27 تارکینِ وطن ہائپوتھرمیا کا شکار ہو کر ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption لیبیا سمیت کئی افریقی ممالک کے تارکینِ وطن یورپ میں داخلے کی کوشش میں سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو جاتے ہیں

سمندر کے راستے اٹلی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے کم سے کم 27 تارکینِ وطن شدید سردی کے باعث ہائپوتھرمیا کا شکار ہو کر ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ لوگ 105 افرادکے اس گروہ میں شامل تھے جنھیں اٹلی کی کوسٹ گارڈ نے اس وقت بچایا تھا جب یہ ربڑ کی کشتیوں میں سوار اٹلی کے جزیرے لمپاڈوسا سے 160 کلومیٹر دور تھے۔

ان تارکینِ وطن نے مشکل میں پھنسنے کے بعد سٹیلائٹ فون کے ذریعے مدد مانگی تھی۔

اس وقت سمندر میں لہریں آٹھ میٹر سے بلند تھیں اور درجۂ حرارت نقطۂ انجماد سے کم تھا۔

جزیرے کے طبی افسر پیترو بارتیلو کا کہنا ہے کہ دو کشتیوں پر سوار ان تارکینِ وطن نے خشکی تک پہنچنے سے قبل تقریباً 18 گھنٹے کھلے آسمان تلے گزارے۔

ان کا کہنا تھا ’یہ تمام لوگ بھیگے ہوئے تھے اور تیز ہوائیں چل رہی تھیں۔‘

یہ لمپا ڈسوا میں تارکینِ وطن کے ساتھ پیش آنے والا پہلا حادثہ نہیں ہے۔ اکتوبر 2013 میں اسی طرح سفر کرنے والے 366 تارکینِ وطن جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔

اس واقعے کے بعد اٹلی نے ایک ریسکیو مشن ترتیب دیا تھا تاہم ایک برس بعد اس میں شامل جہاز منقسم ہو گئے تھے۔

اس کے بعد سے لیبیا کے ساحل کی جانب گشت کرنے والا کوئی بھی بحری جہاز اتنی بڑی تعداد میں تارکینِ وطن کی مدد کرنے کے قابل نہیں تھا۔

یورپی یونین بھی سرحدوں پر کنٹول کے لیے ایک آپریشن چلا رہا ہے تاہم اس میں بھی چند بحری جہاز شامل ہیں اور یہ بہت محدود علاقے کا احاطہ کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اسی بارے میں