فرانس: انتہا پسندی کی زرخیز زمین

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اگر کوئی شخص کسی انتہا پسند اسلامی گروہ کے لیے نئی بھرتی کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے بہترین جگہ فرانس کی جیلیں ہو سکتی ہیں۔

فرانس کی جیلوں میں قید 70 ہزار قیدیوں میں سے 60 فیصد مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے اور ان کا ماضی اور مجرمانہ ریکارڈ ایسا ہے کہ ان کی اکثریت کو باآسانی انتہا پسندی کی جانب راغب کیا جا سکتا ہے۔

’یہ لوگ تعلیمی ناکامیوں، گھرانوں کی ٹوٹ پھوٹ اور بیروزگاری کے ہاتھوں ٹوٹ چکے ہیں۔ یہ لوگ بہت نازک ہوتے ہیں۔‘

یہ الفاظ ہیں مسلمان رہنما مسوم شاؤی کے جو 17 سال تک ایک جیل میں امام رہ چکے ہیں۔

فرانس کے وہ قیدی جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جیل کے اندر انتہاپسند بن گئے، ان میں ایک نام ایمدی کولیبلی بھی ہے جس کے والدین مالی سے فرانس آئے تھے۔ یہ وہی ایمدی کولیبلی ہے جس نے گذشتہ ماہ پیرس میں ایک پولیس اہلکار اور چار یہودی خریداروں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

ایمدی کولیبلی کو سنہ 2005 میں چوری کے الزام میں قید کی سزا ہو گئی تھی اور دوران قید ہی اس کے رابطے ایسے لوگوں سے ہوئے جنھوں نے اسے جہادی بنا دیا۔

جیل میں اس نے پولیس کے تفتیشی افسران کو بتایا تھا کہ قید کے دوران اس کی ملاقات فرانس کے ایک خطرناک ترین قیدی جمال بگال سے ہوئی تھی۔

جمال بگال کا تعلق القاعدہ سے تھا اور وہ ان دنوں پیرس میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی منصوبہ بندی کے جرم میں یورپ کی سب سے بڑی جیل میں دس سال قید کی سزا کاٹ رہا تھا۔ ایمدی کولیبلی کا کہنا تھا کہ جمال بگال کے ساتھ اس کی دوستی اسی جیل میں ہوئی تھی۔

دوران قید جمال کے علاوہ کولیبلی کا تعارف جمال کے ایک اور پیروکار شریف کواچی سے بھی ہو گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مسوم شاؤی کے 17 سال تک پیرس کے قریب ایک جیل میں امام رہ چکے ہیں۔

رہائی کے بعد یہ تینوں لوگ ایک مرتبہ پھر آپس میں ملے اور ایک دوسرے سے رابطے میں رہے۔

پھر آخرکار کولیبلی، شریف کواچی اور اس کے بھائی سعید کواچی نے مل کر گدشتہ ماہ پیرس میں حملے کیے جن میں 17 افراد ہلاک کر دیے گئے۔

کواچی برادران نے جب چالی ہیبڈو کے دفتر میں حملہ کر کے 12 افراد کو موت کے گھاٹ اتارا، اس وقت دونوں ’اللہ اکبر‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

انٹرنیٹ پر بھرتی

فرانس کی وزراتِ انصاف نے خبردار کیا ہے کہ کولیبلی کے کہانی سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ فرانس کی جیلوں میں شدت پسندی پروان چڑھ رہی ہے۔

وزارت کے ترجمان پیئر رینس کے بقول ’کوئی بھی یہ صحیح طور پر نہیں بتا سکتا کہ آیا کولیبلی جیل کے اندر شدت پسند بنا یا رہائی کے بعد۔‘

مسٹر رینس کا مزید کہنا تھا کہ فرانس کے جیلوں میں دہشتگردی کے الزام میں 167 افراد قید ہیں اور انھیں شدت پسند مسلمان سمجھا جاتا ہے، لیکن ان میں سے صرف 15 فیصد ایسے ہیں جو اس پہلے کسی جرم میں جیل کاٹ چکے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شدت پسند گروہ زیادہ بھرتی جیلوں کی نسبت ذاتی رابطوں یا انٹرنیٹ کے ذریعے کرتے ہیں۔

تاہم اس کے باوجود جنوری میں پیرس میں حملوں کے بعد فرانس کی وزیر انصاف کرسٹین تابیرہ نے یہ اعتراف کیا ہے کہ دوران قید لوگوں کا شدت پسندی کی جانب راغب ہونا ’ایک بڑا مسئلہ‘ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption (دائیں سے بائیں) ایمدی کولیبلی، مہدی، محمد مراح اور خالد کلکال

یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ گذشتہ بیس برسوں میں فرانس میں ہونے والے کئی بڑے حملوں کا الزام ان لوگوں پر لگایا گیا ہے جو کبھی نہ کھبی چھوٹے موٹے جرائم میں جیل جا چکے تھے اور انھوں نے اپنے مذہب کو قید کے دوران ہی دریافت کیا تھا۔

عسکریت پسند اور فرانسیسی جیلیں

خالد کلکال:

الجیریا کی جہادی تنظیم ’جی آئی اے‘ کا رکن اور سنہ 1995 میں فرانس میں ہونے والے ان حملوں کا مرکزی کردار جن میں آٹھ افراد مارے گئے تھے۔ خالد ’لیون‘ کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ مقابلے میں مارا گیا تھا۔ خالد کلکال ایک چھوٹا چور تھا جو سنہ 1990 کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں جیل میں اسلام کی جانب راغب ہوا تھا۔

محمد مراح:

سنہ 2012 میں جنوبی فرانس کے شہر تلوز میں حملہ کر کے تین فوجیوں، تین یہودی بچوں اور ایک یہودی مذہبی رہنما کو ہلاک کرنے والے محمد مراح کا کہنا تھا کہ وہ عسکریت پسندی کی جانب اس وقت راغب ہوا تھا جب وہ چوری کے الزام میں جیل میں بند تھا۔

رہائی کے بعد سنہ 2011 اور 2012 میں وہ افغانستان اور پاکستان چلا گیا تھا جہاں اس نے جہاد کی تربیت حاصل کی تھی۔

مہدی نموچی:

الجیریا میں پیدا ہونے والے اس فرانسیسی پر الزام تھا کہ اس نے مئی 2014 میں بلجیئم کے شہر برسلز میں ایک یہودی عجائب گھر پر حملہ کر کے چار افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ مبینہ طور مہدی نموچی بھی اس وقت شدت پسند بنا جب وہ چوری کے جرم میں جیل میں تھا۔ سنہ2012 میں رہا ہونے بعد وہ ایک سال تک شام میں دولتِ اسلامیہ کے جنگوؤں میں شامل رہا۔

ایمدی کولیبلی:

جنوری 2015 میں ایک پولیس اہلکار اور چار یہودی باشندوں کو قتل کرنے والا ایمدی کولیبلی 17 سال کی عمر سے چوری اور منشیات فروخت کرنے کے جرم میں ایک بار جیل چکا تھا۔ جیل میں ہی سنہ 2005 میں اس کی ملاقات جمال بیگال اور شریف کواچی سے ہوئی تھی۔

جیلوں میں کسی قیدی کے شدت پسندی کی جانب راغب ہونے کے ابتدائی آثار کی نشاندہی کرنا مشکل ہوتا ہے کیونکہ ایسی علامات کسی بھی ایسے شخص میں دیکھی جا سکتی ہیں جو مذہب کی جانب راغب ہو رہا ہوتا ہے۔ ان علامات میں قیدی کا مغربی لباس کی بجائے اسلامی لباس پہننا، ٹی وی دیکھنے سے انکار، متواتر عبادت کرتے رہنا اور حلال کھانے کا مطالبہ شامل ہو سکتا ہے۔

زیادہ واضح اشارے تب ملتے ہیں جب قیدی مشترکہ غسل کے وقت دوسرے قیدیوں کے سامنے بے لباس ہونے سے انکار کر دیتا ہے، دوسرے قیدیوں پر زور دینا شروع کر دیتا ہے کہ وہ اپنی دیواروں سے خواتین کی تصاویر اتار دیں یا وہ جیل کے سنتریوں سے بات چیت بند کر دیتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ایمدی کولبیلی کے دیگر جہادیوں سے رابطے اس وقت استوار ہوئے جب وہ یورپ کی سب سے بڑی جیل میں قید تھا

کریم مختاری مسلح ڈاکے کے جرم میں چھ سال کی جیل کاٹ چکے ہیں اور اب وہ جیل میں کم عمر مجرموں کی بحالی کا کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بتا سکتے ہیں کہ کوئی قیدی کس وقت شدت پسندی کی جانب راغب ہو رہا ہے۔ کریم مختاری کے خیال میں شدت پسندی کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب قیدی کے ذہن میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ بہت مظلوم ہے۔

