نائجیریا کے شہر پر بوکوحرام کا ایک اور بڑا حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption 2009 سے بوکو حرام کی جانب سے مسلح بغاوت شروع کی گئی جس کے بعد سے اب تک ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں

عینی شاہدین نے کہا ہے کہ اسلامی شدت پسند تنظیم بوکوحرام کے جنگ جوؤں نے نائجیریا کے دفاعی اہمیت کے حامل شہر مایدوگوری پر تازہ حملہ کیا ہے۔

ملک کے شمال میں واقع شہر کی گلیوں میں گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دی گئی ہیں اور شہریوں نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ یہ حملہ اتوار کو علی الصبح کیا گیا۔

گذشتہ ہفتے بھی بوکوحرام نے اس شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تھی تاہم نائجیریائی فوج نے اسے ناکام بنا دیا تھا۔

مایدوگوری میں لوگوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ حملہ اتوار کی صبح مقامی وقت کے مطابق تین بجے شروع ہوا، اور باغیوں اور فوجیوں کے درمیان شہر کے جنوبی کنارے پر شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔ کچھ رضاکار بھی سرکاری فوج کی جانب سے باغیوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ایک مقامی شہری آدم کرینووا نے بتایا: ’تمام شہر سہما ہوا ہے۔ لوگ خوفزدہ ہیں کہ اگر بوکوحرام نے فوج کو شکست دے دی تو کیا ہو گا۔‘

نائجیریا کے اخبار پریمیئم ٹائمز کے مطابق مایدوگوری میں چاروں طرف بھاری توپ خانے کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔

ایک ہفتہ قبل بوکوحرام کی مایدوگوری پر قبضے کی کوشش کو فوج نے ناکام بنا دیا تھا۔ تاہم جنگجو شہر سے 125 کلومیٹر دور مونگونو نامی قصبے اور وہاں موجود فوجی چھاؤنی پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

مایدوگوری میں بہت سے ایسے لوگ رہتے ہیں جو بوکوحرام کے ڈر سے مختلف علاقوں سے بھاگ کر وہاں آئے ہوئے ہیں۔

ماہرین کہتے ہیں کہ باغی 14 فروری کو نائجیریا میں ہونے والے صدارتی انتخابات سے قبل حملوں میں تیزی لا رہے ہیں۔

بوکوحرام نے نائجیریا میں اسلامی ریاست قائم کرنے کی غرض سے 2009 سے مسلح بغاوت شروع کر رکھی ہے۔ اس دوران ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔

اسی بارے میں