باگا میں بوکو حرام کی ’بربریت‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

افریقی ملک نائیجیریا میں تین جنوری کو باگا اور ڈورن باگا کے علاقوں میں اسلامی شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے حملہ کیا جس میں عورتوں اور بچوں سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی صحیح تعداد معلوم نہیں ہے لیکن کوئی 150 کہتا ہے تو کوئی 2000۔

بی بی سی نے یہ جاننے کے لیے کہ اس دن کیا ہوا تھا اس حملے میں بچ جانے افراد سے چاڈ میں پناہ گزین کیمپ میں ملاقات کی۔

بوکو حرام نے صبح سویرے حملہ کیا

تصویر کے کاپی رائٹ Digital Globe

تین جنوری کو مقامی وقت کے مطابق صبے پونے پانچ بجے زیادہ تر رہائشی عبادت کے لیے جا چکے تھے جب گولیوں کی آوازیں آئیں۔ باگا کے مغربی حصے سے بوکو حرام کے جنگجو قصبے میں داخل ہوئے۔ علاقے کے نوجوانوں نے قصبے کے دفاع کے لیے خنجر اور چاقو اٹھا لیے۔

31 سالہ ہارون محمد نے بتایا ’ہم نے فوجیوں کے ساتھ مل کر جنگجووں کو پیچھے دھکیل دیا۔‘

بوکو حرام کے جنگجوؤں کو پسپا ہونا پڑا۔

20 سالہ داہر عبدالحئی نے بتایا کہ جنگجوؤں نے مختلف قسموں کی وردیاں پہن رکھی تھیں۔ داہر نے بتایا ’ہم سب اکٹھے ہو کر جنگجوؤں سے لڑنے کے لیے باہر نکلے۔‘

داہر نے مزید بتایا کہ ’چند جنگجوؤں نے کالے کوٹ پہن رکھ تھے اور دستار باندھ رکھی تھیں۔‘

جنگجوؤں کی پسپائی پر لڑائی میں کمی آئی اور قصبے کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا۔ لیکن یہ سکھ زیادہ دیر نہ رہا۔

بوکو حرام کا دوبارہ حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ Digital Globe

چند گھنٹوں بعد بوکو حرام کے جنگجوؤں نے باگا قصبے پر دوبارہ حملہ کیا۔ اس بار ان کی نفری بھی زیادہ تھی اور وہ پک اپ ٹرکس اور موٹر سائیکلوں پر سوار حملہ آور ہوئے۔

داہر نے بتایا ’انھوں نے دوبارہ حملہ کیا اور اس بار 20 گاڑیوں پر سوار آئے۔‘

ہر گاڑی سے 10 سے 15 جنگجوؤں نے چھلانگیں لگائیں۔ یہ بتانا ناممکن ہے کہ ان کی تعداد کیا تھی لیکن پناہ گزینوں کا کہنا ہے کہ وہ ’سینکڑوں‘ میں تھے۔

داہر کا کہنا تھا ’جنگجوؤں نے ہم پر فائرنگ شروع کی اور کرتے گئے۔ ہم چونکہ خنجروں اور چاقوؤں سے مقابلہ کر رہے تھے اس لیے ہمیں وہاں سے جانا پڑا۔‘

ہارون محمد نے بتایا کہ دوسرے حملے میں شدت پسندوں کی تعداد بہت زیادہ تھی اور سب لوگ اپنی جان بچانے کے لیے بھاگے۔

لوگوں نے بتایا کہ کس طرح شدت پسند ان نوجوانوں پر چیخے جنھوں نے پہلے ہتھیار اٹھا رکھے تھے۔ وہ چیخ رہے تھے ’بہادر بنو مردو، ہم سے لڑ کیوں نہیں رہے؟‘

شدت پسندوں کی پیش قدمی پر نائیجرین فوجی بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ بہت سارے فوجیوں نے اپنے ہتھیار زمین پر پھینک دیے اور بھاگ گئے۔

