کینیڈا میں بھی ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی مرنے کا حق

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock
Image caption ڈاکٹرز کے تعاون سے کی جانے والی خود کشی کئی یورپی ممالک اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں قانونی ہے

کینیڈا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا ہے کہ ڈاکٹرز شدید نوعیت اور لا علاج امراض میں مبتلا لوگوں کی مرنے میں مدد کر سکتے ہیں۔

اس فیصلے سے سنہ 1993 میں عائد کی گئی پابندی ختم ہو گئی ہے۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ یہ قانون کینیڈا میں انسانی حقوق سے متصادم تھا۔

یہ مقدمہ شہری حقوق کے ایک گروپ نے دو خواتین کی جانب سے دائر کیا تھا۔ کے کارٹر اور گلوریا ٹیلر موذی بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ یہ دونوں اس مقدمے کے دوران ہی انتقال کر گئی تھیں۔

اب حکومت کے پاس ایک برس کا وقت ہے کہ وہ اس طرح کی مدد سے کی جانے والی خودکشی کے لیے دوبارہ قانون سازی کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو موجودہ قانون ہی لاگو ہو گا۔

ڈاکٹرز کے تعاون سے کی جانے والی خود کشی کئی یورپی ممالک اور امریکہ کی بعض ریاستوں میں قانونی ہے۔

مقدمہ قائم کرنے والے تنظیم برٹش کولمبیا سول لبرٹیز ایسوسی ایشن کے گریس پیسٹن کا کہنا ہے ’یہ ایک ناقابلِ یقین دن ہے۔ ایک معالج کے زیرِ نگرانی مرنے کے عمل کو پہچان لیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسی طبی خدمت ہے جس میں آپ لوگوں کی ناقابلِ برداشت تکلیف کو ختم کرتے ہیں۔‘

عدالت فیصلے کے مطابق ڈاکٹرز کی جانب سے خودکشی کے لیے تعاون صرف انہی مریضوں کے لیے ہوگا جو بالغ ہوں گے اور ان کی لاعلاج بیماری کے باعث ان کی ناقابلِ برداشت تکلیف ختم مقصود ہوگا۔

کے کارٹر اور گلوریا ٹیلر کے وکلا کا کہنا تھا کہ یہ پابندی ان کے موکلوں کے لیے معتصبانہ ہے کیونکہ وہ ڈاکٹرز کی مدد کے بغیر اپنی جان نہیں لے سکتیں۔

ٹیلر کا انتقال سنہ 2012 میں ہو گیا تھا جبکہ کارٹر ریڑھ کی ہڈی کے مرض کے باعث سنہ 2010 میں انتقال کر گئی تھیں۔

اسی بارے میں