یوکرین پر امریکی اور یورپی موقف میں دراڑ؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کیا روسی صدر پیوتن کو امید ہے کہ یوکرین کے مسئلے کے حل پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات بہت بڑھ جائیں گے؟

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل کا کہنا ہے کہ یوکرین بحران کا فوجی نہیں بلکہ سفارتی حل ہی ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکی صدر براک اوباما سفارت کاری کے لیے ہامی تو بھرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ’یہ سچ ہے کہ اگر سفارت کاری ناکام رہی تو میں نے اپنی ٹیم سے تمام آپشنز کو مدنظر رکھنے کا کہا ہے۔‘

ہم صدر پوتن کے منصوبوں کو تبدیل کرنے کے لیے کیا کر سکتے ہیں، اور کیا ’مہلک دفاعی ہتھیار‘ ان آپشنز میں سے ایک ہیں جن پر نظرثانی کی جا رہی ہے؟

کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ روسی صدر پوتن کو امید ہے کہ یوکرین کے مسئلے کے حل پر امریکہ اور یورپ کے درمیان اختلافات بہت بڑھ جائیں گے؟

شاید نہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ نے مل کر روس پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ان پابندیوں کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ان پابندیوں سے امریکہ کو کم اور یورپ کو زیادہ نقصان ہو رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سب سے اہم بات یہ ہے کہ یورپ اور امریکہ نے مل کر روس پر پابندیاں عائد کی ہیں اور ان پابندیوں کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ یہ باآسانی کہا جا سکتا ہے کہ ان پابندیوں سے امریکہ کو کم اور یورپ کو زیادہ نقصان ہو رہا ہے

جہاں تک کیئف کی حکومت کو ہتھیار فراہم کرنے کا معاملہ ہے تو جرمن چانسلر میرکل اس کے سخت خلاف ہیں اور ان کا کہنا ہے: ’جہاں تک ہتھیاروں کی فراہمی کا معاملہ ہے تو میں اس بارے میں اپنا موقف دے چکی ہوں۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ جو بھی فیصلہ کیا جائے گا یورپی اور امریکی اتحاد برقرار رہے گا اور مزید مستحکم ہو گا چاہے ہم کچھ معاملات متفق نہ بھی ہوں۔‘

ممکن ہے دونوں میں سے ایک اچھا اور ایک برا ہونے کا کردار ادا کر رہا ہو۔ چانسلر میرکل پوتن کو کہہ رہی ہوں: ’دیکھیں آپ جنگ بندی پر دستخط کریں ورنہ میں امریکی صدر کو جدید اسلحہ یوکرین کو دینے سے نہیں روک سکوں گی۔‘

امریکی صدر ٹیڈی روزولٹ کی 100 سال پرانی خارجہ پالیسی ان کے اس بیان سے ظاہر ہے: ’دھیمے لہجے میں بات کرو لیکن ہاتھ میں لمبی چھڑی ہو۔‘

چانسلر میرکل دھیمے لہجے میں بات کریں گی جبکہ اوباما کے پاس لمبی چھڑی ہو گی۔

اسی بارے میں