نوجوانوں کا انتہا پسندی کی جانب رجحان ’پریشان کن‘ ہے: شہزادہ چارلس

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ’کچھ نوجوان انتہا پسندی کی جانب اس لیے مائل ہوتے ہیں کہ وہ اپنی عمر کی وجہ سے کچھ مختلف کرنا چاہتے ہیں‘

برطانیہ کے شہزادہ چارلس کا کہنا ہے کہ جس حد تک نوجوان انتہا پسندی کی جانب مائل ہو رہے ہیں یہ ایک ’پریشان کن اور نہایت فکر بات ہے۔‘

یہ بات انھوں نے اردن کے چھ روزہ دورے کے دوران بی بی سی ریڈیو 2 کے اتوار کی صبح کے پروگرام میں انٹرویو کے دوران کہی۔

انٹرویو میں شہزادہ چارلس نے مختلف مذاہب کے درمیان ’فاصلے کم‘ کرنے کی امید ظاہر کی۔ انھوں نے مشرق وسطیٰ میں گرجہ گھروں کو درپیش مشکلات پر اپنی ’گہری تشویش‘ کا اظہار بھی کیا۔

شہزادہ چارلس سنیچر کو اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے تھے جہاں وہ شاہ عبداللہ دوئم کے ساتھ مذاکرات بھی کریں گے۔

نوجوانوں کے انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کے بارے میں شہزادہ چارلس کا کہنا تھا: ’میرے خیال میں یہ ایک بہت بڑی پریشانی کی بات ہے اور جتنے نوجوان اس جانب مائل ہو رہے ہیں یہ ایک خطرناک بات ہے۔ خاص طور پر ہمارے جیسے ممالک میں جہاں ہمیں اقدار بہت عزیز ہیں۔‘

برطانیہ میں شدت پسندی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ ’ہم سوچتے ہیں کہ جو لوگ ادھر آئے، پیدا یہاں ہوئے، ادھر ہی سکول میں پڑھے وہ ان اقدار کا احترام کریں گے۔ لیکن سب سے پریشانی کی بات یہ ہے کہ کیسے یہ نوجوان کسی دوسرے شخص سے رابطے یا انٹرنیٹ کے ذریعے انتہاپسندی کی جانب راغب ہو رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر تو عجـیب و غریب مواد کی بھرمار ہو چکی ہے۔‘

شہزادہ چارلس کے بقول کچھ نوجوانوں کے انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ نوجوانی میں ’ کسی بڑی مہم یا پرخطر کام کی تلاش میں‘ انتہا پسند بن جاتے ہیں۔

انٹرویو میں شہزادہ چارلس نے انتہاپسندی کے خلاف کام کرنے والے اپنے خیراتی ادارے ’دی پرنس ٹرسٹ‘ کی سرگرمیوں کے بارے میں سوالات کے جواب بھی دیے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ پچھے کئی برسوں سے میری یہی کوشش رہی ہے کہ نوبالغ اور نوجوان نسل کے لوگوں کی توانائیوں اور جذبے کو کوئی تعمیری سمت دی جائے جہاں وہ اپنی بے چینی اور خطروں سے کھیلنے کی خواہش کو کسی اچھے مقصد کے لیے استعمال کر سکیں۔‘

’آپ کو نوجوانوں کے جذبے کو کوئی تعمیری سمت دینا پڑتی ہے۔‘

مشرق وسطیٰ کے بارے میں بات کرتے ہوئے شہزادہ چارلس نے کہا کہ وہ مشرقی یورپی عیسائیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہیں جن کو مشرق وسطیٰ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

برطانیہ میں چرچ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں پرنس چارلس کا کہنا تھا کہ اگر وہ بادشاہ بنتے ہیں تو شاید انھیں بھی ’(مسیحی) مذہب کے محافظ‘ کے طور پر حلف اٹھانا پڑے۔ یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے سے برطانیہ میں یہ افواہ عام رہی ہے کہ مستقبل میں ملکہ یا بادشاہ کے حلف میں تمام مذاہب کے محافظ کی اصلاح استعمال کی جائے۔

تاہم شہزادہ چارلس کا کہنا تھا کہ بادشاہ کے کردار کا ایک اہم جزو یہ ہے کہ اسے ’عقائد کے محافظ‘ کے طور پر دیکھا جائے، یعنی کثیرالتہذیبی برطانیہ کے تمام عقیدوں کے محافظ کے طور پر۔

انٹرویو میں شہزادہ چارلس نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ کیسے مختلف عقیدوں کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگی میں رہ رسکتے ہیں۔

’میرا خیال ہے کہ ایسی ہم آہنگی کا راز یہ ہے کہ ہم مخلتف لوگوں کے درمیان پُل کیسے بناتے ہیں، ہمیں یہ بات رکھنی چاہیے کے ہمارے خدا نے ہمیں اپنے پڑوسی سے محبت کی تعلیم دی ہے، دوسروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنا کو کہا ہے جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں۔ حوصلہ شکنی اور دھچکوں کے باجود ہمیں یہی کوشش کرنی چاہیے کہ ہم مختلف کمیونیٹز کے درمیان پُل بنانے کی کوشش کریں اور لوگوں کے ساتھ انصاف اور رحمدلی کا اظہار کریں۔‘

اسی بارے میں