’محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیرس کے اکثر مقامات پر آج کل سخت سکیورٹی دیکھنے کو ملتی ہے۔

محبتوں کے شہر پیرس میں رہنے کے عادی لوگوں کو خوف کی فضا سے بھی خوف آتا ہے۔انھیں خدشہ ہے کہ یہ فضا فرانس کے شہریوں کو مذہبی وابستگی کی بنیاد پر تقسیم کر دے گی۔ یہ لوگ یکجہتی، تنوع اور محبت کی وکالت کرتے ہیں اور اس وکالت میں کئی بین المذاہب اور یوتھ گروپ پیش پیش ہیں۔

پیرس میں ’سلام‘ کے نام سے ایک ایسی ہی تنظیم بین المذاہب مکالمے اور اسلام کی بہتر سمجھ کے لیے کام کرتی ہے۔

اس تنظیم کے ایک رکن سلیم ڈِریکی کو فکر ہے کہ کہیں یہ فضا دہشت گردوں کے مقاصد پورے کرنے کا ذریعہ ہی نہ بن جائے۔

اس سلسلے کا پہلا آرٹیکل پڑھنےکے لیے یہاں کلک کیجیے

Image caption ’کو ایگزسٹر‘ یا ’بقائے باہم‘ تنظیم مکالمے، یکجہتی اور شعور کی ترویج کے ذریعے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانا چاہتی ہے

’دہشت گردوں کا مقصد یہ تھا کہ ہمیں تقسیم کیا جائے تاکہ اس کے نتیجے میں باہمی نفرت اور انتہا پسندی میں اضافہ ہو۔ اس حملے کا محض ایک مسلمان کے طور پر ردعمل دینا درحقیقت انتہا پسندوں کا کھیل کھیلنے کے مترادف ہے۔ میرے لیے یہ اہم ہے کہ میں یہ بات ایک فرانسیسی شہری کے طور پر کروں۔‘

چارلی ہیبڈو پر حملے کے باوجود لگتا ہے کہ اب بھی پیرس میں اخوت سے رہنے والوں اور محبت کرنے والوں کی کمی نہیں۔محبتوں کی خوشبو میں بسے اس شہر میں اگرچہ خوف کی لہر اٹھی ہے لیکن چاہتوں اور باہمی انسانی رشتوں کو بظاہر زیادہ نقصان نہیں پہنچا سکی۔

فرانس میں بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے متحرک ایک تحریک کا نام ’کو ایگزسٹر‘ یا ’بقائے باہم‘ ہے۔ یہ تنظیم مکالمے، یکجہتی اور شعور کی ترویج کے ذریعے اپنے مقاصد کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔

اس کی ایک رکن مریم جو ایک مسلم گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں، وہ کہتی ہیں کہ ’ان حملوں کے باوجود ہم سب اکٹھے ہیں۔ مسلم، مسیحی، یہودی، لادین، سبھی ایک دوسرے کے ساتھ ہیں۔ ہم ایک ہی فرانسیسی قوم سے تعلق رکھتے ہیں اور مل جل کر رہنا چاہتے ہیں۔‘

Image caption پیرس کے نوجوان ملک میں یکجہتی، تنوع اور محبت کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں

اس تنظیم نے حملوں کے فوراً بعد 11 جنوری کو اتحاد مارچ کا انتظام کیا۔فرانس کی’سیانپو‘ یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تنظیم کی نائب صدر آرلین بوٹوکرو کہتی ہیں کہ ’ہم نے بھائی چارے کے پیغام کے تحت مارچ کیا کہ ہم کسی بھی شناخت سے پہلے فرانسیسی شہری ہیں۔‘

اس کے بعد جمعے کو اس تنظیم نے محبت اور بھائی چارے کے پیغام کے طور پر مسجدوں اور یہودی عبادت گاہوں پر دل کی شکل کے ڈیزائین لگائے اور انتظامیہ کو خطوط بھی لکھے۔

’تقسیم احمقوں کے لیے ہے‘ اور ’ہم اکٹھے ہیں‘ جیسے نعروں کے ساتھ انھوں نے ’آؤ مل کر چلیں‘ کی تحریک سوشل میڈیا کے ذریعے بھی شروع کی۔

اسلاموفوبیا کے خلاف سوشل میڈیا کی اس تحریک کا مقصد ان مسلمانوں کی حفاظت تھی جو پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنے سے خوفزدہ تھے۔ یہ تحریک آسٹریلیا میں چلنے والی اسی نوعیت کی تحریک سے متاثر ہو کر شروع کی گئی تھی جب وہاں ایک مسلح شخص نے سڈنی کے ایک کیفے میں لوگوں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اس وقت ہزاروں لوگوں نے مسلمانوں کے حق میں سوشل میڈیا تحریک چلائی تھی کہ انہیں اسلاموفوبیا پر مبنی ردعمل سے بچایا جائے۔

