تائیوان: ٹرانس ایشیا کی پروازیں منسوخ، پائلٹوں کی دوبارہ تربیت

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption عملے کے ارکان نے انجن دوبارہ چلانے کی بھی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہو سکے

گذشتہ ہفتے کے حادثے کے بعد تائیوان کی فضائی کمپنی ٹرانس ایشیا نے کہا ہے کہ وہ اپنے پائلٹوں کو تربیت دینے کے لیے اپنی 90 پروازیں منسوخ کر رہی ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ بدھ کو ٹرانس ایشیا کی پرواز GE235 کو تائی پے کے ہوائی اڈے سے اڑنے کے بعد دریا میں گر گئی تھی جس کے نتیجے میں اس پر سوار 58 مسافروں میں سے کم از کم 40 ہلاک ہو گئے تھے۔

تائیوانی حکام اس بات کی تفتیش کر رہے ہیں کہ مسافر طیارے کی تباہی کے وقت اس کے دونوں انجن بند کیوں تھے۔

پرواز کا ڈیٹا بتاتا ہے کہ جب طیارے کے ایک انجن نے کام کرنا بند کر دیا تو پائلٹوں نے اسے بند کر دیا تھا۔ یاد رہے کہ پائلٹ بھی حادثے میں ہلاک ہو گئے تھے۔

تائیوان کے شہری ہوابازی کے ادارے نے ٹرانس ایشیا کے ان تمام پائلٹوں کو دوبارہ تربیت دینے کا فیصلہ کیا ہے جو ’اے ٹی آر‘ قسم کے طیارے اڑاتے ہیں۔

فضائی کمپنی کے ترجمان نے بتایا کہ اس کے تمام 71 پائلٹ ایک کورس میں حصہ لیں گے جو کم از کم چار دن کا ہو گا۔

دوسری جانب حکام نے جزیرے کے تمام 22 اے ٹی آر طیاروں کے انجن اور ایندھن کی فراہمی کے نظام کا دوبارہ معائنہ کرنے کا حکم دیا ہے۔

دریائے کیلونگ سے مزید لاشیں ملنے کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔ یہ لاشیں دریا کی تہہ سے ملی تھیں۔

طیارے کے ڈیٹا سے پتا چلا ہے کہ اڑنے کے فوراً بعد اس کا دایاں انجن الارم بجنے کے بعد بند ہو گیا اور مرکزی پائلٹ کو سنا جا سکتا ہے کہ جب وہ کہہ رہے ہیں کہ ’فلیم آؤٹ‘ جو تب ہوتا ہے جب طیارے کے انجن کو ایندھن کی فراہمی میں خلل واقع ہوتا ہے۔ تاہم ڈیٹا کے مطابق جہاز کا انجن بند کر دیا گیا تھا اور کچھ سیکنڈز کے بعد پائلٹ نے بایاں انجن بھی بند کر دیا۔ اس کا مطلب ہے کہ دونوں انجن کام نہیں کر رہے تھے اور انہیں دوبارہ سٹارٹ کرنے کی کوشش کی گئی مگر اس کے 72 سیکنڈز کے بعد طیارہ گر گیا۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ معلوم نہیں ہوا کہ بایاں انجن کیوں بند کیا گیا کیونکہ طیارہ صرف ایک انجن کے ساتھ پرواز کرنے کے قابل ہے۔

حکام نے چیف پائلٹ لیاؤ شین سنگ کی تعریف کی ہے جن کے بارے میں کہا جا رہے کہ کہ انہوں نے جان بوجھ کر طیارے کو ترچھا کیا تاکہ وہ کئی منزلہ فلیٹوں اور تجارتی عمارتوں سے نہ ٹکرائے۔

غوطہ خور اور امدادی کارکن دریا میں مزید تین لاشوں کی تلاش کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ 15 افراد کو زندہ بچا لیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CNA
Image caption لیاؤ چین سنگ کی لاش اس حالت میں ملی کہ ان کا ہاتھ طیارے کا رخ موڑنے والی اسٹک پر تھا۔

اس حادثے کی تحقیقات کرنے والی ٹیم نے جمعے کو ٹرانس ایشیا ایئرلائنز کے طیارے جی ای 235 کے بلیک باکس کا جائزہ لینے کے بعد بتایا کہ اس ٹربو پروپیلر طیارے کے دونوں انجنوں نے اڑان بھرنے کے دو منٹ بعد ہی کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

بلیک باکس کے جائزے سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ عملے نے ایک مرتبہ انجن دوبارہ چلانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

امدادی کارکنوں نے جمعے کو ملبے سے پائلٹ کی لاش بھی برآمد کی۔ ان کا کہنا تھا کہ لیاؤ چین سنگ کی لاش اس حالت میں ملی کہ ان کا ہاتھ طیارے کا رخ موڑنے والی اسٹک پر تھا۔

اس حادثے میں مرنے والوں میں اکثریت چینی باشندوں کی ہے۔ جن کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ تمام سیاح تھے۔

یہ جہاز تائی پے کے ہوائی اڈے سونگشن سے کن من جزیرے کی جانب روانہ ہوا تھا اور ہوائی اڈے سے اڑتے ہی پُل سے ٹکرا کر دریا میں گر گیا تھا۔

یاد رہے کہ ٹرانس ایشیا ایئر لائن کا ایک اور جہاز گذشتہ سال طوفانی موسم میں گر کر تباہ ہو گیا تھا جس میں 48 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں