چیپل ہل: قتل کی وجہ نفرت تھی یا جھگڑا، تاحال تعین نہ ہو سکا

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption مقتول خواتین کے والد محمد ابوصالحہ نے اسے نفرت پر مبنی قتل کی واردات قرار دیا ہے

امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا میں پولیس نے تین مسلمان شہریوں کے قتل کی وجہ کے تعین کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی کی مدد طلب کی ہے۔

23 سالہ ضیا برکت کو ان کی اہلیہ 21 سالہ یسر محمد اور خواہرِ نسبتی 19 سالہ رزان محمد کے ہمراہ چیپل ہل میں واقع ان کی رہائش گاہ پر منگل کو قتل کیا گیا تھا۔

ان تینوں افراد کے سر میں گولیاں ماری گئی تھیں۔

پولیس نے اس قتل کے الزام میں 46 سالہ کریگ سٹیون ہکس کو گرفتار کیا ہے جسے بدھ کو عدالت میں پیش کیا گیا اور اس پر قتلِ عمد کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

مقتول خواتین کے والد محمد ابوصالحہ نے اسے نفرت پر مبنی قتل کی واردات قرار دیا ہے تاہم ملزم کی اہلیہ کیرن ہکس نے کہا ہے کہ اس واقعے کی وجہ نفرت نہیں بلکہ گاڑی کھڑی کرنے کے مقام پر ہونے والا جھگڑا بنی۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق محمد ابو صالحہ نے کہا ہے کہ انھیں یقین ہے کہ ان کی بیٹیوں اور داماد کو مذہبی منافرت کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میڈیا نے امریکی شہریوں پر بار بار اسلامی دہشت گردی کے لفظ کی یلغار کر کے انھیں ہم سے خوفزدہ کر دیا ہے، وہ ہم سے نفرت کرتے ہیں اور ہمیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر آپ کا کسی سے کوئی تنازع ہے اور وہ آپ سے پہلے ہی نفرت کرتا ہے تو آپ کے سر میں گولی مار دی جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دو ہزار افراد نے چیپل ہل کے مقتولین کی یاد میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق چیپل ہل پولیس کے سربراہ کرس بلیو کا کہنا ہے کہ ’ہم سجھتے ہیں کہ اس بارے میں خدشات پائے جا رہے ہیں کہ یہ قتل نفرت کی بنیاد پر ہوا اور ہم اس کے تعین کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔‘

اس سے قبل پولیس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مقتولین کا اپنے ایک ہمسائے کے ساتھ پارکنگ کے معاملے پر تنازع چل رہا تھا تاہم ابھی قتل کے محرکات کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

مقامی پولیس نے اس سلسلے میں ایف بی آئی سے بھی مدد مانگی ہے اور شمالی کیرولائنا کے مڈل ڈسٹرکٹ کے اٹارنی رپلے رینڈ کا کہنا ہے کہ ان کا دفتر بھی ’تحقیقات پر نظر رکھے ہوئے ہے۔‘

ملزم کریگ ہکس کی اہلیہ کیرن کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے انھیں دھچکہ لگا ہے لیکن اس قتل کا کسی مذہب یا مقتولین کے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے شوہر کے اپنے کئی ہمسایوں سے پارکنگ کے معاملے پر تنازعے تھے جن کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے۔

کیرن نے بدھ کو صحافیوں سے بات چیت کے دوران کہا کہ ان کے شوہر سب کو برابر مانتے ہیں اور انھیں اس سے فرق نہیں پڑتا کہ کوئی کیسا دکھائی دیتا ہے، کیا ہے اور اس کا عقیدہ کیا ہے۔

تاہم ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بدھ کی شام کیرن نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے وہ کریک سے طلاق لے رہی ہیں۔

تینوں مسلمان طلبہ کے قتل کے بارے میں سوشل میڈیا پر بحث مسلسل جاری ہے اور #ChapelHillShooting کا ہیش ٹیگ نہ صرف برطانیہ بلکہ امریکہ، پاکستان، مصر، سعودی عرب اور مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں ٹرینڈ کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Sysomos
Image caption تینوں مسلمان طلبہ کے قتل کے بارے میں سوشل میڈیا پر بحث مسلسل جاری ہے

اسی بارے میں