یونان نے بیل آؤٹ کیش قبول کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یونان پر اس کی کل قومی پیداوار سے 175 فیصد زیادہ قرض ہے

یونان کے وزیرِ خزانہ یانس واروفیکس نے ملک کے قرض دہندگان کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے لیے مزید بیل آؤٹ کیش قبول کرنے کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔

فرانس کے وزیرِ خزانہ کے ساتھ پیرس میں ہونے والے مذاکرات کے بعد ان کا کہنا تھا کہ یونان کے قرضے ادا کرنے کے لیے آنے والے مہینوں میں ایک نیا معاہدہ کرنے کی ضرورت ہے۔

فرانس کے وزیر خزانہ نے پیرس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یونان کے قرض کو معاف کرنے کا سوال ہی نہیں ہوتا تاہم یانس واروفیکس کا کہنا تھا کہ یونان اور اس کے ساتھیوں کو ’ذہن میں یورپی شہریوں کی خوشحالی کا سوچ کر آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ یونان کے قرض کی ادائیگی کے لیے رواں برس مئی کے آخر تک ایک نیا معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے یونان کے لیے کسی بھی نئے بیل آؤٹ پیکج کے امکان کو مسترد کر دیا۔

یونان کے وزیرِ خزانہ یانس واروفیکس کا یہ بیان وزیرِ اعظم الیکسس تسیپراس کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں امید ظاہر کی تھی کہ قرض دہندگان کے ساتھ معاہدہ طے پا سکتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption تسیپراس کی جماعت سریزا نے انتخابات جیتنے کے بعد عہد کیا تھا کہ وہ یونان کا آدھا قرض معاف کروا لیں گے

تسیپراس نے کہا تھا کہ یونان یورپی سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف کو قرض ادا کر دے گا اور یورو زون کے ممالک کے ساتھ ایک معاہدہ کرے گا۔

یانس واروفیکس اتوا کو پیرس پہنچے تھے جس کے بعد وہ مزید مذاکرات کے لیے لندن اور روم کا بھی دورہ کریں گے۔

ادھر فرانسیسی وزیرِ خزانہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک یونان کی مدد کرنے کے لیے تیار ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے تسیپراس کی جماعت سریزا نے انتخابات جیتنے کے بعد عہد کیا تھا کہ وہ آدھا قرض معاف کروا لیں گے۔

سنہ 2012 میں کچھ قرض دہندگان نے یونان کے بعض قرضے معاف کر دیے تھے تاہم اس کے باوجود یونان پر اس کی کل قومی پیداوار سے 175 فیصد زیادہ قرض ہے۔

اس سے قبل جرمن چانسلر انگلیلا میرکل نے کہا تھا کہ وہ یونان کے مزید قرضے معاف ہوتے نہیں دیکھ رہیں کیونکہ قرض دہندگان نے پہلے ہی رضاکارانہ طور پر یونان کے قرضے معاف کر رکھے ہیں اور بینکوں نے یونان کے اربوں کے قرض چھوڑ دیے ہیں۔

یونان کو مالیاتی بحران سے نکالنے میں تین قرضہ دہندگان یورپی یونین، یورپین سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

یورپی یونین، یورپین سینٹرل بینک اور آئی ایم ایف نے قرض دینے کے بعد اپنی رقم کی وصولی کے لیے یونان کے بجٹ میں کٹوتیاں کر دی تھی اور اس کی معیشت کی ڈھانچے میں تبدیلیاں عائد کر دی تھیں۔

اسی بارے میں