آسٹریا میں اسلام مخالف تنظیم کا پہلا مظاہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ na
Image caption پیگیڈا کے مخالفین کے جلوس میں زیادہ افراد نے شرکت کی

آسٹریا میں اسلام مخالف جرمن تنظیم پیگیڈا کے حامیوں نے سوموار کو ایک ریلی نکالی ہے۔

آسٹریا میں نکالے جانے والی ریلی کا اعلان جنوری کے اوائل میں کیا گیا تھا جس کے بعد سے اب تک جرمنی میں پیگیڈا اندرونی اختلافات کا شکار ہے اور ایک ہی ہفتے میں تنظیم نے اپنے چھ رہنماؤں سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے۔

آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں نکالی جانے والی اس ریلی میں سینکڑوں افراد نے شرکت اور ان میں سے بعض نے نازی سیلوٹ بھی کیا۔

ویانا میں ہی پیگیڈا کی مخالفت میں ریلی نکالی گئی جس میں ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار کے قریب افراد نے شرکت کی۔

اس موقعے پر دونوں مظاہروں کو ایک دوسرے سے دور رکھنے کے لیے پولیس اہلکاروں کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

پیگیڈا کے حامی وسطی ویانا میں جمع تھے اور نعرے لگا رہے تھے کہ’ ہم ہی لوگ ہیں۔‘

ویانا میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ پیگیڈا اگر اسی طرح سے اپنی سرگرمیاں جاری رکھتی ہے تو اس صورت میں آسٹریا میں اپنے چند ہمدرد بنانے اور سیاسی جماعت بنانے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔

ِفل وقت آسٹریا میں پیگیڈا کی مقبولیت کا اندازہ لگانا مشکل ہے جس کی ایک وجہ تو جرمنی میں تنظیم کے اندرونی حالات ہیں اور دوسری بڑی وجہ آسٹریا کا بہت ہی مختلف سیاسی نظام ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی میں اسلام مخالف تنظیم کی حامیوں اور ان کے مخالفین نے احتجاجی مظاہرے کیے

پیگیڈا جرمنی کی سیاسی بساط پر قدرے نئی ہے جبکہ آسٹریا میں دائیں بازو کی سخت گیر جماعت ’فریڈم پارٹی‘ سالہاسال سے’اینٹی امیگریشن‘ اور ’اینٹی اسلامائیزیشن‘ کے پلیٹ فارم سے تحریک چلا رہی ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار تھامس ہوفر کا کہنا ہے: ’اس مسئلہ کو جرمنی میں بیشتر پارٹیوں نے صرف گزشتہ دہائی میں ہی اٹھایا ہے جبکہ آسٹریا میں یہ مسئلہ 1980 کی دہائی کے وسط سے ہی زور پکڑ چکا ہے ۔

’ہمارے ہاں ایک اہم سیاسی جماعت ہے جو کئی برس سے اس ایک مسئلہ سے نمٹ رہی ہے جس کا اثر میڈیا اور وسیع تر سیاسی ایجنڈے میں اس کی کوریج پر بھی ہوتا ہے ۔‘

اس موقف نے فریڈم پارٹی کو بیلٹ باکس پر بھی مدد دی ۔گزشتہ انتخابات میں اسے 20 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔

رائے عامہ کے ایک حالیہ جائزے کے مطابق فریڈم پارٹی کی مقبولیت 28 فیصد ہے اور اسے موجودہ حکمران اتحاد میں شامل جماعتوں ’سوشل ڈیموکریٹس‘ اور قدامت پسند ’پیپلز پارٹی‘ سے سبقت حاصل ہے۔

تھامس ہوفر کا کہنا ہے کہ فریڈم پارٹی کے امیگریشن کے خلاف روایتی موقف سے ’اینٹی اسلامائزیشن‘ یا اسلام مخالف پیغام نے جنم لیا ہے۔

ان کا کہنا ہے: ’اینٹی اسلامائزیشن فریڈم پارٹی کا ایک اہم ستون ہے اور ایسا گزشتہ سات یا آٹھ برس سے ہے، خاص طور پر ویانا میں۔‘

ویانا میں پیگیڈا کی آمد مسلم آبادی کے لیے باعث تشویش ہے لیکن یہ صورت حال ان کے لیے کوئی نئی بھی نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کی بھاری نفری نے دونوں جلوسوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا

اسلامی کمیونٹی کی ترجمان کارلہ امینہ باغاجاتی کا کہنا ہے: ’تشویش تو ہے لیکن دوسری جانب ہم معاشرے میں اسلام مخالف عناصر کے، جن کو فریڈم پارٹی کی پشت پناہی حاصل ہے عادی ہو چکے ہیں۔‘

ویانا میں ہونے والی ریلی کے منتظمین کا تعلق دائیں بازو کے انتہا پسند فٹ بال شائقین سے بھی بتایا جا رہا ہے۔

تاہم یہ بات واضح نہیں ہے کہ انہیں فریڈم پارٹی سے کتنی معاونت ملے گی۔

ایک حالیہ تقریر میں فریڈم پارٹی کے رہنما ہینز کریسچن سٹریش کا کہنا تھا :’میں اپنے دل میں ہر ہفتے ڈریزڈن میں پیگیڈا کے ساتھ ہوں۔‘

مبصرین کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ فریڈم پارٹی اس نئی تحریک سے جڑنے کی کوشش کرے لیکن اس بات کا انحصار پیگیڈا کی کارکردگی اور مقبولیت پر ہو گا۔

عین ممکن ہے کہ فریڈم پارٹی کے حامی یہ سوچیں کہ سردی میں باہر جا کر پیگیڈا کے ساتھ ریلی نکالنے کی کیا ضرورت ہے جب وہ ایک موجودہ مستحکم پارٹی کے لیے ووٹ دے سکتے ہیں۔

اسی بارے میں