یوکرین کے باغیوں کا اہم قصبے کے محاصرے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption دیبالتسوا میں گذشتہ ایک ہفتے سے باغیوں اور حکومتی افواج میں شدید لڑائی جاری ہے

یوکرین میں روس نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے اہم قصبے دیبالتسوا کا محاصرہ کر لیا ہے، جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ اس کی افواج رسد فراہم کرنے والی ایک سڑک پر باغیوں کے خلاف لڑ رہی ہیں۔

اس سے پہلے امریکہ کے صدر براک اوباما نے مشرقی یوکرین میں جاری بحران کے سیاسی حل میں ناکامی کی صورت میں یوکرین کو مہلک دفاعی اسلحہ فراہم کرنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔

واشنگٹن میں جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے بات چیت کے بعد ان کا مزید کہنا تھا کہ روس نے تمام وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے۔

جرمن چانسلر میرکل اور امریکی صدر براک اوباما نے مشرقی یوکرین میں جاری بحران کو حل کرنے کے لیے نئے امن معاہدے کے بارے میں بات چیت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یوکرین کے بحران میں اب تک 5,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں

روس یوکرین میں باغیوں کی مدد کے لیے فوجی اور اسلحہ فراہم کرنے کی تردید کرتا ہے۔

یوکرین کے باغیوں نے پیر کو کہا تھا کہ انھوں نے دونیتسک کے قریب واقع قصبے دیبالتسوا کا زمینی رابطہ منقطع کر دیا تھا، تاہم یوکرین کی فوج نے بی بی سی کو بتایا کہ وہاں لڑائی جاری ہے۔

یوکرین کی فوج کے ترجمان نے بی بی سی کو بتایا کہ دیبالتسوا کے قریب ایک سٹرک پر لڑائی جاری ہے۔

خیال ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یوکرین کے ہزاروں فوجی دیبالتسوا اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں موجود ہیں۔

دیبالتسوا میں گذشتہ ایک ہفتے سے باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان شدید لڑائی جاری ہے۔

یوکرین کی حکومت کا کہنا ہے کہ گذشتہ 24 گھنٹوں سے جاری لڑائی میں نو فوجی اہلکار اور کم سے کم سات عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

یوکرین کے بحران میں اب تک 5,300 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اس دوران کم سے کم 15 لاکھ افراد بے گھر ہونے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

جرمن چانسلر نے امریکی صدر سے ملاقات میں انھیں یوکرین کے بحران کے لیے فرانس اور جرمنی کی باہمی کوششوں سے طے پانے والے منسک امن معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا جو موسم سرما کی لڑائی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔

اس موقعے پر امریکی صدر کا کہنا تھا یوکرین کی حکومت کو مہلک دفاعی ہتھیاروں کی فراہمی کا آپشن اب بھی میز پر موجود ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر سفارتکاری ناکام ہو جاتی ہے، تو اس صورت میں، میں نے اپنی ٹیم سے تمام راستوں پر غور کرنے کے لیے کہا ہے۔

تاہم جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے واضح کیا کہ وہ یوکرین کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی کے خلاف ہیں۔

انھوں نے اعتراف کیا کہ یوکرین کے معاملے میں روس کے ساتھ سفارتی کوششوں میں مشکلات ہیں تاہم انھوں نے کہا یہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

یوکرین بحران کے حوالے سے چار ملکی مذاکرات کا اگلا دور بدھ کو بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہو گا جس میں فرانس، جرمنی، روس اور یوکرین شرکت کریں گے۔

اس سے قبل فرانس اور جرمنی کی جانب سے یوکرین بحران کے حل کے لیے دی گئی مشترکہ تجویز کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتن نے کہا تھا کہ اس بحران کا ذمہ دار مغرب ہے۔

صدر پوتن نے مصر کے اخبار کو ایک انٹرویو میں کہا کہ مغربی ممالک نے نیٹو میں توسیع نہ کرنے اور نیٹو ممالک کو مغرب اور روس کے درمیان فیصلہ کرنے پر زور نہ دینے کے وعدے پورے نہیں کیے۔

اسی بارے میں