کریم مختاری کے بقول ’یہ لوگ کہتے ہیں کہ فرانسیسی ہمیں کبھی اچھا بننے کا موقع ہی نہیں دیتے۔ فرانسیسی ہم سے نفرت کرتے ہیں۔وہ ہمیں جیلوں میں بند کر دیتے ہیں۔ ان لامذہب لوگوں کا کوئی ایمان نہیں ہے۔ مجھے اپنے کسی کیے کی معافی نہیں مانگنی کیونکہ یہ لوگ میری بات سنتے ہی نہیں۔‘

کریم مختاری کہتے ہیں کہ کچھ قیدیوں میں احساس مظلومیت اور غصہ ’ کافروں کے خلاف جنگ‘ کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اس کے بعد آپ کی تقریریں سننے کے لیے جیل میں کئی سامعین مل جاتے ہیں جنھیں آپ بتاتے ہیں یہ جنگ ’ہمارے اور کفر‘ کے درمیان ایک جنگ ہے۔

جیل کے اہلکاروں کی مرکزی یونین کے صدر اور سکیورٹی گارڈ ڈیوڈ ڈیمز کا کہنا ہے کہ ’جیل میں پڑے ہوئے لوگوں کے ذہنوں کو خراب کرنا بہت آسان ہوتا ہے کیونکہ وہ اسی قسم کی باتیں سننا چاہتے ہیں۔‘

لیکن مسٹر ڈیمز کہتے ہیں کہ ان باتوں کا اثر لینے والے ساری قیدی ضروری نہیں کہ مسلمان ہی ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ انھوں نے دیکھا کہ ایک ایسا قیدی جو فرانس کا مقامی باشندہ تھا ان کی آنکھوں کے سامنے بنیاد پرست بن گیا۔ ’ سب سے پہلے اس نے اسلام قبول کیا۔ جلد ہی اس نے داڑھی رکھ لی اور اسلامی چوغہ پہننا شروع کر دیا۔ پھر اس کی گفتگتو اور زبان میں غصہ بڑھنا شروع ہو گیا اور اس نے جیل کی خواتین اہلکاروں کو منہ لگانا چھوڑ دیا۔ بات یہی ختم نہیں ہوئی بلکہ ایک دن اس نے خود ہی اپنے ختنے کر لیے۔‘

جیل کی خاص کھوڑریاں

صبح کی ورزش کا وقت جیل کی زندگی کا ایک پہلو ایسا ہے جہاں آپ کو دوسرے قیدیوں پر اثرانداز ہونے اور انہیں اپنے مذہبی اور سیاسی خیالات کا حامی بنانے کا موقع ملتاہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب قیدیوں کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ کھلے میدان میں گھومیں پھریں اور جس سے چاہیں گپ شپ کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption فریسنیس جیل میں تجرباتی بنیادوں پر عسکریت پسند قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ رکھا جا رہا ہے

کئی مرتبہ دیکھاگیا ہے کہ جیل میں موجود شدت پسند تبلیغی قیدی اس وقت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اور جیل کے قوانین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اجتماعی عبادت یا باجماعت نماز پڑھانا شروع کر دیتے ہیں۔

جیل کے قوانین کے مطابق آپ جیل میں مخصوص کمرے کے علاوہ کسی دوسری جگہ پر عبادت نہیں کر سکتے، لیکن جب کوئی نام نہاد ملا، بغیر کسی کو بتائے، یکدم کھڑے ہو کر نماز پڑھانا شروع کر دے تو جیل حکام عموماً کچھ نہیں کر سکتے۔

مسٹر ڈیمز کا کہنا تھا کہ سنتریوں کے ہاتھ میں کبھی بندوق نہیں دی جاتی اور ورزش کے وقت سنتری میدان میں قدم بھی نہیں رکھ سکتے۔’جب میدان میں سات آٹھ سو قیدی جمع ہوں، تو ایسے میں سنتریوں کا وہاں ہونا بہت خطرناک ہو سکتا ہے۔‘

جو قیدی جیل میں عبادت کے قوانین سے انحراف کرتے ہیں انہیں سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

گذشتہ ماہ وزارت انصاف نے ملک کی جیلوں میں شدت پسندی کے مسئلے پر قابو پانے کے لیے نئے منصوبوں کا اعلان کیا ہے جن میں جیل کے عملے کی تعداد بڑھانے اور اگلے تین سالوں میں مسلمان اماموں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ کرنے کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

