بغداد میں 12 سال بعد کرفیو ختم کیے جانے پر جشن

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سے قبل نصف شب 12 بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان بغداد میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوا کرتی تھی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ 12 سال سے نافذ کرفیو کے ہٹائے جانے پر لوگوں نے جشن منایا۔

سماجی رابطے کی سائٹوں پر جاری کی جانے والی تصویروں میں لوگوں کو سڑکوں پر ناچتے گاتے دکھایا گیا ہے۔

12 سال سے جاری یہ پابندی مقامی وقت کے مطابق نصف شب کو ہٹائی گئی۔

عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی نے کہا کہ انھوں نے ’بغداد میں زندگی کو معمول پر لانے کے لیے یہ فیصلہ کیا ہے۔‘

یہ فیصلہ سنیچر کو ہونے والے ایک سلسلے وار بم حملے کے باوجود کیا گیا ہے۔ ان بم دھماکوں میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لوگوں نے سوشل میڈیا پر کرفیو ہٹائے جانے کے مناظر پیش کیے

اس سے قبل نصف شب 12 بجے سے صبح پانچ بجے کے درمیان بغداد میں لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی ہوا کرتی تھی۔

اس پابندی کے ہٹائے جانے کے بعد بغداد میں لوگ سڑکوں پر پرچم لے کر نکل آئے اور کار کے ہارن بجا کر اس کا جشن منایا۔

ایک کیفے کے مالک فائز عبداللہ نے کہا ’پہلے ہمیں ایسا لگتا تھا جیسے ہم قید میں ہوں۔ ہم محدود تھے۔‘

جبکہ ایک دکان کے مالک مروان ہاشم نے کہا: ’ہم اس فیصلے کے برسوں سے منتظر تھے۔‘

واضح رہے کہ رات کا کرفیو سنہ 2003 میں امریکی حملے کے بعد سکیورٹی وجوہات کی بنا پر نافذ کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption اس فیصلے سے قبل ہی بغداد میں ایک ریستوراں کے پاس خودکش دھماکے میں کم از کم 22 افراد ہلاک ہوئے تھے

خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مسٹر عبادی کے دفتر کے ایک اہلکار نے کہا کہ ’ملک میں جنگی صورت حال کے باوجود یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔

عراق کے متعدد شہروں کے لیے بم دھماکے روزانہ کا معمول ہیں جبکہ وہاں دولت اسلامیہ سے خطروں کا سامنا بھی ہے جنھوں نے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کر رکھا ہے۔

گذشتہ روز ہونے والے بم دھماکوں میں سے ایک کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اطلاعات کے مطابق اس حملے میں 22 افراد ہلاک ہوئے جب ایک خودکش نے ایک ریستوراں کے سامنے خود کو اڑا لیا۔

اسی بارے میں