عراق واقعے پر این بی سی اینکر عارضی طور پر پروگرام سے علیحدہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’میں نے 12 سال پرانا واقعہ سناتے ہوئے غلطی کی۔ میں اس پر معذرت کرتا ہوں‘

امریکہ کے مشہور نیوز اینکرز میں شمار ہونے والے این بی سی کے برائن ولیئمز نے عراق میں خود پر ہونے والی فائرنگ کے غلط دعوے پر اپنے کام سے عارضی طور پر علیحدگی کا اعلان کیا ہے۔

اس سے قبل بدھ کو انھوں نے اپنے ناظرین سے اس کے متعلق معافی مانگی تھی۔

ولیمز نے کہا ہے کہ اس قدر خبروں کا حصہ ہونا ان کے لیے ’بظاہر تکلیف‘ دہ ہو چکا ہے۔

انھوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ جب تک ان کے دعوے کے بارے میں جانچ جاری ہے وہ کئی دنوں تک اپنا رات کا شو پیش نہیں کریں گے۔

انھوں نے کہا: ’واپسی پر میں اپنے پورے کریئر کے دوران اپنے ناظرین کا اعتماد حاصل کرنے کی اپنی کوشش کو جاری رکھوں گا۔‘

میڈیا کے تجزیہ کاروں نے ولیمز کے فیصلے کو سراہا ہے۔

نیویارک سٹی کی فورڈھم یونیورسٹی میں کمیونیکیشن اینڈ میڈیا سٹڈیز کے پروفیسر پال لیونسن نے کہا ہے کہ ولیمز کا فیصلہ ان کے اور این بی سی نیوز دونوں کے لیے اچھا ہے۔

انھوں نے خبررساں ایجنسی اے کو بتایا: ’انسان ہونے کے طور پر اس سے انھیں سانس لینے کا موقع ملے گا کیونکہ نشریات پر جانا اور اس کے بارے کچھ نہ کہنا بہت مشکل ہوگا۔‘

انھوں نے این بی سی نیوز کے بارے میں کہا کہ وہ ’خبریں فراہم کرنے کے کام میں رہنا چاہتی ہے نہ کہ لوگ اس کے بارے میں یہ سوچیں کیا وہ سچ کہ رہی ہے۔‘

کنکٹیکٹ کے ہیمڈن میں قائم کیونیاپیاک یونیورسٹی کے جرنلزم پروگرام کے ڈائرکٹر رچرڈ ہینلی نے اس فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ولیمز اور نٹ ورک کی جانب سے اچھا قدم ہے۔

واضح رہے کہ این بی سی کے برائن ولیئمز نے دعویٰ کیا تھا کہ 2003 میں ان کے ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد اسے اتارنا پڑا تھا۔ تاہم امریکہ کے اعلی حکام نے اس دعوے کو غلط قرار دیا تھا۔

برائن ولیئمز اس واقعے کو اکثر دہراتے رہتے تھے لیکن اب وہ ’دھندلی یادداشت‘ کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔

انھوں نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا: ’میں نے 12 سال پرانا واقعہ سناتے ہوئے غلطی کی۔ میں اس بارے میں معذرت کرتا ہوں۔ میں نے کہا تھا کہ میں اس جہاز میں سفر کر رہا تھا جس پر راکٹ لانچر سے حملہ کیا گیا۔ درحقیقت میں اس سے پچھلے جہاز میں سوار تھا۔‘

برائن ولیئمز نے اس واقعہ کو پچھلے جمعے کو بھی دہرایا تھا اور اس ریٹائرڈ فوجی کا شکریہ ادا کیا تھا جس نے زمین پر اترنے کے بعد جہاز کے مسافروں اور عملے کی حفاظت کی تھی۔

برائن نے یہ معافی اس وقت مانگی جب ان فوجیوں نے برائن کے فیس بک پیج پر پوسٹیں کرنا شروع کر دیں کہ وہ اس ہیلی کاپٹر پر سوار نہیں تھے جس پر فائرنگ کی گئی تھی۔

ایک فوجی نے لکھا: ’معاف کرنا، لیکن مجھے نہیں یاد پڑتا کہ تم اس ہیلی کاپٹر میں موجود تھے۔‘

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برائن کے کریئر کو اس معافی سے سخت نقصان پہنچے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے: ’کم از کم فوری طور پر غلط خبر کے حوالے سے کسی بھی اینکر کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔‘

اسی بارے میں