امن مذاکرات سے قبل یوکرین میں لڑائی میں شدت، 25 افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ برس اپریل سے جاری کشیدگی میں اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں

یوکرین میں قیام امن کے لیے بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں چار ممالک، یوکرین، روس، فرانس اور جرمنی کے مابین مذاکرات شروع ہونے سے قبل یوکرین کی سکیورٹی فورسز اور روس نواز باغیوں میں جاری لڑائی میں شدت آگئی ہے۔

تازہ لڑائی میں 25 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، جن میں یوکرین کے19 فوجی بھی شامل ہیں۔

یوکرین میں گذشتہ برس اپریل سے جاری کشیدگی میں اب تک 5400 افراد مارے جا چکے ہیں۔

یوکرین پر امریکی اور یورپی موقف میں دراڑ؟

ادھر امریکی صدر واضح کر چکے ہیں کہ اگر یوکرین کے بحران کے حل کے لیے سفارتی کوششیں ناکام ہوتی ہیں تو امریکہ یوکرین کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی پر غور کرے گا۔ تاہم روس نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام صورتِ حال کو مزید خراب کر دے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption یوکرین کے صدر پیٹرو پورشینکو کو روس نواز باغیوں کی جانب سے فائر کیے والے ہتھیار دکھائے جا رہے ہیں

یورپی یونین کے اہم ممالک فرانس اور جرمنی یوکرین کے تنازعے کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بیلاروس کے دارالحکومت منسک میں ہونے والے مذاکرات میں روسی صدر ولادی میر پوتن، یوکرین کے صدر پیٹر پوروشینکو، فرانس کے صدر فرانسوا اولاند اور جرمن چانسلر انگیلا میرکل شریک ہوں گے۔ ان مذاکرات میں جانے سے پہلے تمام جماعتوں کا موقف یہ ہے:

یوکرین:

یوکرین چاہتا ہے کہ علیحدہ ہونے والے تمام علاقوں میں اس کی عمل داری کو قبول کیا جائے، باغیوں کو غیر مسلح کیا جائے، یوکرین سے روسی افواج کو واپس بلایا جائے، روس کے ساتھ سرحد پر یوکرین کا کنٹرول بحال کیا جائے، اور تمام قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے۔ البتہ یوکرین دونیتسک اور لوہانسک کو مزید خود مختاری دینے پر تیار ہے۔

روس نواز باغی:

دونیتسک اور لوہانسک کو یوکرین سے علیحدہ کر کے عوامی جمہوریہ تسلیم کیا جائے، علیحدگی پسند فورسز کو غیر مسلح نہ کیا جائے اور تمام علیحدگی پسندوں کے لیے عام معافی کا اعلان کیا جائے۔

روس:

مشرقی یوکرین میں روسی زبان بولنے والے شہریوں کے حقوق کی قانونی حیثیت کو تسلیم کیا جائے۔ وفاقی نظام میں دونیتسک اور لوہانسک کی مکم

ل خود مختاری تسلیم کیا جائے۔ یوکرین سے علیحدہ ہونے والے خطے کرائمیا کو یوکرین میں واپس شامل نہ کیا جائے اور یوکرینی افواج کو جنگ زدہ علاقوں سے مکمل طور پر واپس بلایا جائے۔

یورپی یونین اور امریکہ:

روس یوکرین میں مداخلت بند کر ے، یوکرین کی علاقائی سالمیت کا بحال کیا جائے۔ تمام روسی افواج اور بھاری اسلحے کو یوکرین کی سرزمین سے واپس بلایا جائے۔ دونیتسک اور لوہانسک میں مکمل طور پر جمہوریت کا نفاد کیا جائے اور روس اور یوکرین کی سرحد کی مکمل نگرانی اور متحارب گروپوں کےمابین غیر فوجی علاقے کا قیام امن میں لایا جائے۔

اسی بارے میں