شمالی کیرولائنا میں تین مسلمان طلبہ قتل، ایک شخص گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption قتل ہونے والے طلبا کی عمریں عمر 23 ،21 اور 19 سال بتائی جا رہی ہیں

امریکی ریاست شمالی کیرولائنا میں پولیس کا کہنا ہے کہ تین مسلمان طلبہ کی لاشیں ان کے مکان سے ملی ہیں۔

پولیس نے اس قتل کے الزام میں ایک شخص کو حراست میں لیا ہے۔ 46 سالہ کریگ سٹیون ہکس قتلِ ارادی کے جرم میں گرفتار ہیں۔

طلبہ کی لاشیں یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے قریب برآمد ہوئیں اور ان کی عمر 23 ،21 اور 19 سال بتائی جا رہی ہیں۔

پولیس کے مطابق قتل ہونے والوں میں دیا برکت، ان کی اہلیہ یسر محمد ابو صالحہ اور ان کی بہن رزن محمد ابو صالحہ ہیں۔

ان تینوں کو سروں میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اب تک کی تحقیقات کے مطابق ان تینوں کا ایک ہمسائے کے ساتھ پارکنگ کے معاملے پر تازع چل رہا تھا تاہم ابھی اس بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

پولیس نے قتل کے محرکات کی نشاندہی نہیں کی لیکن تینوں طلبہ مسلمان تھے، جس سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ یہ قتل مذہبی یا نسلی بنیادوں پر کیا گیا ہے۔

ان تینوں کی لاشیں کیرولائنا یونیورسٹی کے قریب چیپل ہل کے اپارٹمنٹ میں سے ملی۔

تینوں مسلمان طلبا کے قتل کے بارے مںی سوشل میڈیا پر بحث جاری ہے اور کا #ChapelHillShooting ہیش ٹیگ نہ صرف برطانیہ بلکہ امریکہ، مصر، سعودی عرب اور مصرقِ وسطی کے کئی ممالک میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔ اس ہیش ٹیگ کو تین لاکھ سے زائد مرتبہ استعمال کیا جا چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER
Image caption قتل ہونے والوں میں دیا برکت اور یسر محمد ابو صالحہ میاں بیوی تھے
Image caption چھیتالیس سلہ کریگ سٹیفن پولیس کی حراست میں ہیں

اسی بارے میں