مصر: الجزیرہ کے صحافیوں کی ضمانت منظور

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان صحافیوں کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم جاری کیا تھا

ایک مصری عدالت نے الجزیرہ چینل کے دو صحافیوں کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ ان صحافیوں پر جھوٹی خبریں پھیلانے اور کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کے الزامات عائد کیے گئے تھے۔

مصر میں گذشتہ سال جون میں الجزیرہ چینل کے دو صحافیوں محمد فہمی اور باہر محمد کو سات اور دس سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

مصر کی اپیل کورٹ نے گذشتہ ماہ ان صحافیوں کے خلاف مقدمے کی دوبارہ سماعت شروع کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اپیل کورٹ کا کہنا تھا کہ محمد فہمی اور باہر محمد کے خلاف ابتدائی فیصلہ شواہد کی روشنی میں ثابت نہیں ہوتا۔

مصر کی کورٹ آف کیسیشن کے نائب سربراہ جج انور گیبرے نے پیر کو کہا کہ استغاثہ ان صحافیوں کے خلاف کالعدم تنظیم اخوان المسلمین کی مدد کرنے کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔

جج کے مطابق یہ مقدمہ اس دعوے کی تفتیش کرنے میں بھی ناکام رہا ہے کہ ملزموں نے جبر کے تحت بیان دیا تھا۔

قاہرہ میں موجود بی بی سی کی نامہ نگار اورلا گیورن کا کہنا ہے صحافیوں کے خاندانوں کو اس بات کی تشویش ہے کہ مقدمے کی سماعت منصفانہ نہیں ہو گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption الجزیرہ چینل سے تعلق رکھنے والے تیسرے صحافی پیٹر گریسٹا کو گذشتہ ہفتے رہا کر دیا تھا

محمد فہمی کے رشتے داروں نے اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کو ایک بھیانک خواب سے تعمیر کیا ہے۔

دوسری جانب کینیڈا کے حکام نے محمد فہمی کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنے شہری کی پیٹر گریسٹا کے ہمراہ فوری رہائی کی یقین دہانی کروائی گئی تھی۔

محمد فہمی کی منگیتر ماروا اومارا نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا کہ ہمیں کینیڈا کی حکومت اور مصری حکام نے یقین دہائی کروائی کہ محمد فہمی کو گذشتہ منگل کو رہا کر دیا جائے گا۔

الجزیرہ چینل سے تعلق رکھنے والے تیسرے صحافی پیٹر گریسٹا کو گذشتہ ہفتے رہا کر دیا تھا۔

خیال رہے کہ گذشتہ نومبر میں مصر کے صدر عبد الفتاح السیسی کی جانب سے جاری کردہ ایک فرمان کے تحت غیرملکی قیدیوں کو ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

کینیڈا اور مصر کی دوہری شہریب رکھنے والے محمد فہمی نے رہائی پانے کے لیے اپنی مصری شہریت ترک کر دی تھی۔ ان کے بھائی کا کہنا تھا کہ فہمی سے آزادی یا شہریت میں سے ایک چیز کے انتخاب کے لیے کہا گیا تھا جس میں سے انھوں نے آزادی کا انتخاب کیا۔

باہر محمد کے پاس مصر کے علاوہ کسی اور ملک کی شہریت نہیں ہے۔

خیال رہے کہ مصری فوج کی جانب سے سنہ 2013 میں سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ان صحافیوں پر اخوان کی مدد کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

الجزیرہ چینل کے تینوں صحافیوں نے اس بات سے انکار کیا تھا کہ وہ مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا تختہ الٹنے کے بعد ممنوع تنظیم اخوان المسلمین سے کی مدد کر رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ صرف خبریں دے رہے تھے۔

اسی بارے میں