’بھارت میں اچھے دن اب بس آ گئے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption جندل صاحب چیخ چیخ کر یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ انہیں انڈین امریکن نہیں کہا جائے

بھارت کے ساتھ لین دین بڑھانے کی باتیں کر کے صدر اوباما کو واشنگٹن واپس آئے مشکل سے ہفتہ گزرا ہے۔

لیکن میرا اندازہ ہےکہ بھارت میں اچھے دن اب بس آ گئے اور وہ بھی نہ تو صدر اوباما کی وجہ سے اور نہ ہی ان کی وجہ سے جن کے ساتھ وہ ’من کی بات‘ کر کے لوٹے ہیں۔

اس کے پیچھے براہ راست ہاتھ ہے بھارتی نژاد ہندو ماں باپ سے پیدا ہوئے لوزیانا کے گورنر بابی جندل کا جو پیدا ہوئےتھے پيوش جندل لیکن ہائی سکول تک پہنچتے پہنچتے اپنا مذہب تبدیل کر کے ہوگئے بابی جندل۔ بیچارے ماں باپ اب بھی ہندو ہیں۔

یہ سب تو ٹھیک ہے، اس میں ہندوستان کے اچھے دن کہاں سے آ گئے؟ بس ایک ایجاد کی وجہ سے اور وہ ہے فیئر اینڈ ہینڈسم!

جندل صاحب کو صحیح معنوں میں خود کو امریکی کہلانے کی ایسی خواہش ہے کہ ان کی ایک پینٹنگ میں انہیں بالکل گورا اور وہ بھی بالکل جسے ہم گورا کہتے ہیں نہ ویسا ہی دکھایاگیا ہے۔ اشتہارات کی مانیں تو ’جلد میں دودھ جیساگوراپن‘ تو’ فیئر اینڈ ہینڈسم‘ سے ہی ممکن ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ’بھارت میں یہ تبدیلی صدر اوباما کے دورے کے بعد نہیں آئی ہے‘

تو نظر ركھیےگا، آپ کے پڑوس کی دکان سے ’ فیئر اینڈ ہینڈسم‘ غائب ہونے کو ہے کیونکہ اس کی کھیپ کی کھیپ اب لوزیانا پہنچےگی اور ہندوستان میں ڈالروں کی برسات ہوگی۔’فیئر اینڈ ہینڈسم‘ کے حصص آسمان چومیں گے کیونکہ پینٹنگ کے جیسا نظر آنے کے لیے جندل صاحب فیئر اینڈ ہینڈسم کا ہی تو سہارا لیں گے۔

تو ’میک ان انڈیا فار لوزیانا ‘ کا راگ الاپنا شروع کیجیئے۔ اور پلیز، لوزیانا کو لدھیانہ مت لکھ دیجیئے گا، جندل صاحب کی شان میں گستاخي کر دیں گے آپ۔

خیر، جب ان کی یہ بالکل گلابی گورے رنگت والی پینٹنگ سوشل میڈیا پر آئی تو انٹرنیٹ ریکارڈ ٹوٹنے کو آیا۔ اب لوگ تو جاہل ہیں، جندل صاحب کے دل کی بات سمجھے بغیر مذاق اڑانے لگے سوشل میڈیا پر۔ ان کی پبلسٹی ٹیم نے کہا کہ یہ پینٹنگ انہوں نے خود نہیں بنوائی ہے بلکہ ان کے کسی چاہنےوالے نے بنا کر دی ہے۔

اور پھر ایک نئی پینٹنگ جاری کی گئی جس میں ان کا رنگ ایسا لگ رہا ہے جیسے کوئی گورا انسان تھوڑی سی دھوپ کھا کر لوٹا ہو۔

دراصل جندل صاحب اس بار رپبلكن پارٹی کی طرف سے صدارتي امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ آپ دیسی ٹی وی چینلز کی طرح چیخنا شروع کر دیں کہ ’ایک انڈین اب وائٹ ہاؤس کی ریس میں‘ میں آپ کی امیدوں پر اس ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈا پانی ڈال دیتا ہوں۔

کیونکہ جندل صاحب چیخ چیخ کر یہ بھی اعلان کر رہے ہیں کہ انہیں انڈین امریکن نہیں کہا جائے، صرف امریکن کہا جائے۔ ان کی ریاست کی ایک ہندوستانی نژاد خاتون نے مجھے بتایا تھاکہ گورنر ہونے کے باوجود وہ ہولی، دیوالی، عید، محرم کے موقع پر دیسيوں کے آس پاس نظر آنا پسند نہیں کرتے۔

اور تو اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف ایسا جہاد چھیڑا ہےکہ پروین توگڑیا بھی شرما جائیں گے۔ پہلے تو انہوں نے کہا کہ یورپ میں کئی ایسے علاقے ہیں جن پر مسلمانوں نے قبضہ کر ليا ہے اور وہاں شرعی قوانین نافذ ہیں اور امریکہ میں بھی وہی حال ہونے والا ہے۔ مسلمان گھل مل کر نہیں رہتے کیونکہ ان کاایجنڈا خاموشی سے امریکہ کو اسلامی ملک بنانا ہے۔

اس بات کا کوئی ثبوت نہیں پیش کر پائے تو کیا ہوا، جس عیسائی طبقے کو وہ لبھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہاں تو وہ ہیرو بن گئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption ے لوزیانا کے گورنر بابی جندل کا جو پیدا ہوئےتھے پيوش جندل لیکن ہائی سکول تک پہنچتے پہنچتے اپنا مذہب تبدیل کر کے ہوگئے بابی جندل

ان دنوں وہ ایسے اداروں کے آس پاس نظر آ رہے ہیں جن کا نعرہ ہے کہ جو امریکہ آئے وہ عیسائی بن جائے تبھی صحیح معنوں میں وہ امریکی کہلائے گا۔

ویسے مجھے سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی ہے کہ جندل صاحب کس کے مشورے پر چل رہے ہیں۔ اپنے کلاس کے ٹاپر تھے، روڈز سكالر ہیں اور چند برس پہلے تک انہیں رپبلكن پارٹی کے اوباماکی طرح دیکھا جا رہا تھا۔

تھوڑا سا حساب کتاب لگاتے تو نظر آ جاتا کہ امریکہ میں صرف ایک طبقے کے ووٹ سے صدر بننا تو دور کی بات اپنی پارٹی کی امیدواری ملنے کی بھی امید نہیں کی جا سکتی۔

امریکہ میں بات نہیں سمجھ میں آ رہی ہو تو ہندوستان میں ہی دیکھ لیتے۔ گجرات کے مودي جي اور دہلی کے مودي جي میں جو فرق ہے، اس کی باریک بینی ذرا سمجھ لیں تو بس چاندی ہی چاندی ہے۔ چھوٹا سا منتر ہے’سب کا ساتھ سب کی ترقی‘ دن بھر رٹیے اور پھر ووٹ بٹوریے۔

اسی بارے میں