’جعلی‘ قطاریں لگوانے پر دکانوں کے مالکان گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نکولس مدورو ملک کے بڑے تاجروں پر اپنی حکومت کے بائیکاٹ کا الزام لگاتے ہیں

وینیزویلا میں کچھ دکانوں کے مالکان کو اپنی دکانوں پر قطاریں لگوا کر حکومت کے خلاف اقتصادی جنگ کا حصہ بننے پر حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ملک کے صدر نکولس مادورو کا کہنا ہے کہ یہ افراد ملک کی سوشلسٹ حکومت کے خلاف اشتعال پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وینیزویلا میں بنیادی اشیائے صرف اور اشیائے خورد و نوش کی قلت کی وجہ سے دکانوں پر طویل قطاریں دیکھی جا رہی ہیں جن میں سے بعض کئی بلاکس تک طویل ہوتی ہیں۔

صدر مادورو نے اتوار کو کہا ہے کہ زیرِ حراست افراد نے اپنی دکانوں پر ملازمین کی تعداد میں کمی کی تاکہ قطاریں لگیں اور عوام میں پائی جانے والی بےچینی میں اضافہ ہو۔

نکولس مادورو ملک کے بڑے تاجروں پر اپنی حکومت کے بائیکاٹ کا الزام لگاتے ہیں، جبکہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ 16 برس کی سوشلسٹ پالیسیاں ملک میں بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت اور اقتصادی بحران میں شدت کی وجہ ہیں۔

مادورو نے اپنے حامیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ ’ہمیں پتہ چلا کہ دکانوں کی ایک مشہور کمپنی لوگوں کو پریشان کر کے سازش کر رہی ہے۔ ہم نے جا کر وہاں صورت حال معمول کے مطابق کروائی، مالکان کو طلب کیا اور انھیں گرفتار کر لیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اپوزیشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ 16 برس کی سوشلسٹ پالیسیاں ملک میں بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت اور اقتصادی بحران میں شدت کی وجہ ہیں

انھوں نے بتایا کہ ’اب وہ لوگوں کو اشتعال دلانے کی وجہ سے قید ہیں۔‘

نکولس مادورو کا یہ بھی کہنا تھا کہ حکومت خوراک فراہم کرنے والی دکانوں کا کنٹرول سنبھال لے گی۔

خیال رہے کہ وینیزویلا کی حکومت میں ملک میں ادویات فروخت کرنے والی بڑی کمپنی فارماتودو کے خلاف بھی اس بنیاد پر کارروائی کی ہے کہ اس نے لوگوں سے رقم وصول کرنے کے لیے مناسب تعداد میں ملازمین تعینات نہیں کیے تھے۔

وینیزویلا کے صدر نے یہ بھی کہا کہ ’وہ لوگ جو اپنی دکانوں کو لوگوں کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں انھیں سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘

نکولس مادورو سنہ 2013 میں اوگو چاویس کی جگہ برسرِاقتدار آئے تھے۔

اسی بارے میں