’محمد فہمی رہائی کے لیے مصر کی شہریت سے دستبردار‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصری حکام نے فہمی سے کہا کہ اگر وہ آزادی چاہتے ہیں تو انھیں مصر کی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا

مصر میں تاحال قید الجزیرہ چینل کے دو صحافیوں میں سے ایک محمد فہمی کے اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے رہائی پانے کے لیے اپنی مصری شہریت ترک کر دی ہے۔

ان کے بھائی کا کہنا ہے کہ فہمی سے آزادی یا شہریت میں سے ایک چیز کے انتخاب کے لیے کہا گیا تھا۔

محمد فہمی کے پاس مصر کے علاوہ کینیڈا کی بھی شہریت ہے اور کینیڈا کا کہنا ہے کہ اب ان کی رہائی فوری طور پر ممکن ہے۔

فہمی الجزیرہ کے ان تین صحافیوں میں سے ہیں جنھیں دسمبر 2013 میں گرفتار کر کے ان پر جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

ان میں سے آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے پیٹر گریسٹا کو اتوار کو 400 دن کی قید کے بعد رہا کر کے ملک بدر کر دیا گیا تھا، جبکہ تیسرے صحافی محمد باہر تاحال قید ہیں۔ ان کے پاس مصر کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ہے۔

پیٹر گریسٹا نے رہائی کے بعد کہا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو جیل میں چھوڑ آنے پر شدید پریشان ہیں۔

مصر کے صدارتی محل کے ذرائع نے پیٹر گریسٹا کی رہائی کے موقعے پر بھی کہا تھا کہ اگر محمد مصری شہریت چھوڑ دیتے ہیں تو وہ بھی رہا ہو سکتے ہیں۔

محمد فہمی کے بھائی عادل نے منگل کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصری حکام نے فہمی سے کہا کہ اگر وہ آزادی چاہتے ہیں تو انھیں مصر کی شہریت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔

عادل فہمی نے کہا کہ ’یہ بہت مشکل فیصلہ تھا۔ محمد کا تعلق ایک محبِ وطن خاندان سے ہے جس سے تعلق رکھنے والے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے ملک کا دفاع کیا ہے اور اس کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان کے خاندان کے کئی افراد شہریت ترک کرنے کے فیصلے سے خوش نہیں تھے لیکن محمد کی والدہ اور منگیتر نے انھیں ایسا کرنے پر مجبور کر دیا۔

پیٹرگریسٹا کی رہائی اور فہمی کی رہائی کے لیے شہریت ترک کرنے کے بعد ان کے تیسرے ساتھی محمد باہر کے بارے میں خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

محمد باہر کو گذشتہ برس مصری عدالت نے دس سال قید کی سزا سنائی تھی جس کے خلاف عالمی پیمانے پر احتجاج ہوا تھا اور اس فیصلے کی مذمت کی گئی تھی۔

اسی بارے میں