پولیس کو مبینہ جھوٹی کالیں کرنے پر گرفتاری

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption ’سواٹنگ‘ میں لوگ پولیس کو ایسے جرائم کے متعلق مذاقاً جھوٹی اطلاعیں فراہم کرتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے پولیس کے مسلح ’سواٹ‘ دستے کو بھیجنا پڑتا ہے

امریکہ میں مبینہ طور پر کئی جھوٹی کالیں جنہیں ’سواٹنگ‘ بھی کہا جاتا ہے کرنے والے ایک شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

’سواٹنگ‘ میں لوگ پولیس کو ایسے جرائم کے بارے میں مذاقاً جھوٹی اطلاعات فراہم کرتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے پولیس کے مسلح ’سواٹ‘ دستے کو بھیجنا پڑتا ہے۔

برینڈن ِولسن کو جولائی میں پیش آنے والے ایک واقع میں مبینہ شمولیت پر گرفتار کیا گیا ہے جس میں پولیس کو امریکی ریاست ایلینوئے میں ایک گھر کا محاصرہ کرنا پڑا تھا۔

جرم ثابت ہو جانے پر ولسن کو پانچ سال تک کی قید ہو سکتی ہے۔

ولسن کی گرفتاری اس دن عمل میں آئی جب دوسری جانب مشہور آن لائن گیمر جوشوا پیٹرز کو ایسے وقت میں ’سواٹ‘ کیا گیا جب ان کے شائقین انہیں اپنے ’ٹوئچ ٹی وی‘ کی نشریات کے دوران کھیلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔

’سواٹنگ‘ امریکہ میں ایک سنگین مسئلہ بن گیا ہے جہاں کئی لوگ اور انٹرنیٹ ’ٹرولز‘ اسے بدلہ لینے کی خاطر اور ناپسندیدہ لوگوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

’سائبر کرمنلز‘ یا انٹرنیٹ پر جرائم کرنے والے بھی ایسے لوگوں کو ’سواٹنگ‘ کا نشانہ بناتے ہیں جنہوں نے ان کی شناخت یا مجرمانہ ہتھکنڈوں کو بے نقاب کیا ہو۔

جس واقع کی وجہ سے ولسن کو گرفتار کیا گیا ہے اس میں ایلینوئے کے شہر نیپرویل ایک قتل کے بارے میں جھوٹی کال کی گئی تھی۔

ان کی گرفتاری کے بارے میں ایک امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق برینڈن ِولسن جو کہ لاس ویگس کے رہائشی ہیں، ’سواٹنگ‘ کے کئی اور واقعات میں بھی مشتبہ سمجھے جا رہے ہیں۔

ولسن جو کہ انٹرنیٹ پر گیمنگ ہینڈل ’فیمڈ گاڈ‘ استعمال کرتے ہیں پر ’کمپیوٹر میں بلا اجازت گھسنے جسے ٹیمپرنگ کہتے ہیں، دھمکی آمیز رویہ، فراڈ اور شناخت کی چوری کے الزامات ہیں۔

ریاست ایلینوئے کے اٹارنی جیمز گلاسگو کا کہنا ہے کہ سواٹنگ ایک ’خطرناک مذاق‘ ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ وہ ایسے قوانین تشکیل دے رہے ہیں جو سواٹنگ کو ایلینوئے میں غیر قانونی بنا دیں گے اور اس جرم کا ارتکاب کرنے والوں کو ایمرجنسی رسپونس ٹیموں کے اخراجات ادا کرنے پڑیں گے۔

اسی بارے میں