عالمی ادارۂ خوراک کے پارسلز ’دولتِ اسلامیہ کے لوگو کے ساتھ‘

Image caption اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ خوراک کے یہ پارسلز دولتِ اسلامیہ نے ایک ذخیرے پر حملے کے بعد چرائے ہیں

اقوامِ متحدہ کے عالمی ادارۂ خوراک کا کہنا ہے کہ اسے ایسی اطلاعات پر ’بہت زیادہ تشویش‘ ہے جن میں شام میں اُس کی جانب سے تقسیم کیے جانے والے خوراک کے پارسلز پر دولتِ اسلامیہ کا لوگو یا علامتی نشان لگا ہوا ہے۔

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی تصاویر ’دیر حف نامی‘ علاقے کی ہیں جہاں گذشتہ سال اگست میں عالمی ادارۂ خوراک نے خوراک تقسیم کی تھی۔

دولتِ اسلامیہ کیا ہے؟

عالمی ادارۂ خوراک کے مقامی کوارڈی نیٹر محمد ہادی نے اس طرح خوراک کی قلت اور طلب کا فائدہ اٹھانے کی شدید مذمت کی ہے۔

انہوں نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ ان تصاویر کی تصدیق کی کوشش کر رہے ہیں۔

عالمی ادراۂ خوراک کے خوراک کے پیکجز شام میں شامی عرب ریڈ کراس پورے ملک میں تقسیم کرتی ہے جس کے ذخیرے پر دولتِ اسلامیہ نے گذشتہ سال ستمبر میں حملہ کیا تھا۔

عالمی ادارۂ خوراک نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کی تصاویر میں دکھائے دینے والے ڈبے وہیں سے چرائے گئے تھے۔

شام میں اب تک اندازوں کے مطابق 65 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جن میں نصف بچے ہیں۔

ملک کے اندر ایک کروڑ 8 لاکھ کے قریب افراد ایسے ہیں جنہیں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے جبکہ 46 لاکھ افراد ایسے علاقوں میں ہیں جن کا محاصرہ کیا گیا ہے اور جن تک رسائی مشکل ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام میں خانہ جنگی کی وجہ سے ملک کی آبادی کا بڑا حصہ اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہے جن میں نصف کے قریب تعداد بچوں کی ہے

عالمی ادارۂ خوراک کے مطابق وہ شام کے اندر 40 لاکھ شامی شہریوں کو امداد فراہم کرتا ہے اور اس کے نصف کے قریب افراد کو شام کے ہمسایہ ممالک میں امداد فراہم کی جاتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شام کے شہر حمہ میں خوارک تقسیم کیے جانے کا مرکز

دیر حف کے علاقے میں جہاں کی یہ تصاویر ہیں، عالمی ادارۂ خوراک نے 8500 افراد کو ایک مہینے کا راشن فراہم کرنے کے لیے خوراک پہنچائی تھی۔

اسی بارے میں