اردنی پائلٹ کی ویڈیو، فوکس کی وضاحت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption فوکس نیوز نے پائلٹ کو جلائے جانے کی مکمل ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر شائع کی

امریکی نیوز ٹیلی وژن فوکس نیوز کے منتظمین کا کہنا ہے کہ بحیثیت صحافی اپنے فرائض پورے کر رہے ہیں البتہ دوسرے لوگ ہمارے ایک شخص کو زندہ جلائے جانے کی ویڈیو نشر کرنے کے فیصلے پر خوفزدہ ہیں۔

اردن کے پائلٹ فرسٹ لیفٹیننٹ معاذ الکساسبہ کو جس وقت دولتِ اسلامیہ کے ارکان نے زندہ جلایا تو اس وقت وہ ایک پنجرے میں قید تھے۔ ان کی زندگی کے آخری لمحات پر مبنی یہ ویڈیو 22 منٹ پر محیط ہے۔

مغربی میڈیا نے اس خبر کو ویڈیو کی زبانی تفصیل بتا کر ہی رپورٹ کیا۔ کئی لوگوں نے فوکس نیوز کے چیف اینکر شیفرڈ سمتھ ہی کا نظریہ اپنایا۔

سمتھ نے اس ویڈیو کے بارے میں تاثرات دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ بیشتر ناظرین اس ویڈیو کو دیکھنا نہیں چاہیں گے۔

لیکن بعض میزبان اس سے بھی آگے چلے گئے۔ منگل کو فوکس نیوز کے اینکر بریٹ بیئر نے پروگرام ’سپیشل رپورٹ‘ میں اس ویڈیو کے مناظر دکھائے۔

انھوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ آپ کو یہ دیکھنا چاہیے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دولتِ اسلامیہ کی شدت پسندی کی انتہا سمجھنے کے لیے یہ مناظر دیکھنا ضروری ہیں۔

فوکس نیوز نے یہ مکمل ویڈیو اپنی ویب سائٹ پر شائع کی۔ تاہم اس ویڈیو پر ایک تنبیہہ موجود ہے جس میں کہا گیا ہے کہ یہ دولتِ اسلامیہ کی جانب سے ایک یرغمالی کو زندہ جلانے کے بارے میں ہے۔

فوکس نیوز کے ایک ایگزیکٹیو ایڈیٹر جان موڈی نے یہ ویڈیو نشر کرنے کی توجیہہ کچھ یوں پیش کی: ’بہت محتاط انداز میں سوچنے کے بعد ہم نے فوکس نیوز ڈاٹ کام کے قارئین کو یہ اختیار دیا کے وہ اس ویڈیو میں دولتِ اسلامیہ کی بربریت کو مکمل دیکھ سکتے ہیں۔‘

’آن لائن صارفین اس ویڈیو کو دیکھنے یا نہ دیکھنے کے فیصلے کا اختیار رکھتے ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ٹوئٹر پر لوگوں نے لیفٹیننٹ الکساسبہ کی ایسی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں

بعض لوگ فوکس کے فیصلے سے متفق ہیں۔ گلین بیک پہلے تو اس ویڈیو کو اپنی ویب سائٹ ’دی بلیز‘ پر شائع کرنے کے حق میں نہیں تھے لیکن پھر انھوں نے فیصلہ تبدیل کر دیا۔ ان کے بقول یہ بہت اہم ہے کہ انسانیت کے دشمنوں کے بارے میں دنیا کو بیدار کیا جائے۔

بیک کا کہنا ہے ’یہودی، مشرک، روایتی، ہم جنس پرست، کالے، گورے، مغربی، مشرقی، لادین، عیسائی یا مسلمان، یہ وقت ہے کہ آپ پہچانیں کہ آپ کس کے خلاف ہیں۔ اس کی آنکھوں میں دیکھیں اور اسے اس کے نام سے پکاریں جو برائی ہے اور انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔‘

لیکن کئی دوسری میڈیا تنظیموں کے منتظمین نے لیفٹیننٹ الکساسبہ کی موت کی ویڈیو نشر نہ کرنے کا فیصلہ کیا جیسے کہ بی بی سی کا فیصلہ ہے کہ وہ نہ تو ویڈیو دکھائے گی اور نہ ہی سوشل میڈیا اور دیگر ویب سائٹس جہاں یہ ویڈیو موجود ہے ان کے لنکس شائع کرے گی۔

لوگوں کی اکثریت نے فوکس نیوز پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ اس نے دولتِ اسلامیہ کو پلیٹ فارم مہیا کیا۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کے ولیم کوانڈٹ کا کہنا ہے ’میں حیران ہوں کہ فوکس نیوز نے ویڈیو دکھائی۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں ہر خوفناک تفصیل دکھانی چاہیے۔میرا خیال ہے کہ یہ ایک طرح سے دہشت گردوں کے ہاتھ میں کھیلنا ہوا۔‘

نوٹنگھم کے ایک مصنف لی کرٹس نے ٹویٹ کیا کہ فوکس نیوز کا فیصلہ ’انتہائی شرمناک‘ ہے۔

ٹوئٹر پر لوگوں نے لیفٹیننٹ الکساسبہ کی ایسی تصاویر پوسٹ کی ہیں جن میں وہ اپنے دوستوں کے ساتھ وقت گزار رہے ہیں اور مسکرا رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹر صارف ماجد نواز جو خود کو ایک مصنف قرار دیتے ہیں پائلٹ کی ہلاکت کے مناظر کی تصاویر کے استعمال پر کافی نالاں ہیں۔ ’آپ کو زندہ جلائے جانے والے اردن کے ہیرو معاذ الکساسبہ کی تصویر ٹویٹ کرنے کے لیے چاہیے؟‘ انھوں نے ایک تصویر پوسٹ کی اور اس کے ساتھ لکھا ’اسے استعمال کریں نہ کہ دولتِ اسلامیہ کہ پروپیگنڈہ کو۔‘

یہ تصویر ایک ہزار سے زائد مرتبہ ری ٹویٹ کی گئی۔

ایک دوسرے صارف کی جانب سے پوسٹ کی گئی تصویر بھی ری ٹویٹ ہوئی جس کے ساتھ لکھا گیا کہ ’ہمیں یہ مسکراہٹ شیئر کرنی چاہیے نہ کہ دولتِ اسلامیہ کی دہشت ناکی۔‘

اسی بارے میں