دولتِ اسلامیہ کے القاعدہ کے علاقوں سے روابط

Image caption دولتِ اسلامیہ کے پاکستان اور افغانستان میں نئے صوبے خراسان کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے حافظ سعید خان

دولتِ اسلامیہ نے شمالی افریقہ اور جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے ساتھ اپنے روابط بڑھا لیے ہیں جس کے تحت اس گروہ نے ایسے مقامی گروہوں کو اپنے دائرے میں قبول کیا ہے جو اس سے وفاداری کے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کی حالیہ شاخ افغانستان، پاکستان 26 جنوری کو قائم کی گئی جو کہ اس کے گڑھ عراق اور شام سے باہر ہے۔

اس سے قبل پہلی بار دولتِ اسلامیہ کے رہنما ابوبکر البغدادی نے جب مصر، لیبیا، الجزائر، یمن اور سعودی عرب میں موجود جہادیوں کی حمایت کو قبول کیا تو یہ اس گروہ کے پھیلاؤ کی ابتدا تھی۔

ان میں سے کچھ گروہوں نے اپنے نام تبدیل کر کے اپنے آپ کو دولتِ اسلامیہ کے نئے صوبے یا ولایہ قرار دیا جیسا کہ مصر کے انصار بیت المقدس اور الجزائر کے جند الخلیفہ ہیں۔

ان میں سب سے زیادہ مشہور ہونے والی شاخیں لیبیا اور مصر میں قائم کی گئیں جس نے دولتِ اسلامیہ کے میڈیا نیٹ ورک میں باقاعدگی سے اپنے پروپگینڈہ کی اشاعت کی ہے اور اپنے حملوں کی تشہیر اور اپنے حکومت سے متعلق منصوبوں کو پھیلایا ہے۔

دوسری جانب باقی گروہوں نے بہت خفیہ قسم کی موجودگی رکھی ہے مثال کے طور پر یمنی دولتِ اسلامیہ اور سعودی گروہوں نے ابھی تک کسی قسم کی کارروائیاں نہیں کیں اور نہ ہی کسی قسم کے پراپیگنڈا کے چینل بنائے ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے اس پھیلاؤ کو اس کے جہادی مخالفین القاعدہ نے بہت زیادہ محسوس کیا جس کی اُن علاقوں میں موجودگی ہے جہاں اب دولتِ اسلامیہ توسیع کر رہی ہے۔

مصر

Image caption دولتِ اسلامیہ سینا کا لوگو

دولتِ اسلامیہ کی مصر، سینا صوبے میں شاخیں حقیقتاً اپنے نام بدلنے کا نمونہ ہیں جیسا کہ انصار بیت المقدس جو پہلے 2011 میں مصر میں سابق صدر حسنی مبارک کے اقتدار کے خاتمے کے نتیجے میں سامنے آئی۔

سینا میں موجود جہادی گروہ بغدادی کے ساتھ الحاق کرنے والوں میں سب سے زیادہ مستحکم گروہ ہے اور اس نے نومبر میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ الحاق کے بعد سے کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔

انصار بیت المقدس نے بہت تیزی سے اپنا بدلا اپنے میڈیا کو نئی شناخت دی جو نئے الحاق سے مطابقت رکھتی ہے جس میں نیا لوگو (شناختی علامت) بنانا ہے جو شام اور عراق میں دولتِ اسلامیہ سے ملتا ہے۔

اب اس کی کارروائیاں جزیرہ نما سینا تک محدود ہیں جہاں اس نے 30 جنوری کو ایک مہلک حملہ کیا اور اس کے علاوہ اس نے قاہرہ اور مصر کے مغربی صحرا میں حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا تعلق لیبیا میں دولتِ اسلامیہ کی شاخ سے ہے۔

سینا کے شدت پسند کون ہیں؟

لیبیا

Image caption دولتِ اسلامیہ لیبیا کے تین صوبوں کی تقسیم کا نقشہ

دولتِ اسلامیہ کی لیبیا شاخ نومبر میں البغدادی کے بیعت کے بعد سے بہت سرگرم رہی ہے اور اس کی پروپگینڈہ مشینری عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کی شاخوں کی طرح کام کرتی ہے۔

دولتِ اسلامیہ نے لیبیا میں تین صوبوں کے قیام کا اعلان کیا جن میں برقہ مشرق میں، طرابلس مغرب میں اور فزان جنوب میں ہے۔

اس کے بعد سے اس کی زیادہ تر سرگرمیاں ملک کے ساحلی علاقے تک محدود رہی ہیں جنہیں اس کی جانب سے پراپیگنڈا ویڈیوز میں ظاہر کیا جاتا ہے جیسا کہ اس کے جانب سے کیے گئے ظالمانہ حملے، سر قلم کیے جانے کے واقعات اور نظامِ حکومت چلانے کی کوششیں شامل ہیں۔ اب تک صرف ایک کارروائی کی ذمہ داری اس کے فزان صوبے نے قبول کی۔

Image caption دولتِ اسلامیہ لیبیا کی ایک ویڈیو سے سکیرن شاٹ جس میں طرابلس میں موجود سرگرم گروہ کی کارروائیوں کی نشاندہی کی گئی ہے

برقۃ صوبے کی کارروائیاں زیادہ تر مشرق شہری مراکز درنہ اور بن غازی میں رہی ہیں جہاں یہ مقامی گروہ مجلس شوریٰ شباب الاسلام سے ابھری جس نے اکتوبر میں دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