چارلی ہیبڈو حملے کے ایک ہفتے بعد ’یورپی بین المذاہب فورم برائے مذہبی آزادی‘ کی فرانسیسی شاخ پیدا ہوئی۔

Image caption پروگرام ’شانہ بشانہ‘ کے تحت یہودی لوگ مسجدوں کی حفاظت کریں گے اور مسلمان لوگ یہودی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے

چرچ آف سائنٹالوجی سے منسلک ایرک روُ اور مسلمان آصف عارف نے اپنے سکھ اور یہودی ساتھیوں کے ساتھ 15 جنوری کو پیرس میں اس فورم کو متعارف کرایا۔ آصف کے مطابق ’ہمارے اس فورم کا ایک پروگرام ’شانہ بشانہ‘ ہے جس میں یہودی لوگ مسجدوں کی حفاظت کریں گے اور مسلمان لوگ یہودی عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے‘۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ چارلی ہیبڈو پر حملہ کرنے والوں سے مقابلہ کرتے ہوئے ایک مسلم احمد میرابط بھی ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح مالی کے ایک مسلم شخص لاسانہ باتھلی نے کوشر مارکیٹ پر حملہ کے دوران سات یہودیوں کی جان بچائی تھیِ۔

کولن ہوسیس ایک ویب سائٹ کی سربراہ ہیں جو پیرس میں عرب ثقافت کے تنوع کو اجاگر کرتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ پیرس حملوں اور اس کے بعد شروع ہونے والی بحث سے انھیں احساس ہوا کہ ’فرانس میں کچھ لوگ کس قدر متعصب ہیں‘ اور یہ کس قدر اہم ہے کہ دیواروں کی بجائے سماجی پل تعمیر کیے جائیں۔

Image caption چارلی ہیبڈو حملے کے ایک ہفتے بعد ایرک روُ اور آصف عارف نے ’یورپی بین المذاہب فورم برائے مذہبی آزادی‘ شروع کیا

کولن اپنی تنظیم کے دائرہ کار کو پھیلانا چاہتی ہیں تاکہ مزید متنوع برادریوں اور علاقوں میں کام کر سکیں۔

اس بحث کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ان تمام تنظیموں اور افراد کے کام کرنے کے طریقے مختلف ہو سکتے ہیں لیکن ان سب میں ایک قدر مشترک ہے۔ یہ سب فرانس میں اس وقت جاری سفید و سیاہ پر مبنی منافرت انگیز مباحثے کی مزاحمت کرنا چاہتے ہیں۔

یورپی بین المذہبی فورم برائے مذہبی آزادی کی کمیٹی کے سربراہ ایرک روُ کے مطابق ’اس مباحثے میں بعض اوقات سیکولرازم چند مخصوص افراد کے اظہار کے حق تک محدود ہو کر رہ جاتا ہے‘۔

وہ کہتے ہیں کہ مباحثے کو درست تناظر میں رکھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ ’اگر لوگوں میں انسانی حقوق کا شعور ہو گا تو ہی وہ سمجھیں گے کہ مذہبی آزادی تمام انسانوں کا حق ہے اور وہ اس مسئلے کو مختلف انداز میں دیکھنا شروع کریں گے‘۔

Image caption پیرس کی مرکزی جامع مسجد کا اندر کا منظر۔ یہ مسجد جسے گرینڈ موسک آف پیرس کے نام سے جانا جاتا ہے اُن مسلمان فوجیوں کی یاد میں تعمیر کی گئی تھی جنہوں نے فرانس کے لیے لڑتے ہوئے جنگِ عظیم اول میں اپنی جان دی تھی۔ تین دہائیوں بعد اسی مسجد نے یہودیوں کو ہولوکاسٹ سے بچنے کے لیے اپنی چھت کے نیچے پناہ دی

ایرک کا خیال ہے کہ چارلی ہیبڈو کے واقعے کو ملک میں آزادی اور اظہار مذہب کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ’سر پر ہتھوڑا مار کر سیکولرازم کا سبق پڑھایا جائے‘۔

عوام میں یہ خوف واضح نظر آتا ہے کہ اگر ایک متوازن اور مناسب مکالمہ شروع نہیں ہوتا تو خطرہ ہے کہ فرانس میں لوگ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء ہو جائیں گے۔

آصف عارف کے خیال میں’اس مباحثے سے محسوس ہوتا ہے کہ ایک طرف اظہار رائے کا حق ہے اور دوسری جانب اسلام ہے۔گویا اسلام اظہار رائے کے حق کو برداشت نہیں کر سکتا‘۔

اس بات سے قطع نظر کہ فرانس میں جاری بحث درست خطوط پر اسطوار ہے یا نہیں، ہم آہنگی اور تنوع کو فروغ دینے والی تنظیموں اور اقدامات سے امید رکھی جا سکتی ہے کہ وہ پیرس کو خوف کی پرچھائیوں سے’محبتوں کے شہر‘ کے طور پر بازیاب کرا لیں گے۔

اسی بارے میں