شکست دولتِ اسلامیہ کا مقدر ہے: براک اوباما

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ گذشتہ سال سے عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ اتحادی ممالک کی کارروائیوں کے نتیجے میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ہے اور شکست اس کا مقدر ہے۔

صدر اوباما نے یہ بات کانگریس سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف باضابطہ طور پر فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت طلب کرنے کے بعد کہی ہے۔

کانگریس کو بھیجے جانے والے مسودے کے مطابق امریکی فوج کو دولتِ اسلامیہ کے تعاقب کی تو اجازت ہو گی مگر اس کے خلاف طویل مدتی جنگی کارروائیاں کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

امریکہ گذشتہ سال سے عراق اور شام میں اپنے اتحادیوں کی مدد سے دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی حملے کر رہا ہے۔

یہ سنہ 2002 کے بعد پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی صدر نے کانگریس سے فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت مانگی ہے۔

امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس میں بدھ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد کا مسودہ اس مشن کے مرکزی مقصد یعنی دولتِ اسلامیہ کو کمزور اور تباہ کرنے کو تبدیل نہیں کرتا۔

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا مطلب ایک ’لامتناہی جنگ‘ بھی نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور طویل زمینی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہیے لیکن دولتِ اسلامیہ کو شکست دینے میں کچھ وقت ضرور لگے گا۔

انھوں نے کہا کہ کانگریس کی حمایت ایک اہم پیغام دے گی کہ ہم اس مشن میں ساتھ کھڑے ہیں۔

براک اوباما نے کہا کہ ’کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں۔ یہ ایک مشکل کارروائی ہے لیکن ہمارا اتحاد اس وقت آگے بڑھ رہا ہے اور داعش پسپائی پر مجبور ہے اور وہ ضرور شکست کھائیں گے۔‘

کانگریس کو بھیجے گئے مسودے میں صدر اوباما نے عراق جنگ کے بارے میں قرار داد کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن نئے مسودے میں سنہ 2001 میں منظور کی جانے والی افغان جنگ کی قرار داد کے بارے میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔

امریکی صدر کی جانب سے کانگریس کو بھیجا جانے والا یہ مسودہ تین سالوں تک محدود ہے۔

کانگریس کو بھیجے گئے ایک خط میں صدر اوباما نے کہا ’ اگرچہ موجودہ حالات فضائی حملوں کی اجازت دیتے ہیں مگر میری خواہش ہے کہ کانگریس میں موجود دونوں جماعتیں متفقہ طور پر دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دینے کے لیے قرارداد پاس کریں۔‘

صدر اوباما کا کہنا ہے کہ یہ قرار داد امریکی فوج کو عراق اور افغانستان کی جنگوں کی طرح بڑے پیمانے پر زمینی جنگی کارروائیوں کا اختیار تو نہیں دے گی لیکن یہ خصوصی آپریشن اور ریسکیو آپریشن کرنے کے لیے لچک فراہم کرے گی۔

اسی بارے میں