نسل پرست عناصر کی سوشل میڈیا پر پابندی کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption گزشتہ ہفتے ’کمیونیٹی سیکیوریٹی ٹرسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں یہود مخالفت پر مبنی واقعات کی تعداد دگنی ہو کر 1,168 ہو گئی۔

برطانوی پاریمان کے اراکین نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹوئٹر اور فیس بک جیسی سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر ایسے لوگوں پر پابندی عائد کی جائے جو نسلی بنیادوں پر نفرت پھیلاتے ہیں۔

یہود مخالفت پر جاری آل پارٹیز پارلیمانی ِانکوائری کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے لیے ایسے قوانین کے اطلاق پر بھی غور کیا جائے جن کے ذریعے جنسی تشدد کرنے والوں کی انٹرٹیٹ پر رسائی کو محدود کیا جاتا ہے۔

پارلیمان میں تمام جماعتوں کے اس نمائندہ گروپ نے انٹرنیٹ پر یہود مخالف الفاظ اور جملوں پر بھی روشنی ڈالی۔

گزشتہ ہفتے ’کمیونیٹی سکیورٹی ٹرسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2014 میں یہود مخالفت پر مبنی واقعات کی تعداد دگنی ہو کر 1,168 ہو گئی۔

برطانیہ میں1984 سے یہود مخالفت کو مانیٹر کرنے والے اس ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق یہ تعداد اب تک سب سے زیادہ ہے۔

’نفرت پر مبنی جرائم‘

یہ پارلیمانی انکوائری جولائی اور اگست 2014 میں اسرائیل اور غزہ کی لڑائی کے دوران یہود مخالف واقعات میں اضافے کے بعد قائم کی گئی تھی اور اراکینِ پارلیمان کا کہنا ہے’یہود مخالفت کو پھیلانے میں‘سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس کے استعمال میں ’بہت شدت‘ آ گئی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ’ہٹلر‘ اور ’ہالوکاسٹ‘ جیسے الفاظ یہودیوں سے متعلق استعمال کیے جانے والے جملوں میں سب سے زیادہ تھے۔

ہیشٹیگ ’ہٹلر‘ اور ’جینوسائیڈ‘ یا نسل کشی کا استعمال بھی بہت بڑھ گیا تھا اور ہیشٹیگ ’ہٹلر واز رائیٹ‘ یا ’ہٹلر صحیح تھا‘ جولائی 2014 میں دنیا بھر میں استعمال ہوا۔

رپورٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہودیوں کے علاوہ دیگرمذاہب کے افراد کو بھی یہود مخالفت کی روک تھام کے لیے کوششوں میں بھر پور کردار ادا کرنا چاہیے۔

دیگر مطالبات میں یہودیوں کے مذہبی مقامات کی حفاظت کے لیے فنڈ اور سکولوں میں مشرقِ وسطیٰ میں لڑائی کے بارے میں اساتذہ کے لیے رہنما اصول شامل ہیں۔

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمیرون کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹ ’انتہائی اہم‘ ہے اور یہ کہ یہود مخالفت سے نمٹنا اس ملک میں رہنے والوں کی روایت ہے ۔

کمیونٹی سیکرٹری ایرک پکل کا کہنا ہے کہ :’یہود مخالفت جہاں کہیں بھی ہو ہم اس سے نمٹنے کے لیے پوری طرح مخلص ہیں اور ہم اس کو قطعاً برداشت نہیں کریں گے‘۔

بی بی سی کی نامہ نگار برائے مذہبی امور کیرولائین وایٹ کے مطابق گزشتہ سال برطانیہ میں یہود مخالف واقعات میں اضافے کی صریح وجہ غزہ میں لڑائی تھی اور کچھ افراد نے اسرائیل کے اقدامات کو اپنے نفرت آمیز جملوں کا سبب بھی بتایا۔

برطانیہ میں مقیم یہودی معاشرے میں مکمل طور پر مربوط ہیں تاہم اکثر یہودیوں کا کہنا ہے کہ یہود مخالفت کسی نہ کسی طور چھوٹے پیمانے پر ہمیشہ سے ہی رہی ہے۔ لیکن انٹرنیٹ پر اس نفرت کا تیزی سے بڑھنا ایک نیا پہلو ہے اور اس سے حالات کے سازگار ہونے میں دقت پیش آ سکتی ہے۔

ہماری نامہ نگار کے مطابق کسی ایک اقلیت کے خلاف شدت پسندی اور نفرت آمیز گفتگو ایسا ماحول پیدا کر سکتی ہے جس سے یہ کیفیات دیگر اقلیتوں تک پھیل جائیں۔ اس لیے عین ممکن ہے مسلمان بھی اراکینِ پارلیمان کے اس مطالبے کا خیر مقدم کریں کیونکہ پیرس حملوں کے بعد مسلم مخالف جذبات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ان حالات کے باوجود برطانیہ دنیا میں سب سے زیادہ روادار ممالک میں سے ایک ہے اور اراکینِ پارلیمان چاہتے ہیں کہ یہ ایسا ہی رہے۔

اسی بارے میں