طالب علموں کو لیکچرز کے دوران نیند کی سہولت

تصویر کے کاپی رائٹ UEA
Image caption یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کے طالب علم دن میں 40 منٹ کے لیے نیند لینے کی بکنگ کرا سکتے ہیں

برطانیہ کی ایک یونیورسٹی نے لیکچرز کے دوران طالب علموں کو مختصر دورانیے کے لیے نیند پوری کرنے کی سہولت فراہم کی ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا میں سٹوڈنٹ یونین کا کہنا ہے کہ یہ برطانیہ کی پہلی یونیورسٹی ہے جس میں اس طرح کی سہولت دی جا رہی ہے۔

اصل میں یہ تصور ایک امریکی یونیورسٹی سے لیا گیا ہے جہاں طالب علموں کے لیے خصوصی کمرہ تیار کیا گیا جس میں وہ تھوڑی دیر کے لیے نیند لے سکتے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی کے شعبہ سائیکالوجی اس سہولت کا ذمہ دار ہے۔

یونیورسٹی آف ایسٹ انگلیا کے طالب علم دن میں 40 منٹ کے لیے نیند لینے کی بکنگ کرا سکتے ہیں۔

خصوصی طور پر تیار کردہ کمرے کو دوپہر سے شام چھ بجے تک کھولا جائے گا اور اس میں روشنی روکنے والے پردے، صوفہ بستر، تکیے اور دانے دار بیگز موجود ہوں گے۔ سٹوڈنٹ یونین کی عمارت میں بنائے جانے والے اس کمرے کی سی سی ٹی وی کی مدد سے نگرانی کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption یونیورسٹی کے مطابق نیند پوری نہ ہونے سے طالب علموں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے

یونین کی ایک اہلکار ہولی سٹینر کا کہنا ہے کہ طالب علموں کو نیند کی وجہ سے یونیورسٹی کی مصروفیات میں مشکل کا سامنا تھا۔

’نئی سہولت کی وجہ طالب علموں کو دن میں اپنی بیٹریاں ری چارج کرنے یعنی خود کو دوبارہ توانا کر سکیں گے کیونکہ اضافی نیند کے بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ اضافی نیند کی وجہ سے یادداشت میں اضافہ ہوتا ہے اور زیادہ چستی آتی ہے اور سائنسی تجربات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سے تعلیمی کارکردگی پر اچھا اثر پڑتا ہے۔

یونین نے اس کے ساتھ طالب علموں کو نصیحت بھی کی ہے کہ اگر وہ مقرر کردہ دورانیے سے زیادہ دیر کے لیے نیند لینا چاہتے ہیں تو اچھا ہو گا کہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں کیونکہ یہ ہوسٹل نہیں ہے۔

اسی بارے میں