اس شاخ کی سب سے بڑی کارروائی 27 جنوری 2015 کو تھی جب اس نے کورنتھیا ہوٹل طرابلس پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں نو افراد ہلاک ہو گئے تھے جن میں سے پانچ غیر ملکی تھے۔

الجزائر

Image caption دولتِ اسلامیہ الجزائر کا لوگو یا علا متی نشان

الجزائر میں دولتِ اسلامیہ کی شاخ جس نے نومبر 2015 میں دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کے عہد سے پہلے جند الخلیفہ کے نام سے جانا جاتا تھا کے بارے میں بہت زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔

اس گروہ نے دولتِ اسلامیہ میں شمولیت سے قبل القاعدہ کی شمالی افریقہ میں شاخ سے علیحدگی اختیار کر کے دولتِ اسلامیہ کے الجزائر صوبے کے طور پر اپنے آپ کو پیش کیا۔

اس گروہ نے ستمبر میں فرانسیسی ہرو گوردل کا سر قلم کرنے کے واقعے سے نمایاں ہوئے مگر اس کے بعد سے یہ بالکل خاموش ہے اور اس کے رہنما خالد ابو سلیمان کو دسمبر میں الجزائر کی افواج نے دسمبر میں ہلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد سے اس نے کسی بھی واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یمن اور سعودی عرب

دولتِ اسلامیہ نے القاعدہ کی یمنی شاخ کو غصہ دلایا جب البغدادی نے نومبر میں خود ہی سے یمن اور سعودی عرب میں نئے صوبے بنانے کا اعلان کیا۔

اگرچہ اس نئی شاخ نے کسی قسم کے حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی کوئی پروپگینڈہ چینل بنایا ہے اور یہ القاعدہ کو ایک علامتی چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو کہ عالمی جہادی منظر نامے پر حاوی ہونا چاہتی ہے۔

جب دولتِ اسلامیہ نے جون 2014 کو شام اور عراق میں خلافت کے نفاذ کا اعلان کیا تو القاعدہ نے صرف اس پر ڈھکے چھپے الفاظ میں تنقید کی۔

مگر کھلے عام تنازع اُس وقت شروع ہوا جب القاعدہ نے نومبر میں اپنی حدود میں توسیع شروع کی اور ردِ عمل میں القاعدہ کی شاخوں نے کھلے عام اس پر تنقید کی۔

افغانستان، پاکستان

Image caption حافظ سعید خان کی ویڈیو میں افغانستان اور پاکستان کے علاقے میں سرگرم دس کمانڈروں نے بیعت کی

دولتِ اسلامیہ کی نئی افغانستان، پاکستان شاخ نومبر میں وفاداری کے دعووں کے بعد پہلی شاخ ہے جس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔

اس صوبے کا رہنما حافظ سعید خان جو کہ ایک سابق طالبان کمانڈر ہیں جو دو ہفتے قبل ایک ویڈیو میں نمودار ہوئے جس میں اُن کے ساتھ دس جہادی کمانڈر شامل تھے جن کا تعلق افغانستان اور پاکستان کے مختلف علاقوں سے تھا جنہوں نے اُن سے وفاداری کا عہد کیا۔

اس ویڈیو میں ایک پاکستانی فوجی کا سر قلم کرنے کی ویڈیو بھی شامل تھی۔

اس نئی شاخ نے خراسان صوبے کا نام اپنایا ہے جو جہادیوں کی تاریخی اصطلاح سے مستعار لی گئی ہے جو اس خطے کے لیے استعمال کیا گیا ہے جس میں دولتِ اسلامیہ کے مطابق افغانستان، پاکستان اور اس کے آس پاس کے علاقے شامل ہیں۔

یہ قدم طالبان اور القاعدہ کے لیے خطے میں ایک اور بڑا چیلنج جو اب تک اس خطے کے بڑے کرداروں میں سے ایک تھے۔

دوسرے خطے

Image caption بوکو حرام کی ویڈیو سے حاصل شدہ ایک گرافک

دولتِ اسلامیہ نے اس کے بعد سے کہیں نئے صوبوں کے قیام کا اعلان نہیں کیا ہے ایسی اطلاعات ہیں کہ دنیا کے مختلف خطوں سے جہادی تنظیموں نے دولتِ اسلامیہ سے اپنی وفاداری کا اعلان کیا ہے۔

اس گروہ نے حال ہی میں انگریزی جریدے دابق کے ذریعے اعلان کیا کہ نئے اعلانات جلد متوقع ہیں۔

نومبر کے شمارے میں البغدادی کے توسیعی منصوبوں کے ساتھ ساتھ لکھا گیا کہ انڈونیشیا، کوہِ قاف، فلپائن اور نائجیریا میں مختلف گروہوں نے دولتِ اسلامیہ سے وفاداری کا اظہار کیا ہے جسے اس نے قبول کیا ہے مگر نئے صوبوں کے قیام کے لیے مزید شرائط پر پورا اترنا ہوگا۔

نائیجریا کا ذکر بوکوحرام کے حوالے سے ہو سکتا ہے جس کے پرپگینڈہ کے ذرائع نے حال ہی میں اپنے آپ کو بہتر کیا ہے جس میں انہیں بظاہر دولتِ اسلامیہ کے میڈیا سے مدد ملی ہے۔