ فہرست کبھی ختم نہیں ہوتی۔

لگتا ہے کہ کیلے ’انسانی کسمپرسی کی اقوام متحدہ‘ بن چکا ہے۔‘

اسی بارے میں