جنوبی کوریا: خفیہ ایجنسی کے سربراہ کو 3 سال کی قید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وون سی ہون جنوبی کوریا کی خفیہ ایجنسی نیشنل انٹیلجنس سروس کے 2013 تک سربراہ رہ چکے ہیں

جنوبی کوریا نے ملک کے خفیہ ادارے کے سابق سربراہ کو 2012 کے صدارتی انتخاب پر اثرانداز ہونے کے جرم میں تین سال کے لیے جیل بھیج دیا ہے۔

وون سی ہون جو نیشنل انٹیلجنس سروس کے 2013 تک سربراہ رہ چکے ہیں اور اُن پر سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ثابت ہوا ہے جس کے بعد وون کو فوری طور پر حراست میں لے لیا گیا۔

ان پر الزام ہے کہ انہوں نے این آئی ایس کے ایجنٹوں کو موجودہ صدر پارک گیون ہین کے مخالفین کو بدنام کرنے کے لیے اُن کے خلاف ایک آن لائن مہم شروع کرنے کا حکم دیا۔

جنوبی کوریا کے قوانین کے تحت این آئی ایس کے ایجنٹوں کو سیاسی طور پر غیر جانبدار رہنا ہوتا ہے۔

وون نے این آئی ایس کے ایجنٹوں کو حکم دیا کہ وہ صدر پارک گیون ہین کے حق میں آن لائن سینکڑوں ٹویٹس کریں اور میسیجز پوسٹ کریں جنہوں نے 2012 کے انتحآبات میں بہت کم ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔

ان پوسٹس میں سے کئی میں مخالفین کا مذاق اڑایا گیا اور انہیں شمالی کوریا کے ’ملازم‘ قرار دیا گیا۔

ستمبر میں ایک ذیلی عدالت نے وون کو اڑھائی سال کی معطل سزا سنائی تھی یہ کہتے ہوئے کہ اُن کے خلاف کافی ثبوت موجود نہیں ہیں کہ انہوں نے براہِ راست انتخاب کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی۔

تاہم پیر کو سیول کی ہائی کورٹ نے ذیلی عدالت کے فیصلے کو رد کرتے ہوئے فیصلہ سنایا کہ جرم اتنا سنگین ہے کہ ملزم کو جیل میں سزا کاٹنی پڑے گی۔

یون ہاپ سرکاری ایجنسی کے مطابق جج کم سینگ ہوان نے کہا کہ ’یہ کہنا مناسب ہو گا کہ وون کے انتخابات میں دخل اندازی کی نیت تھی۔‘

یون ہیپ کے مطابق حراست میں لیے جانے سے قبل وون نے اصرار کیا کہ انہوں نے ’ملک اور اس کے عوام کے تحفظ کے لیے کام کیا۔‘

این آئی ایس کی تاریخ میں بار بار اس پر مقامی سیاست میں دخل اندازی کا الزام لگتا رہا ہے اور یہ کہ ادارہ برسرِ اقتدار صدور کا آلۂ کار بنتا ہے۔

اس ایجنسی کو شمالی کوریا میں جاسوسی کے لیے بنایا گیا تھا جس کے ساتھ جنوبی کوریا حالتِ جنگ میں ہے۔

اسی بارے میں