یوکرین بحران: سریع الحرکت نیٹو فورس کا قیام متوقع

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روس کی یوکرین میں جارحیت کے باعث نیٹو ممالک کی سکیورٹی میں ’بنیادی تبدیلی‘ واقع ہوئی ہے

جمعرات کو بیلجیئم کے شہر برسلز میں ہونے والے نیٹو کے اجلاس میں توقع کی جا رہی ہے کہ یوکرین میں جاری لڑائی کے پیش نظر مشرقی یورپ میں فوجی موجودگی کو مزید مستحکم کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا جائے گا۔

نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد دفاعی حوالے سے یہ سب سے بڑا مشترکہ اور مربوط منصوبہ ہو گا۔

دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ جان کیری کیئف میں بات چیت کریں گے۔

یہ بات چیت ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکہ یوکرین کو روسی حمایتی باغیوں سے لڑنے کے لیے ہتھیار فراہم کرنے کے منصوبے پر غور کر رہا ہے۔

ابھی تک امریکہ یوکرین کو ’غیر مہلک‘ امداد دے رہا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے سیکریٹری دفاع کے عہدے کے لیے نامزد کیے جانے والے ایشٹن کارٹر نے بدھ کو کہا تھا کہ وہ یوکرین کو ہتھیار فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔

نیٹو کے وزرائے دفاع جمعرات کو ہونے والے اجلاس میں مشرقی یورپ میں فوجی قوت بڑھا کر نیٹو ممالک کو سکیورٹی کی یقین دہانی کرائیں گے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اس میں پانچ ہزار اہلکاروں پر مشتمل ریپڈ رسپانس فورس کے قیام کا اعلان کیا جائے گا جو دو دن میں کسی بھی نیٹو ملک میں تعینات کی جا سکتی ہے۔

نیٹو کے سربراہ کا کہنا ہے کہ روس کی یوکرین میں جارحیت کے باعث نیٹو ممالک کی سکیورٹی میں ’بنیادی تبدیلی‘ واقع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں