امریکہ، برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی یمن میں سفارت خانہ بند کردیا

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption امریکی وزارت خارجہ نے یمن میں جاری سیاسی بحران اور سکیورٹی خطرات کے پیش نظر صنعا میں اپنے صفارت خانے کے بند کیے جانے اور عملے کے ہٹائے جانے کی تصدیق کی ہے

امریکہ اور برطانیہ کے بعد فرانس نے بھی یمن کے دارالحکومت صنعا میں اپنا سفارت خانہ بند کر دیا ہے۔

امریکی اور برطانوی حکومتوں نے صنعا میں موجود اپنے سفارتی سٹاف کو واپس بلوا لیا ہے اور اپنے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ یمن سے نکل جائیں۔

فرانس نے اعلان کیا کہ جمعے کو اس کا سفارت خانہ بند ہو گا۔

یہ قدم یمن میں جاری بحران اور شیعہ حوثی باغیوں کے دارالحکومت پر قبضے کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

یمن میں شیعہ باغیوں نے گذشتہ جمعے کو ملک کی پارلیمان تحلیل کرنے کے بعد ایک عبوری کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے کہا تھا کہ اگر شیعہ حوثی قبائل نے فوری طور پر مذاکرات کے بعد یمن میں جمہوریت بحال نہ کی تواُن کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

برطانوی حکام کا کہنا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعا میں قائم برطانوی سفارت خانہ بدھ کو بند کر دیا گیا اور سفارت خانے کے عملے کو وہاں سے ہٹا لیا گیا ہے۔

اس سے قبل منگل امریکی وزارت خارجہ نے یمن میں جاری سیاسی بحران اور سکیورٹی خطرات کے پیش نظر صنعا میں اپنے سفارت خانے کے بند کیے جانے اور عملے کے ہٹائے جانے کی تصدیق کی تھی۔

مشرق وسطیٰ کے لیے برطانوی وزیر ٹوبائس ایلوڈ نے ایک بیان میں اب تک یمن میں موجود برطانوی شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ ’جلد از جلد ملک چھوڑ دیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یمن میں شیعہ باغیوں نے جمعے کو ملک کی پارلیمان تحلیل کرنے کے بعد ایک عبوری کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا

ایلوڈ نے کہا: ’حالیہ دنوں میں یمن میں سکیورٹی کے حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور ہمیں اندیشہ ہے ہمارے عملے اور سفارت خانے کو زیادہ خطرہ لاحق ہے۔‘

امریکی حکام نے کہا ہے کہ سفارت خانے کے بند ہونے سے یمن میں القاعدہ کے خلاف دہشت گرد مخالف آپریشن متاثر نہیں ہو گا۔

امریکہ یمن کی القاعدہ کو دنیا کی خطرناک ترین مسلح جنگجو تنظیموں میں سے ایک سمجھتا ہے۔

دوسری جانب شیعہ باغیوں کے رہنما عبدالمالک الحوثی نے منگل کو اپنے دشمنوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان کے سخت گیر موقف میں حائل نہ ہوں اور انھوں نے دوسرے ممالک کی حکومتوں کے اپنے سفیروں کو واپس بلانے کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔

Image caption حوثی باغیوں نے یہ اعلان اس وقت کیا جب اقوام متحدہ کی جانب سے امن مذاکرات کی کوشش ناکام ہو گئی

انھوں نے کہا: ’ہمیں کسی قسم کا دباؤ منظور نہیں۔ یہ کسی کام کا نہیں۔۔۔ جو کوئی بھی اس ملک کے مفاد کو نقصان پہنچائے گا تو وہ بھی اس ملک میں نقصان اٹھائے گا۔‘

اس سے قبل اقوامِ متحدہ نے یمن کے صدر، وزیراعظم اور کابینہ کے اراکین کی نظر بندی ختم کر کے مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا تھا۔

ادھر خلیجی عرب ممالک نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ یمن کے سیاسی بحران پر سخت ردعمل ظاہر کریں۔

یمن میں شیعہ باغیوں نے گذشتہ جمعے کو ملک کی پارلیمان تحلیل کرنے کے بعد ایک عبوری کونسل تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔

حوثی باغیوں نے یہ اعلان اس وقت کیا جب اقوام متحدہ کی جانب سے امن مذاکرات کی کوشش ناکام ہو گئی۔

خیال رہے کہ شیعہ باغیوں نے صنعا پر گذشتہ برس ستمبر میں قبضہ کیا تھا جس کے نتیجے میں جنوری میں صدر اور وزیراعظم نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حوثی باغیوں پر ایرانی حمایت کا الزام لگایا جاتا ہے جس کی دونوں تردید کرتے ہیں

دوسری جانب بحرین، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرا نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری سے ملاقات میں کہا کہ انھیں یمن ہونے والے واقعات پر تشویش ہے۔

بی بی سی کے سیبیسنیئن اشر کا کہنا ہے کہ بہت سے یمنی اس اعلان کو حوثیوں کی جانب سے تختہ الٹنے کا حتمی مرحلہ تصور کرتے ہیں جبکہ بعض کا خیال ہے کہ اس سے استحکام کی امیدوں میں اضافہ ہو گا۔

امریکہ اور اقوام متحدہ دونوں نے حوثیوں کے حکومت پر قابض ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ’حوثیوں کا اعلان یمن کے سیاسی بحران کا اتفاق رائے سے کیا جانے والا معیاری حل نہیں۔‘

اسی بارے میں