زکریا موساوی کے سعودی شاہی خاندان کے خلاف الزامات

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption ذکریا موساوی کو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا

امریکہ کی ایک جیل میں قید القاعدہ کے سابق کارکن نے سعودی عرب کے شاہی خاندان کے چند ارکان پر الزام لگایا ہے کہ وہ سنہ 1990 کی دہائی میں القاعدہ کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں اور انھوں نے امریکہ میں سعودی سفارت خانے کے ایک رکن سے امریکی صدر کے جہاز کو سٹنگر میزائل کے ذریعے مار گرانے کے منصوبے پر بات چیت بھی کی تھی۔

نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق نیویارک کی ایک عدالت کے جج جارج بی ڈینیل کو جو 11 ستمبر سنہ 2001 کے حملوں میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی طرف سے دائر کردہ ایک درخواست کی سماعت کر رہے ہیں، القاعدہ کے رکن زکریا موساوی نے گذشتہ سال ایک خط ارسال کیا تھا جس میں انھوں نے اس مقدمے میں اپنا بیان ریکارڈ کرنے کی خواہش ظاہر کی تھی۔

اس بارے میں محکمۂ انصاف کے ساتھ طویل بات چیت کے بعد وکلا کی ایک ٹیم کو گذشتہ سال اکتوبر میں جیل میں موساوی کا بیان لینے کی اجازت دی گئی۔

نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی سفارت خانے سے سوموار کی رات کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 11 ستمبر کے حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن نے ان الزامات کی تردید کر دی تھی کہ سعودی حکام یا سعودی حکومت القاعدہ کی مالی معاونت کرتے رہے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موساوی ذہنی طور پر بیمار مجرم ہے اور ان کے اپنے وکلا یہ ثبوت پیش کر چکے ہیں کہ وہ ذہنی توازن کھو چکے ہیں لہٰذا ان کے بیان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر اوباما شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد ایک بہت بڑا وفد لے کر سعودی عرب گئے تھے

زکریا موساوی کی جانب سے یہ الزامات ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب سعودی عرب اور امریکہ کے تعلقات نازک دور سے گزر رہے ہیں اور حال ہی میں سعودی عرب میں شاہ عبداللہ کی وفات کے بعد انتقال اقتدار ہوا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں سنہ 2011 کے بعد عرب ممالک میں سیاسی انتشار کی لہر کے بعد سے اوباما انتظامیہ اور سعودی رہنماؤں کے تعلقات میں تناؤ سا آ گیا تھا۔

موساوی نے سعودی عرب کے موجودہ شاہ سلمان اور شاہی خاندان کے دیگر افراد سے اپنی ملاقاتوں کی تفصیل فراہم کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اسامہ بن لادن کے پیغام ان تک پہنچائے تھے۔

سعودی عرب نے افغانستان میں سویت یونین کے قبضے کے دوران امریکہ کے ساتھ مل کر ’مجاہدین‘ کی بھرپور حمایت کی تھی۔ بعد ازاں یہ ہی مجاہدین القاعدہ کے لیے افرادی قوت حاصل کرنے کا اہم ذریعہ ثابت ہوئے۔

موساوی کے بیان کو اگر قابل یقین قرار دے دیا جاتا ہے تو اس سے سعودی عرب اور القاعدہ کے سنہ 2001 سے پہلے کے تعلقات کی نوعیت کے بارے میں اہم حقائق سامنے آئیں گے۔ امریکہ کی وفاقی عدالت میں پیش کیا جانے والے سو سے زیادہ صفحات پر مشتمل اس بیان میں موساوی ایک پرسکون اور معقول آدمی نظر آئے، گو کہ مخالف وکلا نے ان سے زیادہ سوالات نہیں کیے۔

موساوی سے ملاقات کرنے والے ایک وکیل کا کہنا تھا کہ انھیں موساوی ایک صحیح الدماغ اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والا شخص نظر آئے۔

فرانس میں پیدا ہونے والے موساوی کو 11 ستمبر کے حملوں کے بعد امیگریشن کے قوانین کی خلاف ورزی پر امریکی ریاست منی سوٹا میں گرفتار کیا گیا تھا۔

سنہ 2001 میں وہ ہوا بازی کی تربیت حاصل کرتے رہے تھے اور انھیں جرمنی میں القاعدہ کے ایک سیل کی جانب سے 14,000 ڈالر بھی موصول ہوئے تھے۔ ان شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ وہ بھی ہائی جیکروں میں شامل ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب اور امریکہ کے روایتی طور پر بہت قریبی تعلقات رہے ہیں

جیل میں ریکارڈ کرائے گئے اپنے بیان میں انھوں نے کہا کہ سنہ 1999- 1998 میں انھیں القاعدہ کے رہنماؤں کی جانب سے تنظیم کو مالی معاونت فراہم کرنے والوں کی فہرست مرتب کرنے کو کہا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس فہرست میں سعودی شہزادہ ترکی الفصیل، جو اس وقت سعودی انٹیلی جنس کے سربراہ بھی تھے، سعودی شہزادہ بندر بن سلطان، جو ایک عرصے تک امریکہ میں سعودی سفیر رہے، سعودی شہزاہ الولید بن طلال اور بہت سی سعودی سرکردہ شخصیات شامل ہیں۔

انھوں نے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں کہا: ’شیخ اسامہ ان سب کا ریکارڈ رکھنا چاہتے تھے جو مالی مدد دے رہے تھے۔‘

موساوی نے کہا کہ وہ بن لادن کے ذاتی پیغام رساں بن گئے تھے اور ان کے پیغامات سعودی شہزادوں اور مذہبی رہنماؤں تک پہنچاتے تھے۔

انھوں نے افغانستان میں القاعدہ کے کیمپ میں تربیت حاصل کرنے کی تفصیلات بھی فراہم کیں۔

انھوں نے 750 کلو گرام دھماکہ خیز مواد سے لدے ایک ٹرک کے ذریعے لندن کے امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے مجوزہ منصوبے کی تربیت بھی حاصل کی اور بعد میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنانے کے لیے یہی طریقہ اختیار کیا گیا۔

انھوں نے فصلوں پر چھڑکاؤ کرنے والے طیاروں کے ذریعے دہشت گردی کا حملہ کرنے کے منصوبے پر بھی کام کیا۔

اس کے علاوہ انھوں نے امریکی صدر کے طیارے ایئر فورس ون کو بھی گرانے کے منصوبے پر بھی غور کیا۔

انھوں نے کہا کہ جب سعودی حکام نے قندھار کا دورہ کیا تو اس وقت انھوں نے ان سے ملاقاتیں کی تھیں۔ انھوں نے کہا: ’مجھے ان کے ساتھ واشنگٹن جانا تھا تاکہ ایئر فورس ون کو نشانہ بنانے کے لیے جگہ اور اس کے بعد ممکنہ فرار کے راستے کا تعین کیا جا سکے۔‘

اسی بارے میں