لیکن شہ سرخیوں میں جس بات کا ذکر سب سے زیادہ ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ جیل میں پانچ ایسے ونگز یا کمرے تعمیر کیے جائیں گے جہاں دہشتگردی کے مرتکب مجرموں کو سب سے الگ رکھا جائے گا۔

یہ فیصلہ جنوبی فرانس میں ’فریسنیس‘ کی جیل میں گذشتہ ستمبر سے جاری ایک تجربے کی بنیاد پر کیا ہے جہاں 20 انتہاپسند قیدیوں کو دیگر قیدیوں سے الگ تھلگ رکھا جا رہا ہے اور انھیں دوسرے قیدیوں سے ملنے کا بہت کم موقع دیا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption ورزش کے اوقات میں جیل کے اہلکار میدان میں قدم رکھنے کا بھی نہیں سوچ سکتے

وزارت دفاع کے ترجمان پیئر رینس کا دعویٰ ہے کہ اس تجربے کے دلچسپ نتائج سامنے آئے ہیں۔ اس جیل میں اب ’دیگر مسلمان قیدی اپنی معمول کی زندگی گزار رہے ہیں، خاص طور پر مشترکہ غسل اور دیواروں پر خواتین کی تصاویر پر انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ شدت پسند قیدیوں کو الگ کرنے کے بعد سے جیل کا ماحول بالکل بدل گیا ہے۔‘

کمزور دل جہادی

لیکن ہر کوئی اس نئے تجربے کے نتائج کا قائل نہیں ہوا ہے۔ جیل اہلکاروں کی یونین کا کہنا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں سے ہر حکومت اس مسئلے کو نظرانداز کرتی رہی ہے اور موجودہ حکومت نے بھی جو اقدامات اٹھائے ہیں وہ ناکافی ہیں۔

یونین کے ترجمان ڈیوڈ ڈیمز کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو الگ کرنے کے قانون کا اطلاق صرف ان قیدیوں پر کیا جا رہا ہے جو دہشتگردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کے بعد جیل پہنچے ہیں، لیکن جیل اہلکاروں کا خیال ہے کہ ایسے شدت پسند جو کسی دوسرے جرم میں قید میں ہیں، وہ بھی اتنے ہی زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔

ترجمان کے علاوہ کریم مختاری بھی حکومت کی نئی پالسیی سے مکمل اتفاق نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسندی کے کئی مدارج ہوتے ہیں۔ ان کے بقول کئی فرانسیسی نوجوان ایک ہیرو جیسی شہادت کے شوق میں عراق اور شام گئے تھے، لیکن انہیں وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ ایک جہادی کی زندگی ایسی نہیں ہوتی جیسی انھیں بتائی گئی تھی۔

’ان نوجوان جنگجوؤں میں سے کئی ایک نے اپنے گھر والوں کو شکایت کی کہ عراق اور شام میں ’میرا آئی پیڈ کام نہیں کر رہا۔ میں یہاں سے واپس جانا چاہتا ہوں۔‘

لیکن جب ایک مرتبہ جہاد کے شوقین یہ نوجوان واپس فرانس پہنچ جاتے ہیں تو انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کی نظر میں وہ ایک سنگین جرم کر چکے ہوتے ہیں اور انہیں ایسے جنگجو کے طور پر ہی لیا جاتا ہے جو میدان جنگ سے واپس آیا ہے۔

مسٹر مختاری کے بقول ’اس کے بعد ہوتا یہ ہے کہ ان کمزور دل جوانوں کو جیل میں بند کر دیا جاتا ہے جہاں ان کا پالا پکے جنگجوؤں سے پڑتا ہے اور وہ جیل کے اندر ’پہلے سے زیادہ پکے جہادی بن جاتے ہیں۔‘

انسدادِ جرائم کے ماہر الین بور کے بقول ’جب آپ عسکریت پسندوں کو ایک جگہ جمع کریں گے تو انھیں تقویت ملے گی۔لیکن جب آپ نے انھیں اِدھر اُدھر بکھیر دیں گے تو انہیں موقع مل جائے گا کہ نئے جہادیوں کو اپنی صفوں میں بھرتی کرنا شروع کر دیں۔‘

اس کا مطلب یہی ہے کہ جیلوں میں کسی ایسے نظام کو متعارف کرانا کہ جس میں انتہا پسندی کو مکمل روکا جا سکے، جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔

اسی بارے میں