دو سالہ بچے کی ماں 20 سالہ سراتو گربا نے بتایا ’فوجیوں کے پھینکے ہوئے ہتھیار مقامی آبادی نے اٹھائے اور شدت پسندوں پر فائرنگ شروع کردی۔ لیکن کچھ دیر بعد شدت پسندوں کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باعث وہ بھی بھاگے۔‘

جب شدت پسند قصبے میں داخل ہوئے تو لوگوں میں افراتفری پھیل گئی۔ لوگوں نے جان بچانے کے لیے ہمسایہ قصبہ ڈورن باگا کا رخ کیا جو چاڈ جھیل کے کنارے واقع ہے۔

ڈورن باگا میں پیچھا

تصویر کے کاپی رائٹ Digital Globe

دوپہر تک بوکو حرام کا حملہ ’ڈھونڈو اور قتل کرو‘ میں بدل گیا تھا اور شدت پسند باگا سے بھاگنے والوں کا پیچھا کر رہے تھے۔

سراتو گربا نے بتایا ’انھوں نے لوگوں کو گولیاں ماریں اور یہاں تک کہ اپنی گاڑیوں کے نتچے روند دیا۔ لاشیں اتنی تھیں کہ گننا ممکن نہ تھا۔‘

پناہ گزینوں نے بتایا کہ انھوں نے مرد، عورتوں اور بچوں کو زمین پر مردہ پڑے دیکھا۔

ڈورن باگا کی سڑکیں لاشوں سے بھری پڑی تھی۔ جب لوگ چاڈ جھیل کے کنارے پر پہنچے تو بوکو حرام والے ان کا پیچھا کر رہے تھے۔

داہر نے بتایا ’جب ہم کشتوں پر سوار ہوئے تو اس وقت بھی شدت پسند ہم پر فائرنگ کر رہے تھے۔ میرے ساتھ بیٹھا شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوا۔‘

کچھ لوگ کشتیوں میں بیٹھ کر گولیوں کی پہنچ سے باہر نکلے اور آس پاس کے جزیروں پر پناہ لی اور شدت پسندوں کے جانے کا انتظار کیا۔ لیکن شدت پسند واپس نہیں گئے۔ رات پڑنے پر پھر فائرنگ کی آوازیں آ رہی تھیں۔

چاڈ جھیل اور فرار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کئی لوگ اپنے گھر والوں کی جان پچانے کے لیے بھاگے اور اسی میں اپنے پیاروں سے بچھڑ گئے۔

کچھ لوگ جنگلوں کی جانب بھاگے اور کئی روز بعد دیگر قصبوں اور شہروں میں پہنچے۔ میڈیسن ساں فرنٹیئرز کا کہنا ہے کہ 5000 افراد باگا سے 162 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بورنو ریاست کے دارالحکومت میدیگری پہنچے۔ دیگر افراد شمال کی جانب چل پڑے اور ہمسایہ ملک نائیجر پہنچ گئے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کا کہنا ہے کہ 15 ہزار افراد چاڈ پہنچے ہیں۔

ہارون محمد اپنی اہلیہ اور بچے سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ ’مجھے نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا مر گئے ہیں۔‘

دعویٰ اور جوابِ دعویٰ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

یہ جاننا ناممکن ہے کہ اس حملے میں کتنے افراد ہلاک ہوئے۔ ایک مقامی سرکاری اہلکار کے مطابق اس حملے میں 2000 افراد ہلاک ہوئے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے۔ لیکن اصل تعداد شاید کبھی معلوم نہ ہو سکے۔

نائیجیریا کی حکومت کسی بھی تعداد کی تصدیق کرنے کو تیار نہیں ہے۔ تاہم فوج نے دو ہزار کی تعداد کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 150 سے زیادہ نہیں ہے۔

بوکو حرام کے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد

اگرچہ باگا میں ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد معلوم نہیں ہے لیکن گذشتہ چھ سالوں میں کیے گئے حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

بوکو حرام کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جو کہ ملک کے شمال مشرقی علاقوں میں زیادہ ہیں۔

اسی بارے میں