’فضائی حملے تو اردن کے انتقام کا صرف آغاز ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اردنی طیاروں نے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے کچھ تربیتی مراکز اور اسلحہ خانوں کو نشانہ بنایا

اردن کے وزیرِ خارجہ ناصر جودہ نے کہا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف اردنی فضائیہ کے حملے تو اردن کے مغوی پائلٹ کے ’انتقام کا صرف آغاز ہیں۔‘

امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں ’ہم اپنا سب کچھ لگا رہے ہیں۔‘

دولتِ اسلامیہ کیا ہے: خصوصی ویڈیو رپورٹ

دولتِ اسلامیہ کی جانب سے منگل کی شام انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی ایک ویڈیو میں بظاہر دکھایا گیا تھا کہ مغوی پائلٹ معاذ الکساسبہ کو زندہ جلایا گیا۔

معاذ الکساسبہ کو دسمبر میں الرقہ کے علاقے سے اس وقت پکڑا گیا تھا جب ان کا جہاز دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔

اردن کے بادشاہ عبداللہ نے اپنے عوام سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ معاذ الکساسبہ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

اس سے قبل اردن صرف شام میں دولتِ اسلامیہ کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بناتا رہا ہے لیکن اردنی وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ اب کارروائی کا دائرہ عراق تک پھیلا دیا گیا ہے۔

جمعرات کو دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بعد واپسی پر جنگی جہازوں نے معاذ الکساسبہ کے گاؤں کے اوپر پرواز کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا تھا کہ معاذ کا خون رائیگاں نہیں جائے گا

اس وقت بادشاہ عبداللہ بھی معاذ کے اہلخانہ سے اظہارِ افسوس کے لیے وہاں موجود تھے۔

سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی فوٹیج کے مطابق بادشاہ عبداللہ افسردہ چہرے کے ساتھ معاذ کے اہلخانہ اور دیگر افراد کے ساتھ بیٹھے ہیں۔ اسی دوران جب جنگی جہاز گاؤں کے اوپر سے گزرے تو بادشاہ عبداللہ نے آسمان کی جانب دیکھا۔

معاذ کے والد سیف الکساسبہ نے تعزیت کے لیے آنے والوں کو بتایا کہ جنگی جہاز شام کے علاقے الرقہ میں دولتِ اسلامیہ کو ہدف بنانے کے بعد واپس لوٹے ہیں۔ الرقہ کو دولتِ اسلامیہ کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

امریکی چینل فوکس نیوز کو ایک علیحدہ انٹرویو میں اردن کے وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ ’ہم کہہ رہے ہیں کہ ہم اسے انجام تک پہنچائیں گے۔ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ہم ان کا پیچھا کریں گے اور ہم یہ کر رہے ہیں۔‘

ناصر جودہ نے تصدیق کی کہ اردنی طیاروں نے عراق اور شام دونوں ممالک میں شدت پسندوں کے کچھ تربیتی مراکز اور اسلحہ خانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

جمعرات کو ہونے والے حملوں کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’آج عراق سے زیادہ شام میں کارروائی ہوئی لیکن یہ ایک جاری رہنے والا عمل ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حملوں میں استعمال ہونے والے میزائلوں پر عوام نے پیغامات بھی لکھے ہیں

اردن کی فوج کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق درجنوں جنگی جہازوں نے دولتِ اسلامیہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان ٹھکانوں میں ایک تربیتی مرکز اور ایک اسلحے کا ایک گودام بھی شامل ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ’فضائی کارروائیاں تو ابھی ابتدا ہیں۔‘

تاہم الرقہ میں دولتِ اسلامیہ کے مخالف کارکنوں کے مطابق شہر میں اتحادی افواج کے جنگی جہازوں نے کوئی کارروائی نہیں کی۔

اردن کے سرکاری ٹی وی پر یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ لوگ ان میزائلوں پر پیغام تحریر کر رہے ہیں جنھیں ان حملوں میں استعمال کیا گیا۔ ایسے ہی ایک پیغام میں دولتِ اسلامیہ کو اسلام کا دشمن کہا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اردن کے شاہ عبداللہ نےعوام سے اس شدت پسند تنظیم کے خلاف سخت جوابی کارروائی کرنے کا وعدہ کیا تھا

بدھ کی صبح ہی اردن نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں اپنے ایک پائلٹ کی ہلاکت کے بعد ایک خاتون سمیت دو مجرموں کو پھانسی دے دی تھی۔ سزائے موت پانے والوں میں ساجدہ الرشاوی شامل ہیں جن کی رہائی کا مطالبہ دولت اسلامیہ نے کیا تھا۔

ادھر امریکی فوج نے کہا ہے کہ امریکی قیادت میں اتحادی افواج کے طیاروں نے بدھ کی رات سے جمعرات کی صبح تک عراق میں نو اور شام میں تین اہداف کو نشانہ بنایا ہے۔

جوائنٹ ٹاسک فورس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان حملوں میں شامی شہر کوبانی کے نواحی علاقے کے علاوہ فلوجہ، کرکوک اور موصل سمیت سات عراقی شہروں میں حملے کیے گئے ہیں۔

اسی بارے میں